کتب حدیث › مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب › باب: لڑائی کے وقت صبر کرنا
❮
❯
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خَيْرُ الْأَصْحَابِ أَرْبَعَةٌ ، وَخَيْرُ السَّرَايَا أَرْبَعُمِائَةٍ ، وَخَيْرُ الْجُيُوشِ أَرْبَعَةُ آلَافٍ ، وَمَا هُزِمَ قَوْمٌ بَلَغُوا اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا مِنْ قِلَّةٍ إِذَا صَدَقُوا وَصَبَرُوا " .
رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ خَلَا قَوْلَهُ : " إِذَا صَدَقُوا وَصَبَرُوا " .
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” چار ساتھی سب سے بہتر ہوتے ہیں چار سو افراد کی جنگی مہم سب سے بہتر ہوتی ہے چار ہزار افراد کا لشکر سب سے بہتر ہوتا ہے اور جس قوم کی تعداد بارہ ہزار ہو وہ کم تعداد کی وجہ سے پسپا نہیں ہوتے جبکہ وہ سچ بولیں اور صبر سے کام لیں “ ۔
یہ روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : ” جبکہ وہ سچ بولیں اور صبر سے کام لیں“ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حبان بن علی ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9675
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «أخرجه سنن الترمذي برقم: 1555، وأخرجه سنن أبي داود برقم: 2611، وأخرجه مسند أحمد برقم: 2713، وأخرجه سنن الدارمي برقم: 2438، وأخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 2535، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 4381»
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ خَالِدِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ لَقِيَ الْعَدُوَّ فَصَبَرَ حَتَّى يُقْتَلَ أَوْ يَغْلِبَ لَمْ يُفْتَنْ فِي قَبْرِهِ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُصَفَّى بْنُ بُهْلُولٍ وَالِدِ مُحَمَّدٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب خالد بن زید رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص دشمن کا سامنا کرے اور صبر سے کام لے ، یہاں تک کہ وہ قتل ہو جائے یا غالب آ جائے تو اس شخص کو قبر کی آزمائش میں مبتلاء نہیں کیا جائے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مصفی بن بہلول ہے ، جو محمد نامی راوی کا والد ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9676
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4094) ، أخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 4094»