حدیث نمبر: 9369
عَنْ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَحْمِلُ لَكَ حِمَارًا عَلَى فَرَسٍ فَيُنْتَجَ لَكَ بَغْلًا فَتَرْكَبَهَا ؟ قَالَ : " إِنَّمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عَنِ الشَّعْبِيِّ : أَنَّ دِحْيَةَ مُرْسِلٌ، وَهُوَ عِنْدُ أَحْمَدَ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ دِحْيَةَ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عُمَرَ بْنَ حُسَيْلٍ مِنْ آلِ حُذَيْفَةَ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں آپ کے لئے گھوڑے کی گدھے سے جفتی نہ کروا دوں تاکہ خچر پیدا ہو ، تو آپ اس پر سوار ہوا کریں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ کام وہ لوگ کرتے ہیں ، جو علم نہیں رکھتے ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ کہا: ہے ۔ امام شعبی کے حوالے سے
یہ روایت منقول ہے کہ سیدنا دحیہ رضی اللہ عنہ نے ایسا کہا:
یہ روایت ” مرسل “ ہے ۔ امام أحمد نے اسے امام شعبی کے حوالے سے سیدنا دحیہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عمر بن حسیل نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے ، جو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی آل سے تعلق رکھتا ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ کہا: ہے ۔ امام شعبی کے حوالے سے
یہ روایت منقول ہے کہ سیدنا دحیہ رضی اللہ عنہ نے ایسا کہا:
یہ روایت ” مرسل “ ہے ۔ امام أحمد نے اسے امام شعبی کے حوالے سے سیدنا دحیہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عمر بن حسیل نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے ، جو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی آل سے تعلق رکھتا ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔