کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس صورت کا بیان ، جس میں شہادت حاصل ہوتی ہے
حدیث نمبر: 9545
عَنْ رَاشِدِ بْنِ حُبَيْشٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ يَعُودُهُ فِي مَرَضِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَتَعْلَمُونَ [ مَنِ ] الشَّهِيدُ مِنْ أُمَّتِي ؟ " فَأَزَّمَ الْقَوْمُ فَقَالَ عُبَادَةُ : سَانِدُونِي فَأَسْنَدُوهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ الصَّابِرُ الْمُحْتَسِبُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ ، الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - شَهَادَةٌ ، وَالطَّاعُونُ شَهَادَةٌ ، وَالْغَرَقُ شَهَادَةٌ ، وَالْبَطْنُ شَهَادَةٌ ، وَالنُّفَسَاءُ يَجُرُّهَا وَلَدُهَا بِسَرَرِهِ إِلَى الْجَنَّةِ " . قَالَ : وَزَادَ أَبُو الْعَوَّامِ سَادِنُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ : " وَالْحَرْقُ وَالسَّيْلُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا راشد بن حبیش رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لئے تشریف لائے یہ ان کی بیماری کے دوران کی بات ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو میری امت میں سے شہید کون ہیں ؟ تو لوگ خاموش رہے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ مجھے سہارا دو لوگوں نے انہیں سہارا دے کر بٹھایا انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! صبر کرتے ہوئے ثواب کی امید رکھتے ہوئے ( قتل ہونے والا شخص شہید ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس صورت میں میری امت کے شہداء کم ہوں گے اللہ کی راہ میں قتل ہونا شہادت ہے طاعون ( کی وجہ سے مرنا ) شہادت ہے ڈوب ( کر مرنا ) شہادت ہے پیٹ ( کی بیماری کی وجہ سے مرنا ) شہادت ہے نفاس ( کے دوران مرنے والی عورت کو ) اس کا بچہ اپنی نال کے ذریعے کھینچ کر جنت کی طرف لے جائے گا “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ابوعوام نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” بیت المقدس کا خادم ( ہونے کے طور پر مرنا ) اور جل کر یا ، سیلاب ( میں مرنا ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9545
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (489/3)»
حدیث نمبر: 9546
وَرَوَى بِإِسْنَادِهِ إِلَى عُبَادَةَ قَالَ : فَذَكَرَهُ وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
انہوں نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ تک اپنی سند کے ساتھ
یہ روایت نقل کی ہے ، جس میں انہوں نے اس بات کا ذکر کیا ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9546
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (489/3)»
حدیث نمبر: 9547
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : أَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعُودُنِي وَأَنَا مَرِيضٌ فِي نَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ : " هَلْ تَدْرُونَ مَنِ الشَّهِيدُ ؟ " فَسَكَتُوا فَقَالَ : " هَلْ تَدْرُونَ مَنِ الشَّهِيدُ ؟ " فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي : أَسْنِدِينِي فَأَسْنَدَتْنِي فَقُلْتُ : مَنْ أَسْلَمَ ثُمَّ هَاجَرَ ثُمَّ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فَهُوَ شَهِيدٌ . فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " إِنْ لَمْ يَكُنْ شُهَدَاءُ أُمَّتِي إِلَّا هَؤُلَاءِ إِنَّهُمْ إِذًا لَقَلِيلٌ ، الْقَتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ وَالْغَرِقُ شَهِيدٌ وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ وَالطَّاعُونُ شَهَادَةٌ وَالنُّفَسَاءُ يَجُرُّهَا وَلَدُهَا بِسَرَرِهِ إِلَى الْجَنَّةِ " . ¤ وَفِيهِ الْمُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کرنے کے لئے میرے پاس تشریف لائے میں اس وقت بیمار تھا انصار کے کچھ افراد موجود تھے ( یا انصار کے کچھ افراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آئے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم لوگ جانتے ہو شہید کون ہے ؟ تو لوگ خاموش رہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم لوگ جانتے ہو شہید کون ہے ؟ میں نے اپنی بیوی سے کہا: تم مجھے ٹیک دو اس نے مجھے ٹیک دی میں نے کہا: جو اسلام قبول کرے پھر ہجرت کرے اور پھر اللہ کی راہ میں قتل ہو جائے وہ شہید ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : اگر میری امت کے شہداء صرف یہی ہوں ، تو ایسی صورت میں وہ لوگ کم ہوں گے اللہ کی راہ میں قتل ہونے والا شہید ہے ڈوب کر مرنے والا شہید ہے پیٹ کی بیماری میں مرنے والا شہید ہے طاعون میں مرنے والا شہید ہے نفاس ( کے دوران مرنے والی عورت ) کو اس کا بچہ اپنی نال کے ذریعے کھینچ کر جنت کی طرف لے جائے گا “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی مغیرہ بن زیادہ ہے جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اور دوسرے لوگوں نے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9547
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1718 و 1717) أخرجه احمد فى المسند (317/5)»
حدیث نمبر: 9548
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ نَعُودُهُ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ فَقُلْنَا : يَرْحَمُكَ اللَّهُ إِنْ كُنَّا لَنَرْجُو أَنْ تَمُوتَ عَلَى غَيْرِ هَذَا وَإِنْ كُنَّا لَنَرْجُو لَكَ الشَّهَادَةَ ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ نَذْكُرُ هَذَا فَقَالَ : " وَفِيمَ تَعُدُّونَ الشَّهَادَةَ ؟ " . فَأَزَّمَ الْقَوْمُ وَتَحَرَّكَ عَبْدُ اللَّهِ فَقَالَ : أَلَا تُجِيبُونَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ ثُمَّ أَجَابَهُ هُوَ فَقَالَ : نَعُدُّ الشَّهَادَةَ فِي الْقَتْلِ . فَقَالَ : " إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ ، إِنَّ فِي الْقَتْلِ شَهَادَةً ، وَفِي الطَّاعُونِ شَهَادَةً وَفِي الْبَطْنِ شَهَادَةً وَفِي الْغَرَقِ شَهَادَةً وَفِي النُّفَسَاءِ يَقْتُلُهَا وَلَدُهَا جُمْعًا شَهَادَةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم سیدنا عبداللہ بن رواحہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کرنے کے لئے ان کے پاس آئے ان پر بیہوشی طاری ہوئی ہم نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے ہمیں یہ توقع تھی آپ اس صورت کے علاوہ انتقال کریں گے ہمیں تو آپ کے لئے شہادت کی توقع تھی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہم یہی بات چیت کر رہے تھے ۔ آپ نے فرمایا : تم لوگ کسے شہادت شمار کرتے ہو ؟ تو لوگ خاموش رہے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے حرکت کی انہوں نے فرمایا : تم لوگ اللہ کے رسول کو جواب کیوں نہیں دیتے ہو ؟ پھر انہوں نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیتے ہوئے عرض کی : ہم قتل ہونے کو شہادت شمار کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس صورت میں میری امت کے شہداء کم ہوں گے قتل میں شہادت ہے طاعون میں شہادت ہے پیٹ کی بیماری میں شہادت ہے ڈوب کر مرنے میں شہادت ہے نفاس والی عورتیں جن کا بچہ ان کی موت کا سبب بن جاتا ہے ( ان کی موت ) شہادت ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد نے اس کی مانند نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9548
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (314/5 و 201/4)»
حدیث نمبر: 9549
وَعَنْ رَبِيعٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَادَ ابْنَ أَخِي جَبْرًا الْأَنْصَارِيَّ فَجَعَلَ أَهْلُهُ يَبْكُونَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُمْ جَبْرٌ : لَا تُؤْذُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِأَصْوَاتِكُمْ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دَعْهُنَّ يَبْكِينَ مَا دَامَ حَيًّا فَإِذَا وَجَبَ فَلْيَسْكُتْنَ " . فَقَالَ بَعْضُهُمْ : مَا كُنَّا نَرَى أَنْ يَكُونَ مَوْتُكَ عَلَى فِرَاشِكَ حَتَّى تُقْتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَوَمَا الشَّهَادَةُ إِلَّا [ فِي ] الْقَتْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ ، إِنَّ الطَّعْنَ شَهَادَةٌ وَالْبَطْنَ شَهَادَةٌ وَالطَّاعُونَ وَالنُّفَسَاءَ بِجُمْعٍ شَهَادَةٌ وَالْحَرْقَ شَهَادَةٌ وَالْغَرَقَ وَالْهَدْمَ شَهَادَةٌ وَذَاتَ الْجَنْبِ شَهَادَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ربیع انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے بھتیجے جبر انصاری کی عیادت کرنے کے لئے تشریف لائے اس کے اہل خانہ نے اس پر رونا شروع کر دیا جبر نے ان سے کہا: تم لوگ اللہ کے رسول کو اپنی آوازوں کے ذریعے اذیت نہ پہنچاؤ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان عورتوں کو رونے دو جب تک یہ شخص زندہ ہے جب موت واقع ہو جائے گی تو عورتیں خاموش ہو جائیں حاضرین میں سے کسی نے کہا: ہمیں یہ توقع نہیں تھی کہ تمہاری موت اس طرح بستر پر ہو گی ہم تو یہ سمجھتے تھے کہ تم اللہ کے رسول کے ساتھ جنگ میں شریک ہوتے ہوئے اللہ کی راہ میں شہید ہو گے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا شہادت صرف اللہ کی راہ میں قتل ہونے کی صورت میں ہوتی ہے ؟ ایسی صورت میں میری امت کے شہداء کم ہوں گے زخم لگنے سے شہادت ہوتی ہے پیٹ کی بیماری سے شہادت ہوتی ہے طاعون کی وجہ سے شہادت ہوتی ہے نفاس والی عورت کا بچے کی پیدائش کے وقت مر جانا شہادت ہے ڈوب کر مرنا ملبے کے نیچے آ کر مرنا شہادت ہے اور ذات الجنب کی بیماری کی وجہ سے مرنا شہادت ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9549
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4607)»
حدیث نمبر: 9550
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا تَعُدُّونَ الشَّهِيدَ فِيكُمْ ؟ " . فَقُلْنَا : مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ . فَقَالَ : " مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ ، وَمَنْ غَرِقَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ ، وَمَنْ قَتَلَهُ الْبَطْنُ فَهُوَ شَهِيدٌ ، وَالْمَرْأَةُ يَقْتُلُهَا نِفَاسُهَا فَهِيَ شَهِيدَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے دریافت کیا : تم لوگ اپنے درمیان کے شہید شمار کرتے ہو ؟ ہم نے عرض کی : جو اللہ کی راہ میں قتل ہو جائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو اللہ کی راہ میں قتل ہو جائے وہ شہید ہے ، جو اللہ کی راہ میں ڈوب کر مر جائے وہ شہید ہے جسے پیٹ کی بیماری موت کا شکار کر دے وہ شہید ہے وہ عورت جو نفاس کے دوران مر جاتی ہے وہ شہیدہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9550
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 9551
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ يَوْمًا لِأَصْحَابِهِ : " مَا تَعُدُّونَ الشُّهَدَاءَ فِيكُمْ ؟ " قَالُوا : مَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ شَهِيدٌ . قَالَ : " إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ ، الْمَقْتُولُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ ، [ وَالْمَرْءُ يَمُوتُ عَلَى فِرَاشِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ ، وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ ، وَاللَّدِيغُ شَهِيدٌ ] وَالْغَرِيقُ شَهِيدٌ ، [ وَالشَّرِيقُ شَهِيدٌ ، وَالَّذِي يَفْتَرِسُهُ السَّبُعُ شَهِيدٌ ، وَالْخَارُّ عَنْ دَابَّتِهِ شَهِيدٌ ، وَصَاحِبُ الْهَدْمِ شَهِيدٌ ] وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيدٌ ، وَالنُّفَسَاءُ يَقْتُلُهَا وَلَدُهَا يَجُرُّهَا بِسَرَرِهِ إِلَى الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ عَطِيَّةَ بْنِ الْحَارِثِ الْوَادِعِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا : تم لوگ اپنے درمیان کسے شہید شمار کرتے ہو ؟ لوگوں نے عرض کی : جو اللہ کی راہ میں صبر کرتے ہوئے ثواب کی امید رکھتے ہوئے دشمن کی طرف رخ کرتے ہوئے پیٹھ نہ پھیرتے ہوئے قتل ہو جائے وہ شہید ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایسی صورت میں میری امت کے شہداء کم ہوں گے اللہ کی راہ میں قتل ہونے والا شہید ہے وہ آدمی جو اللہ کی راہ میں اپنے بستر پر مر جاتا ہے وہ شہید ہے پیٹ کی بیماری سے مرنے والا شہید ہے جانور کے ڈسنے سے مرنے والا شخص شہید ہے ڈوب کر مرنے والا شخص شہید ہے ، شریق ( شاید یہاں مراد وہ ہے شخص ہے جس کو اچھو لگ جاتا ہے ، ) شہید ہے ، جسے درندے چیر پھاڑ دیں ، وہ شہید ہے ، اپنے جانور سے گر کر مر جانے والا شہید ہے ، ملبے کے نیچے آ کر مرنے والا شہید ہے ، ذات الجنب کی بیماری سے مرنے والا شہید ہے اور نفاس والی عورت ( شہید ہے ) جس کا بچہ اس کی موت کا سبب بن جاتا ہے ، وہ بچہ اس ( عورت کو ) اپنی نال کے ذریعے کھینچ کر ، جنت میں لے جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عطیہ بن حارث وادعی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9551
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11686)»
حدیث نمبر: 9552
وَعَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَسْتَشْهِدُونَ بِالْقَتْلِ وَالطَّاعُونِ وَالْغَرَقِ وَالْبَطْنِ وَمَوْتِ الْمَرْأَةِ جُمْعًا مَوْتُهَا فِي نِفَاسِهَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ قتل ہونے کی صورت میں طاعون کی وجہ سے ڈوب کر مرنے کی وجہ سے پیٹ کی بیماری کی وجہ سے عورت کے دردزہ کے دوران مرنے کی وجہ سے جب اس کی موت نفاس کے دوران ہو ، اسے شہادت شمار کرو “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9552
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ رِجَالُهُ
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1719)»
حدیث نمبر: 9553
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ : عَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ فَقَالَ : " مَا تَعُدُّونَ الشُّهَدَاءَ مِنْ أُمَّتِي ؟ " قَالَ ذَلِكَ ثَلَاثًا قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ : إِنْ شَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَذِنَ لِي فَأَخْبَرْتُهُ مَنِ الشُّهَدَاءُ مِنْ أُمَّتِهِ . قَالَ : " فَأَخْبِرْنِي مَنِ الشُّهَدَاءُ مِنْ أُمَّتِي ؟ " . قَالَ : أَسْنِدُونِي فَأَسْنَدُوهُ قَالَ : مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَجَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَاتَلَ حَتَّى يُقْتَلَ فَهُوَ شَهِيدٌ . قَالَ : إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ ، الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ وَالْمَطْعُونُ شَهِيدٌ وَالْغَرِيقُ شَهِيدٌ وَالنُّفَسَاءُ شَهِيدَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي صَالِحٍ الْفَرَّاءِ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لئے تشریف لائے آپ نے فرمایا : تم لوگ میری امت میں سے کسے شہید شمار کرتے ہو ؟ آپ نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی لوگوں نے عرض کی : یہ بات اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر اللہ کے رسول چاہیں ، تو مجھے اجازت دیں میں آپ کو یہ بتاؤں گا کہ آپ کی امت میں سے شہید کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم مجھے بتاؤ کہ میری امت میں سے شہید کون ہیں ؟ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: تم لوگ مجھے سہارا دو لوگوں نے انہیں سہارا دیا ، تو انہوں نے کہا: جو شخص اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھے اللہ کی راہ میں جہاد کرے جنگ میں حصہ لے ، یہاں تک کہ وہ شہید ہو جائے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس صورت میں میری امت کے شہید کم ہوں گے اللہ کی راہ میں قتل ہونے والا شہید ہے پیٹ کی بیماری سے مرنے والا شہید ہے زخم لگنے سے مرنے والا شہید ہے ڈوب کے مرنے والا شہید ہے نفاس والی عورت شہید ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ ابوصالح فراء کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9553
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 9554
وَعَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ هَارُونَ بْنِ عَنْتَرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ : " مَا تَعُدُّونَ الشَّهِيدَ فِيكُمْ ؟ " قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ . قَالَ : " إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ . مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ [ وَالْبَطِنُ شَهِيدٌ ] ، وَالْمُتَرَدِّي شَهِيدٌ ، وَالنُّفَسَاءُ شَهِيدٌ ، وَالْغَرِقُ شَهِيدٌ " . ¤ زَادَ الْحُلْوَانِيُّ : " وَالسُّلُّ شَهِيدٌ ، وَالْحَرِيقُ شَهِيدٌ ، وَالْغَرِيبُ شَهِيدٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَعَبْدُ الْمَلِكِ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدالملک بن ہارون بن عنترہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اپنے درمیان کسے شہید شمار کرتے ہو ؟ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جو اللہ کی راہ میں قتل ہو جائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس صورت میں میری امت کے شہداء کم ہوں گے ، جو اللہ کی راہ میں قتل ہو جائے وہ شہید ہے پیٹ کی بیماری سے مرنے والا شہید ہے گر کر مرنے والا شہید ہے نفاس میں مرنے والی عورت شہید ہے ڈوب کر مرنے والا شخص شہید ہے ۔ حلوانی نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : سل کی بیماری میں مرنے والا شہید ہے جل کر مرنے والا شہید ہے اجنبی ہونے کے عالم میں مرنے والا شہید ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور عبدالملک نامی راوی متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9554
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (87/18)»
حدیث نمبر: 9555
وَعَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالزَّكَاةِ [ ثَلَاثَ ] مَرَّاتٍ ، فَقَالَ : " وَمَا تَعُدُّونَ الشَّهِيدَ فِيكُمْ ؟ " قَالُوا : الَّذِي يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ : " إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ . الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهَادَةٌ ، [ وَالطَّاعُونُ شَهَادَةٌ ] وَالنُّفَسَاءُ شَهَادَةٌ ، وَالْحَرْقُ شَهَادَةٌ ، وَالْغَرَقُ شَهَادَةٌ ، وَالسُّلُّ شَهَادَةٌ ، وَالْبَطْنُ شَهَادَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں زکوۃ لے کر تین مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے دریافت کیا : تم لوگ شہید کسے شمار کرتے ہو ؟ لوگوں نے عرض کی : جو اللہ کی راہ میں قتل ہو جائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس صورت میں میری امت کے شہداء کم ہوں گے اللہ کی راہ میں قتل ہونا شہادت ہے طاعون کی وجہ سے مرنا شہادت ہے نفاس کے دوران عورت کا مرنا شہادت ہے جل کر مرنا شہادت ہے ڈوب کر مرنا شہادت ہے سل کی بیماری کی وجہ سے مرنا شہادت ہے اور پیٹ کی بیماری کی وجہ سے مرنا شہادت ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مندل بن علی ہے اور وہ ضعیف ہے اس کی توثیق کی گئی ہے
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9555
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1265) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6115)»
حدیث نمبر: 9556
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَفَعَهُ قَالَ : " الْبَطْنُ وَالْغَرَقُ شَهَادَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” پیٹ کی بیماری کی وجہ سے اور ڈوب کر مرنا شہادت ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9556
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 9557
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيْسَ الشَّهِيدُ إِلَّا مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ قَالَ : " يَا عَائِشَةُ إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ ، مَنْ قَالَ فِي يَوْمٍ خَمْسًا وَعِشْرِينَ مَرَّةً : اللَّهُمَّ بَارِكْ فِي الْمَوْتِ وَفِيمَا بَعْدَ الْمَوْتِ ثُمَّ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ أَعْطَاهُ اللَّهُ أَجْرَ شَهِيدٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي فَضْلِ الْجِهَادِ فِي مَنْ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَمَاتَ بِأَيِّ حَتْفٍ كَانَ فَهُوَ شَهِيدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا شہید صرف وہ ہوتا ہے ، جو اللہ کی راہ میں قتل ہو جائے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس صورت میں میری امت کے شہداء کم ہوں گے جو شخص روزانہ پچیس مرتبہ یہ کلمات پڑھ لے : ” اے اللہ ! تو موت میں اور موت کے بعد والی زندگی میں برکت نصیب فرما “ ۔ پھر وہ اپنے بستر پر بھی مر جائے تو اللہ تعالیٰ اسے شہید کا اجر عطا کرے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس سے پہلے جہاد کی فضیلت کے بارے میں ایسی احادیث گزر چکی ہیں کہ جو شخص اللہ کی راہ میں اپنے گھر سے نکلتا ہے ، تو پھر وہ جس وجہ سے بھی مرے وہ شہید شمار ہوتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9557
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 9558
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ صُرِعَ عَنْ دَابَّتِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اپنی سواری سے گر کر مر جائے وہ شہید ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9558
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (1752) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (323/17)»
حدیث نمبر: 9559
وَعَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : مَنْ تَرَدَّى مِنْ رُءُوسِ الْجِبَالِ ، وَتَأْكُلُهُ السِّبَاعُ ، وَيَغْرَقُ فِي الْبِحَارِ لَشَهِيدٌ عِنْدَ اللَّهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ الطَّاعُونِ فِي الْجَنَائِزِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جو شخص پہاڑ کے سرے سے گر کے مر جائے یا جسے درندے کھا جائیں یا جو سمندر میں ڈوب جائے وہ اللہ کے نزدیک شہید شمار ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں اس سے پہلے جنائز سے متعلق باب میں طاعون سے متعلق احادیث گزر چکی ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9559
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9718)»
حدیث نمبر: 9560
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْأَلْهَانِيِّ قَالَ : ذُكِرَ عِنْدَ أَبِي عِنَبَةَ الْخَوْلَانِيِّ الشُّهَدَاءُ فَذُكِرَ الْمَطْعُونُ ، وَالْمَبْطُونُ ، وَالنُّفَسَاءُ ، فَغَضِبَ أَبُو عِنَبَةَ وَقَالَ : حَدَّثَنَا أَصْحَابُ نَبِيِّنَا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ نَبِيِّنَا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ شُهَدَاءَ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ أُمَنَاءُ اللَّهِ عَلَى خَلْقِهِ قُتِلُوا أَوْ مَاتُوا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن زیاد الہانی بیان کرتے ہیں : ابوعنبہ خولانی کے سامنے یہ بات ذکر کی گئی کہ شہداء میں طاعون کی وجہ سے مرنے والا پیٹ کی بیماری کی وجہ سے مرنے والا اور نفاس کے دوران مرنے والی خاتون بھی شامل ہیں ، تو ابوعنبہ غصہ میں آ گئے اور بولے : ہمارے نبی کے اصحاب نے ہمیں یہ حدیث ہمارے نبی کے حوالے سے بیان کی ہے ۔ کہ آپ نے ارشاد فرمایا ہے : ” زمین میں اللہ کے شہداء اس کی مخلوق کے بارے میں اللہ کے امین ہیں ، خواہ وہ قتل ہو کے مریں یا طبعی موت مر جائیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9560
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (200/4)»