کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: جہاد کے لئے قرض لینا اور اس ( جہاد ) کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 9443
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ : هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِي الْخَيْلِ شَيْئًا ؟ قَالَ : نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، اشْتَرُوا عَلَى اللَّهِ وَاسْتَقْرِضُوا عَلَى اللَّهِ " . ¤ قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ نَشْتَرِي عَلَى اللَّهِ وَنَسْتَقْرِضُ عَلَى اللَّهِ قَالَ : " قُولُوا أَقْرَضْنَا إِلَى مُقَاسِمِنَا وَبِعْنَا إِلَى أَنْ يَفْتَحَ اللَّهُ لَنَا ، لَا تَزَالُونَ بِخَيْرٍ مَا دَامَ جِهَادُكُمْ خَضِرًا وَسَيَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ يَشُكُّونَ فِي الْجِهَادِ فَجَاهِدُوا فِي زَمَانِهِمْ ثُمَّ اغْزُوَا فَإِنَّ الْغَزْوَ يَوْمَئِذٍ أَخْضَرُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ بَقِيَّةُ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عبیداللہ بن عبداللہ ، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں نقل کرتے ہیں : ایک شخص آیا اور اس نے یہ دریافت کیا : کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گھوڑوں کے بارے میں کوئی بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ؟ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت کے دن تک کے لئے بھلائی باندھ دی گئی ہے تم اللہ تعالیٰ کے نام پر خریداری کرو ، اور اللہ تعالیٰ کے نام پر قرض لو عرض کی گئی یا رسول اللہ ! ہم اللہ تعالیٰ کے نام پر کیسے خریداری کر سکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نام پر کیسے قرض لے سکتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ یہ کہو کہ ہم اس شرط پر قرض لیتے ہیں کہ جب مال غنیمت کی تقسیم میں ہمیں حصہ ملے گا ( تو وہ ادائیگی کر دیں گے ) اور اس شرط پر چیز خریدتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ ہمیں فتح نصیب کرے گا ( تو ہم ادائیگی کر دیں گے ) تم لوگ مسلسل بھلائی پر گامزن رہو گے جب تم تمہارا جہاد سر سبز ہو گا آخری زمانے میں کچھ ایسے لوگ آئیں گے ، جو جہاد کے بارے میں شک کا شکار ہوں گے تو تم ان کے زمانے میں جہاد کرنا پھر غزوات میں حصہ لینا ، کیونکہ ان دنوں میں غزوہ میں حصہ لینا زیادہ سرسبز ہو گا “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے اور وہ مدلس ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے اور وہ مدلس ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔