کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جلب اور خبب ( خراب کرنے یا دھوکہ دینے ) کی ممانعت
حدیث نمبر: 9364
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ خَبَّبَ عَبْدًا عَلَى سَيِّدِهِ، وَلَيْسَ مِنَّا مَنْ أَفْسَدَ امْرَأَةً عَلَى زَوْجِهَا، وَلَيْسَ مِنَّا مَنْ أَجْلَبَ عَلَى الْخَيْلِ يَوْمَ الرِّهَانِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” وہ شخص ہم میں سے نہیں ، جو کسی غلام کو اس کے آقا کے خلاف کر دے اور وہ شخص ہم میں سے نہیں ، جو کسی عورت کو اس کے شوہر کے حوالے سے خراب کر دے وہ شخص ہم میں سے نہیں ، جو گھڑ دوڑ کے دن گھوڑے پر چیخ و پکار کرے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ امام ابویعلیٰ کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9364
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (2413)»
حدیث نمبر: 9365
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا جَلَبَ فِي الْإِسْلَامِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو شَيْبَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اسلام میں ، جلب نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوشیبہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9365
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11318)»
حدیث نمبر: 9366
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ " . - وَالشِّغَارُ : أَنْ يُبَدِّلَ الرَّجُلُ أُخْتَهُ بِغَيْرِ صَدَاقٍ فَلَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ - " وَلَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ " - قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ - رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اسلام میں شغار ( کی اجازت ) نہیں ہے “ ۔ ( راوی کہتے ہیں : ) شفار یہ ہے کہ آدمی کسی مہر کے بغیر اپنی بہن کی شادی بدلے میں کر دے تو اسلام میں شغار نہیں ہے اور جلب اور جنب بھی نہیں ہے ( شاید یہ الفاظ حدیث کا حصہ ہیں ) ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9366
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (4769)»