کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان جو گھوڑا یا اس کے علاوہ کوئی اور ( نر جانور ) جفتی کے لئے دیتا ہے
حدیث نمبر: 9370
عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ عَنْ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ أَنَّهُ أَتَاهُ فَقَالَ : أَطْرِقْنِي فَرَسَكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ أَطْرَقَ فَعَقَّبَ لَهُ الْفَرَسُ كَانَ لَهُ كَأَجْرِ سَبْعِينَ فَرَسًا حَمَلَ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - " ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ أَطْرَقَ فَرَسَهُ مُسْلِمًا فَعَقَّبَ لَهُ الْفَرَسُ كَانَ لَهُ كَأَجْرِ سَبْعِينَ فَرَسًا حَمَلَ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَإِنْ لَمْ يُعَقِّبْ كَانَ لَهُ كَأَجْرِ فَرَسٍ يَحْمِلُ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . ¤ وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوعامر ہوزنی بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور بولے : اپنا گھوڑا مجھے جفتی کے لئے دے دو کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص اسے جفتی کے لئے دے اور اس کے نتیجے میں اور گھوڑا پیدا ہو ، تو اس دینے والے کو ستر گھوڑوں جتنا اجر ملتا ہے ، جو اس نے اللہ کی راہ میں سواری کے لئے دیے ہوں “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” جو شخص اپنا گھوڑا جفتی کے لئے کسی مسلمان کو دیتا ہے اور اس کے نتیجے میں ایک اور گھوڑا پیدا ہوتا ہے ، تو اس شخص کو ستر گھوڑوں کے جتنا اجر ملتا ہے جنہیں اس نے اللہ کی راہ میں سواری کے لئے دیا ہو اور اگر اس کے نتیجے میں ۔ گھوڑا پیدا نہیں ہوتا ، تو اس شخص کو ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں سواری کے لئے دینے کا اجر ملتا ہے “ ۔ ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9370
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (341/22) اخرجه احمد فى المسند (231/4)»
حدیث نمبر: 9371
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : مَا تَعَاطَى النَّاسُ بَيْنَهُمْ قَطُّ أَفْضَلَ مِنَ الطَّرْقِ يَطْرُقُ الرَّجُلُ فَرَسَهُ فَيَجْرِي لَهُ أَجْرُهُ، وَيَطْرُقُ الرَّجُلُ فَحْلَهُ فَيَجْرِي لَهُ أَجْرُهُ وَيَطْرُقُ الرَّجُلُ كَبْشَهُ فَيَجْرِي لَهُ أَجْرُهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : لوگ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ جو مہربانی کرتے ہیں اس میں کوئی بھی چیز جفتی کے لئے جانور دینے سے زیادہ فضیلت نہیں رکھتی آدمی اپنا گھوڑا جفتی کے لئے دیتا ہے ، تو اس کا اجر اس کے لئے جاری ہو جاتا ہے آدمی اپنا نر جانور جفتی کے لئے دیتا ہے ، تو اس کا اجر اس کے لئے جاری ہو جاتا ہے آدمی اپنا مینڈھا جفتی کے لئے دیتا ہے ، تو اس کا اجر اس شخص کے لئے جاری ہو جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9371
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13061)»