کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: جزیرہ نما عرب کا بیان اور کفار کو وہاں سے نکالنا
حدیث نمبر: 9660
عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ قَالَ : كَانَ آخِرَ مَا تَكَلَّمَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَخْرِجُوا يَهُودَ أَهْلِ الْحِجَازِ وَأَهْلِ نَجْرَانَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ ، وَاعْلَمُوا أَنَّ شِرَارَ النَّاسِ الَّذِينَ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ طَرِيقَيْنِ مِنْهَا ثِقَاتٌ مُتَّصِلٌ إِسْنَادُهُمَا ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو آخری کلام ارشاد فرمایا تھا وہ یہ تھا : ” حجاز کے یہودیوں اور اہل نجران کو جزیرہ نما عرب سے نکال دینا تم لوگ یہ بات جان لو کہ لوگوں میں بدترین لوگ وہ ہیں ، جو اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیتے ہیں“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان کے دو طریقوں میں سے ایک کی سند کے رجال ثقہ ہیں اور اس کی سند متصل ہے
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان کے دو طریقوں میں سے ایک کی سند کے رجال ثقہ ہیں اور اس کی سند متصل ہے
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 9661
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ " : كَانَ آخِرُ مَا عَهِدَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ قَالَ : " لَا يَنْزِلُ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ دِينَانِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ ابْنِ إِسْحَاقَ وَقَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ عَلِيٍّ فِي الْخِلَافَةِ رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو آخری تلقین کی تھی وہ یہ تھی کہ آپ نے ارشاد فرمایا : ” جزیرہ نما عرب میں دو دین باقی نہیں رہیں گے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے اور اس نے بھی سماع کی صراحت کی ہے ۔ خلافت کے بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث پہلے گزر چکی ہے جسے امام أحمد نے روایت کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے اور اس نے بھی سماع کی صراحت کی ہے ۔ خلافت کے بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث پہلے گزر چکی ہے جسے امام أحمد نے روایت کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 9662
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ أَنْ لَا نَدَعَ فِي الْمَدِينَةِ دِينًا غَيْرَ الْإِسْلَامِ إِلَّا أُخْرِجَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ شَرِيكٌ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ وَفِيهِمَا ضَعْفٌ ، وَحَدِيثُهُمَا حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا کہ مدینہ میں اسلام کے علاوہ کوئی اور دین ہم باقی نہ رہنے دیں ( اگر کسی اور دین کا پیروکار کوئی شخص موجود ہو ) تو اسے نکال دیا جائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شریک اور ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے اور ان دونوں میں ضعف پایا جاتا ہے ان دونوں کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شریک اور ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے اور ان دونوں میں ضعف پایا جاتا ہے ان دونوں کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9663
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَخْرِجُوا الْيَهُودَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقَيْنِ رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہودیوں کو جزیرہ نما عرب سے نکال دو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو طریقوں سے نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو طریقوں سے نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 9664
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " سَتَفْتَحُونَ مَنَابِتَ الشِّيحِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم لوگ عنقریب ” شیخ “ ( نامی گھاس ) کے اُگنے کی جگہ کو فتح کر لو گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔