کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جو کسی غازی کو سامان فراہم کرے یا اس کی غیر موجودگی میں اس کے اہل خانہ کی دیکھ بھال کرے
حدیث نمبر: 9458
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا أَوْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ فَإِنَّهُ مَعَنَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَرَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کسی غازی کو سامان فراہم کرے یا اس کی غیر موجودگی میں اس کے اہل خانہ کا اچھی طرح سے خیال رکھے وہ ہمارے ساتھ ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے اور وہ ضعیف ہے اور ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے اور وہ ضعیف ہے اور ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 9459
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَدْ غَزَا وَمَنْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ فَقَدْ غَزَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ رَوَّادُ بْنُ الْجَرَّاحِ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ فِي غَيْرِ حَدِيثِ سُفْيَانَ وَكَذَلِكَ ابْنُ مَعِينٍ وَابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُخْطِئُ وَيُخَالِفُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اللہ کی راہ میں جنگ میں حصہ لینے والے کسی شخص کو سامان فراہم کرے تو گویا اس نے بھی جنگ میں حصہ لیا اور جو شخص اس غازی کی غیر موجودگی میں اس کے اہل خانہ کی دیکھ بھال کرے گویا اس نے بھی جنگ میں حصہ لیا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رؤاد بن جراح ہے جسے امام أحمد نے سفیان سے منقول روایت کے علاوہ میں ثقہ قرار دیا ہے یحیی بن معین اور ابن حبان نے بھی اس طرح کیا ہے ابن حبان کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے اور یہ دوسرے ( راویوں کے ) برخلاف روایت نقل کرتا ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رؤاد بن جراح ہے جسے امام أحمد نے سفیان سے منقول روایت کے علاوہ میں ثقہ قرار دیا ہے یحیی بن معین اور ابن حبان نے بھی اس طرح کیا ہے ابن حبان کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے اور یہ دوسرے ( راویوں کے ) برخلاف روایت نقل کرتا ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 9460
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَهُ مَثَلُ أَجْرِهِ وَمَنْ خَلَفَ غَازِيًا فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ ، وَأَنْفَقَ عَلَى أَهْلِهِ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ " " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص اللہ کی راہ میں جنگ میں حصہ لینے والے کسی شخص کو سامان فراہم کرتا ہے ، تو اسے اس غازی کی مانند اجر ملتا ہے اور جو شخص غازی کی غیر موجودگی میں اس کے اہل خانہ کی دیکھ بھال کرتا ہے اور اس کے اہل خانہ پر خرچ کرتا ہے اسے بھی غازی کی مانند اجر ملتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 9461
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ عَامَ بَنِي لَحْيَانَ : " لِيَخْرُجْ مِنْ كُلِّ اثْنَيْنِ مِنْكُمْ رَجُلٌ وَلْيُخْلِفِ الْغَازِي فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَلَهُ مَثَلُ نِصْفِ أَجْرِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں بنولحیان کے سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے ہر دو افراد میں سے ایک شخص نکلے اور دوسرا غازی کے اہل خانہ اور مال کی دیکھ بھال کرتا رہے ، تو اسے غازی کے اجر کے نصف کی مانند ملے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔