کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: چھوٹے جھنڈوں اور بڑے جھنڈوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 9638
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَعَنْ بُرَيْدَةَ أَنَّ رَايَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَتْ سَوْدَاءَ وَلِوَاءَهُ أَبْيَضَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ حَيَّانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ الذَّهَبِيُّ : بَيَّضَ لَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ فَهُوَ مَجْهُولٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چھوٹا جھنڈا سیاہ رنگ کا اور بڑا جھنڈا سفید رنگ کا ہوا تھا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حیان بن عبیداللہ ہے ۔ امام ذہبی کہتے ہیں : امام ابن ابوحاتم نے اس کے حالات بیان کیے ہیں ویسے یہ مجہول ہے ۔ امام ابویعلیٰ کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حیان بن عبیداللہ ہے ۔ امام ذہبی کہتے ہیں : امام ابن ابوحاتم نے اس کے حالات بیان کیے ہیں ویسے یہ مجہول ہے ۔ امام ابویعلیٰ کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9639
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَتْ رَايَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَوْدَاءَ وَلِوَاؤُهُ أَبْيَضَ ، مَكْتُوبٌ عَلَيْهِ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ خَلَا الْكِتَابَةَ عَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَيَّانُ وَتَقَدَّمَ الْكَلَامُ عَلَيْهِ ، تَرَاهُ قَبْلُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چھوٹا جھنڈا سیاہ رنگ کا اور بڑا جھنڈا سفید رنگ کا ہوتا تھا ، جس پر لا الہ الا الله محمد رسول اللہ لکھا ہوتا تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے اس میں تحریر کے الفاظ نقل نہیں کیے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حیان ہے جس پر کلام پہلے گزر چکا ہے جسے آپ اس سے پہلے ملاحظہ فرما چکے ہیں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے اس میں تحریر کے الفاظ نقل نہیں کیے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حیان ہے جس پر کلام پہلے گزر چکا ہے جسے آپ اس سے پہلے ملاحظہ فرما چکے ہیں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 9640
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَايَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَتْ سَوْدَاءَ . ¤ قُلْتُ : لِجَابِرٍ فِي السُّنَنِ أَنَّهَا كَانَتْ بَيْضَاءَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَفِي إِسْنَادِ الْكَبِيرِ شَرِيكٌ النَّخَعِيُّ وَثَّقَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چھوٹا جھنڈا سیاہ رنگ کا ہوتا تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے سنن میں
یہ روایت منقول ہے کہ وہ سفید رنگ کا ہوتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے معجم کبیر کی سند میں ایک راوی شریک نخعی ہے جسے امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت منقول ہے کہ وہ سفید رنگ کا ہوتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے معجم کبیر کی سند میں ایک راوی شریک نخعی ہے جسے امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9641
وَعَنْ مَزِيدَةَ الْعَبْدِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَقَدَ رَايَاتِ الْأَنْصَارِ فَجَعَلَهُنَّ صُفْرًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ اللَّيْثِ الْهَدَادِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مزیدہ عبدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے چھوٹے جھنڈے بنوائے تھے اور انہیں زرد رنگ کا بنوایا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن لیث ہدادی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن لیث ہدادی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9642
وَعَنْ كُرَيْزِ بْنِ سَامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَقَدَ رَايَةً لِبَنِي سُلَيْمٍ حَمْرَاءَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کریز بن سامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنوسلیم کے لئے سرخ رنگ کا چھوٹا جھنڈا بندھوایا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 9643
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَايَةَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَتْ تَكُونُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَرَايَةَ الْأَنْصَارِ مَعَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، وَكَانَ إِذَا اسْتَحَرَّ الْقِتَالُ كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِمَّا يَكُونُ تَحْتَ رَايَةِ الْأَنْصَارِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عُثْمَانَ بْنِ زُفَرَ الشَّامِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مخصوص جھنڈا سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے پاس ہوتا تھا انصار کا جھنڈا سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس ہوتا تھا ، اور جب جنگ شدید ہو جاتی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان افراد کے ساتھ ہوتے تھے جو انصار کے جھنڈے کے نیچے ہوتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عثمان بن زفر شامی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عثمان بن زفر شامی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 9644
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنْ عَلِيًّا كَانَ صَاحِبَ رَايَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ بَدْرٍ ، وَقَيْسَ بْنَ سَعْدٍ صَاحِبَ رَايَةِ عَلِيٍّ ، وَصَاحِبُ رَايَةِ الْمُهَاجِرِينَ عَلِيٌّ فِي الْمُوَاطِنِ كُلِّهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ وَفِيهِ أَبُو شَيْبَةَ إِبْرَاهِيمُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے موقع پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈا بردار تھے اور سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے جھنڈا بردار تھے ( مطبوعہ نسخے میں یہ جملہ اسی طرح ہے لیکن شاید اصل جملہ یہ ہو گا : اور سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ انصار کے جھنڈا بردار تھے ) اور ہر موقعہ پر مہاجرین کے جھنڈا بردار سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوشیبہ ابراہیم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوشیبہ ابراہیم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9645
وَعَنْ مُحَارِبٍ قَالَ : كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى زِيَادٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الْعَدُوَّ لَا يَظْهَرُ عَلَى قَوْمٍ لِوَاؤُهُمْ - أَوْ قَالَ : رَايَتُهُمْ - مَعَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
محارب بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے زیاد کو خط لکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” دشمن ایسی کسی قوم پر غالب نہیں آئے گا جن کا چھوٹا جھنڈا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) بڑا جھنڈا بنوبکر بن وائل سے تعلق رکھنے والے کسی فرد کے پاس ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔