کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: آلات حرب کا بیان ان کا نام رکھنا اور نبی اکرم ﷺ کے جو ( آلات حرب تھے )
حدیث نمبر: 9408
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَيْفٌ قَائِمَتُهُ مِنْ فِضَّةٍ وَقَبِيعَتُهُ مِنْ فِضَّةٍ ، وَكَانَ يُسَمَّى : ذَا الْفَقَارِ . ¤ وَكَانَتْ لَهُ قَوْسٌ يُسَمَّى : السَّدَّادَ . وَكَانَتْ لَهُ جُعْبَةٌ تُسَمَّى : الْجَمْعَ . وَكَانَتْ لَهُ دِرْعٌ مُوَشَّحَةٌ بِنُحَاسٍ تُسَمَّى : ذَاتَ الْفُضُولِ . وَكَانَتْ لَهُ حَرْبَةٌ تُسَمَّى : النَّبْعَاءَ . وَكَانَ لَهُ مِجَنٌّ يُسَمَّى الدَّفْنَ . ¤ وَكَانَ لَهُ تُرْسٌ أَبْيَضُ يُسَمَّى : الْمُوجَزَ ، وَكَانَ لَهُ فَرَسٌ أَدْهَمُ يُسَمَّى : السَّكِبَ ، وَكَانَ لَهُ سَرْجٌ يُسَمَّى : الدَّاحَّ . وَكَانَتْ لَهُ بَغْلَةٌ شَهْبَاءُ تُسَمَّى : الدُّلْدُلُ ، وَكَانَتْ لَهُ نَاقَةٌ تُسَمَّى : الْقَصْوَى . وَكَانَ لَهُ حِمَارٌ يُسَمَّى : يَعْفُورَ . وَكَانَ لَهُ بِسَاطٌ يُسَمَّى : الْكَرَّ . وَكَانَتْ لَهُ عَنَزَةٌ تُسَمَّى : النَّمِرَ . وَكَانَتْ لَهُ رَكْوَةٌ تُسَمَّى : الصَّادِرَ . وَكَانَتْ لَهُ مِرْآةٌ تُسَمَّى : الْمِرْآةَ . وَكَانَ لَهُ مِقْرَاضٌ يُسَمَّى : الْجَامِعَ . وَكَانَ لَهُ قَضِيبٌ شَوْحَطُ يُسَمَّى : الْمَمْشُوقَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ عُرْوَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک تلوار تھی جس کا قائمہ چاندی کا تھا ، اور جس کا دستے پر موجود حلقہ چاندی کا تھا ، اس کا نام ” ذوالفقار“ تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک کمان تھی جس کا نام ” سداد “ تھا آپ کا ایک ترکش تھا ، جس کا نام ” جمع “ تھا آپ کی ایک زرہ تھی ، جس پر تانبا لگا ہوا تھا ، جس کا نام ” ذات الفضول “ تھا ، آپ کا ایک نیزہ تھا ، جس کا نام ” نبعاء “ تھا ، آپ کی ایک ڈھال تھی ، جس کا نام ” دفن “ تھا آپ کی ایک سفید ڈھال تھی اور اس کا نام ” موجز “ تھا آپ کا ایک سیاہ گھوڑا تھا ، جس کا نام ” سکب “ تھا ، آپ کی ایک زین تھی ، جس کا نام ” داح “ تھا ، آپ کا ایک سفید خچر تھا ، جس کا نام ” دلدل “ تھا ، آپ کی ایک اونٹنی تھی ، جس کا نام ” قصوی “ تھا ، آپ کی ایک دراز گوش ( یعنی گدھا ) تھا ، جس کا نام ” یعفور “ تھا ، آپ کا ایک بچھونا تھا ، جس کا نام ” کر “ تھا ، آپ کا ایک نیزہ تھا ، جس کا نام ” نمرہ “ تھا ، آپ کا ایک پیالہ تھا ، جس کا نام ” صادر تھا ، آپ کا ایک آئینہ تھا ، جس کا نام ” آئینہ تھا ، آپ کی ایک قینچی تھی ، جس کا نام ” جامع تھا ، آپ کی شوحط نامی درخت سے بنی ہوئی ایک چھڑی تھی ، جس کا نام ” ممشوق “ تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن عروہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9408
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11208)»