کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: زمین یا پانیوں کو جاگیر کے طور پر دینا
حدیث نمبر: 9797
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : لَمَّا خَرَجَ الْمَجُوسِيُّ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَأَلْتُهُ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيَّرَهُ بَيْنَ الْجِزْيَةِ وَالْقَتْلِ ، فَاخْتَارَ الْجِزْيَةَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى لَمْ يُدْرِكْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب مجوسی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نکلا تو میں نے اس سے دریافت کیا : تو اس نے مجھے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ اختیار دیا ہے کہ یا تو وہ جزیہ دیدیں یا وہ قتل ہو جائے تو اس نے جزیہ کو اختیار کیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے سلیمان بن موسیٰ نامی راوی نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9797
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (1172)»
حدیث نمبر: 9798
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : كَانَ الْمَجُوسُ لَهُمْ كِتَابٌ يَقْرَؤُونَهُ ، وَعِلْمٌ يَدْرُسُونَهُ ، فَزَنَى إِمَامُهُمْ ، فَأَرَادُوا أَنْ يُقِيمُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ ، فَقَالَ لَهُمْ : أَلَيْسَ آدَمُ كَانَ يُزَوِّجُ بَنِيهِ مِنْ بَنَاتِهِ ؟ فَلَمْ يُقِيمُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ ، فَرُفِعَ الْكِتَابُ ، وَقَدْ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْجِزْيَةَ ، وَأَبُو بَكْرٍ ، وَأَنَا . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ أَبُو سَعْدٍ الْبَقَّالُ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مجوسیوں کی ایک ( الہامی ) کتاب تھی جسے وہ پڑھا کرتے تھے اور علم تھا ، جس کا وہ درس دیا کرتے تھے ایک مرتبہ ان کے حکمران نے زنا کیا ان لوگوں نے اس پر حد جاری کرنے کا ارادہ کیا تو اس نے ان لوگوں سے کہا: کیا سیدنا آدم نے اپنے بیٹوں کی شادیاں اپنی بیٹیوں کے ساتھ نہیں کی تھیں ، تو ان لوگوں نے اس پر حد جاری نہیں کی پھر کتاب کا علم اٹھا لیا گیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مجوسیوں سے ) جزیہ وصول کیا تھا ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی کیا تھا ، اور میں بھی ( جزیہ وصول کرتا ہوں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوسعد بقال ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9798
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (301)»
حدیث نمبر: 9799
وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخَذَ الْجِزْيَةَ مِنْ مَجُوسِ هَجَرَ ، وَأَنَّ عُمَرَ أَخَذَهَا مِنْ مَجُوسِ فَارِسَ ، وَأَخَذَهَا عُثْمَانُ مِنْ بَرْبَرَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْحُسَيْنِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي كَبْشَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر کے مجوسیوں سے جزیہ وصول کیا تھا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فارس کے مجوسیوں سے اسے وصول کیا تھا ، اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بربروں سے اسے وصول کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف حسین بن سلمہ بن ابوکبشہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9799
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6660)»
حدیث نمبر: 9800
وَعَنِ مُسْلِمِ بْنِ الْعَلَاءِ الْحَضَرْمِيِّ قَالَ : شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيمَا عَهَدَ إِلَى الْعَلَاءِ حِينَ وَجَّهَهُ إِلَى الْبَحْرَيْنِ قَالَ : " وَلَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ جَهِلَ الْفَرْضَ وَالسُّنَنَ ، وَيَحِلُّ لَهُ مَا سِوَى ذَلِكَ " . وَكَتَبَ لِلْعَلَاءِ : " أَنْ سُنُّوا بِالْمَجُوسِ سُنَّةَ أَهْلِ الْكِتَابِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مسلم بن علاء حضرمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا ۔ جب آپ نے سیدنا علاء رضی اللہ عنہ کو بحرین بھیجتے وقت تلقین کی تھی آپ نے فرمایا تھا : فرائض اور سنن سے نا واقف ہونا کسی شخص کے لئے یہ حلال نہیں ہے اس کے علاوہ جو ہے وہ اس کے لئے حلال ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علاء رضی اللہ عنہ کے لئے یہ تحریر لکھوائی تھی کہ مجوسیوں کے ساتھ اہل کتاب کا سا سلوک کرنا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9800
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (437/19)»
حدیث نمبر: 9801
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَسْلَمَ فَلَا جِزْيَةَ عَلَيْهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص اسلام قبول کر لے اس پر جزیہ عائد نہیں ہو گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9801
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف