حدیث نمبر: 10029
عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : أَصَبْتُ يَوْمَ بَدْرٍ سَيْفَ بَنِي عَابِدِ بْنِ الْمَرْزُبَانِ فَلَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَرُدُّوا مَا فِي أَيْدِيهِمْ ، أَقْبَلْتُ بِهِ حَتَّى أَلْقَيْتُهُ فِي النَّفْلِ . ¤ قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَمْنَعُ شَيْئًا يَسْأَلُهُ . قَالَ : فَعَرَفَهُ الْأَرْقَمُ بْنُ أَبِي الْأَرْقَمِ الْمَخْزُومِيُّ فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے موقع پر ، مجھے بنو عابد بن مرزبان کی تلوار ملی ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا کہ لوگ اپنے پاس موجود چیزیں لوٹا دیں ( یعنی مال غنیمت میں جمع کروا دیں ) تو میں آیا اور میں نے اس تلوار کو مال غنیمت میں شامل کر دیا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو چیز مانگی جاتی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی ” نہ “ نہیں کرتے تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا ارقم بن ابوارقم مخزومی رضی اللہ عنہ نے اس تلوار کو پہچان لیا ، انہوں نے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگ لی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ انہیں دیدی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10029
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (497/3)»
حدیث نمبر: 10030
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ أَيْضًا مَالِكُ بْنُ رَبِيعَةَ قَالَ : أَصَبْتُ سَيْفَ بَنِي عَابِدٍ الْمَخْزُومِيِّينَ الْمَرْزُبَانِ يَوْمَ بَدْرٍ . رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : سیدنا مالک بن ربیعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے موقع پر مجھے ” بنو عابد مخزومیوں مرزبان “ کی تلوار ملی ۔ یہ تمام روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں اور ان کی سند میں ایسا راوی ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10030
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (497/3)»
حدیث نمبر: 10031
وَعَنِ الْأَرْقَمِ بْنِ أَبِي الْأَرْقَمِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ بَدْرٍ : " رُدُّوا مَا كَانَ مَعَكُمْ مِنَ الْأَنْفَالِ " . فَرَفَعَ أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ سَيْفَ بَنِي الْعَابِدِ الْمَرْزُبَانِ فَعَرَفَهُ الْأَرْقَمُ ، فَقَالَ : هَبْهُ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ارقم بن ابوارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگوں کے پاس مال غنیمت میں سے جو کچھ ہے ، اُسے واپس کر دو ( یعنی مال غنیمت میں جمع کروا دو ) سیدنا ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ نے بنو عابد بن مرزبان کی تلوار اٹھائی ، تو سیدنا ارقم رضی اللہ عنہ نے اُسے پہچان لیا انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ مجھے ہبہ کے طور پر دیدیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ انہیں عطا کر دی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10031
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (909)»
حدیث نمبر: 10032
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشَهِدْتُ مَعَهُ بَدْرًا ، فَالْتَقَى النَّاسُ فَهَزَمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْعَدُوَّ ، فَانْطَلَقَتْ طَائِفَةٌ فِي آثَارِهِمْ يَهْزِمُونَ وَيَقْتُلُونَ ، وَأَكَبَّتْ طَائِفَةٌ عَلَى الْعَسْكَرِ يَحُوزُونَهُ وَيَجْمَعُونَهُ ، وَأَحْدَقَتْ طَائِفَةٌ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يُصِيبُ الْعَدُوُّ مِنْهُ غُرَّةً ، حَتَّى إِذَا كَانَ اللَّيْلُ وَفَاءَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ ، قَالَ الَّذِينَ جَمَعُوا الْغَنَائِمَ : نَحْنُ حَوَيْنَاهَا وَجَمَعْنَاهَا ; فَلَيْسَ لِأَحَدٍ فِيهَا نَصِيبٌ . ¤ وَقَالَ الَّذِينَ خَرَجُوا فِي طَلَبِ الْعَدُوِّ : لَسْتُمْ بِأَحَقَّ بِهَا مِنَّا ; نَحْنُ نَفَيْنَا عَنْهَا الْعَدُوَّ وَهَزَمْنَاهُمْ . ¤ وَقَالَ الَّذِينَ أَحْدَقُوا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : لَسْتُمْ بِأَحَقَّ بِهَا مِنَّا ; نَحْنُ أَحْدَقْنَا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَخِفْنَا أَنْ يُصِيبَ الْعَدُوُّ مِنْهُ غِرَّةً ، وَاشْتُغِلْنَا بِهِ . ¤ فَنَزَلَتْ : يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ فَقَسَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى فَوَاقٍ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ . ¤ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَغَارَ فِي أَرْضِ الْعَدُوِّ نَفَلَ الرُّبْعَ ، وَإِذَا أَقْبَلَ رَاجِعًا وَكُلُّ النَّاسِ نَفَلَ الثُّلُثَ ، وَكَانَ يَكْرَهُ الْأَنْفَالَ وَيَقُولُ : " لِيَرُدَّ قَوِيُّ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى ضَعِيفِهِمْ " . قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ ، وَغَيْرُهُ : كَانَ يَنْفُلُ فِي الْبَدَاءَةِ الرُّبْعَ ، وَفِي الْقُفُولِ الثُّلُثَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا ، میں آپ کے ساتھ غزوہ بدر میں شریک ہوا ، لوگوں کا آمنا سامنا ہوا ، تو اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کو پسپا کر دیا ، کچھ لوگ ان کے پیچھے چلے گئے ، وہ انہیں بھگا رہے تھے اور قتل کر رہے تھے ، کچھ لوگ ان کے ساز و سامان کی طرف گئے ، اور اُسے اکٹھا کرنے لگے اور جمع کرنے لگے ، کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے ، تاکہ دشمن آپ پر حملہ نہ کر دے ، جب رات کا وقت ہوا اور سب لوگ دوبارہ ملے ، تو جن لوگوں نے مال غنیمت جمع کیا تھا ، تو انہوں نے یہ کہا: ہم نے اسے اکٹھا کیا ہے اور جمع کیا ہے ، اس میں کسی اور کا حصہ نہیں ہو گا ، جو لوگ دشمن کے پیچھے گئے تھے ۔ انہوں نے کہا: تم اس کے بارے میں ہم سے زیادہ حق نہیں رکھتے ، کیونکہ ہم نے اس ساز و سامان سے دشمن کو پرے کیا ہے اور انہیں پسپا کیا ہے ، جو لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کر رہے تھے انہوں نے یہ کہا: اس کے بارے میں تم ، ہم سے زیادہ حق نہیں رکھتے ، ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دھیان رکھ رہے تھے ، ہمیں یہ اندیشہ تھا کہ کہیں دشمن آپ کو نقصان نہ پہنچا دے ، تو ہم اس طرف مصروف رہے ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ” لوگ تم سے انفال کے بارے میں دریافت کرتے ہیں ، تم یہ فرما دو : انفال ، اللہ اور رسول کے لئے ہے ، تم لوگ اللہ سے ڈرو اور آپس میں اصلاح کرو “ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مال ، مسلمانوں کے درمیان تقسیم کر دیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب دشمن کی سرزمین پر حملہ آور ہوتے تھے ، تو انفال میں سے ایک چوتھائی حصہ ( اضافی ادائیگی ، یا انعام ) کے طور پر دیتے تھے اور جب آپ وہاں سے واپس تشریف لے جاتے تھے ، تو آپ ایک تہائی حصہ اضافی ادائیگی کے طور پر دیتے تھے آپ انفال ( رکھنے ) کو ناپسند کرتے تھے اور یہ فرماتے تھے : ” مومنوں میں سے طاقتور لوگ ، کمزور لوگوں کو لوٹا دیں “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی اور دیگر حضرات نے یہ بات نقل کی ہے : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آغاز میں ایک چوتھائی حصہ انعام کے طور پر دیتے تھے اور واپسی کے وقت ایک تہائی حصہ دیتے تھے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10032
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (324/5)»