❮
❯
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحِبُّ أَنْ يَنْهَضَ إِلَى عَدُوِّهِ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ .
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ وَهِيَ ضَعِيفَةٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن ابواوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو پسند کرتے تھے کہ سورج ڈھلنے کے وقت دشمن پر حملہ آور ہو جائیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے اسماعیل بن عیاش کے حوالے سے موسیٰ بن عقبہ سے نقل کی ہے اور
یہ روایت ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9665
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (256/4) ، أخرجه مسند أحمد برقم: 18660»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا لَمْ يَلْقَ الْعَدُوَّ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ أَخَّرَ حَتَّى تَهُبَّ الرِّيحُ وَيَكُونَ عِنْدَ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ ، وَكَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ بِكَ أَصُولُ وَبِكَ أَجُولُ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ الْمُكْتِبُ، وَثَّقَهُ أَبُو نُعَيْمٍ وَأَبُو حَاتِمٍ ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب دن کے ابتدائی حصے میں دشمن کا مقابلہ نہیں کرتے تھے ، تو جنگ کو مؤخر کر دیتے تھے ، یہاں تک کہ ہوائیں چلنے لگتی تھیں اور نمازوں کا وقت ہو جاتا تھا آپ یہ کہا: کرتے تھے ” اے اللہ ! میں تیری مدد کے ساتھ حملہ کرتا ہوں ، اور تیری مدد کے ساتھ مقابلہ کرتا ہوں ، اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا جو بلند و برتر اور عظمت والا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن سعد مکتب ہے جسے ابونعیم اور ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9666
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1007) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (11980) ، أخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 11980، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 1007»
وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ السُّلَمِيِّ قَالَ : كُنَّا نَشْهَدُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْقِتَالَ فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ قَالَ لَنَا : " احْمِلُوا " . حَمَلْنَا .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَامِعٍ الْعَطَّارُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عتبہ بن غزوان سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ میں شریک ہوتے تھے جب سورج ڈھل جاتا تھا ، تو آپ ہم سے فرماتے تھے : حملہ کرو تو ہم حملہ کر دیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جامع عطار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9667
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير “ (709) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (116/17)»