حدیث نمبر: 9351
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا سَبْقَ إِلَّا فِي خُفٍّ أَوْ حَافِرٍ أَوْ نَصْلٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَارُونَ الْقَرَوِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَغَيْرِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مقابلہ صرف اونٹ ، یا گھوڑے ( کی دوڑ ) یا تیر اندازی میں نشانہ بازی ) میں ہو سکتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن ہارون قروی ہے اور وہ اس حدیث کے حوالے سے اور دیگر روایات کے حوالے سے ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن ہارون قروی ہے اور وہ اس حدیث کے حوالے سے اور دیگر روایات کے حوالے سے ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9352
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَصِفُّ عَبْدَ اللَّهِ وَعُبَيْدَ اللَّهِ وَكَثِيرًا بَنِي الْعَبَّاسِ ثُمَّ يَقُولُ : " مَنْ سَبَقَ إِلَيَّ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا " قَالَ : فَيَسْتَبِقُونَ إِلَيْهِ، فَيَقَعُونَ عَلَى ظَهْرِهِ وَصَدْرِهِ ، فَيُقَبِّلُهُمْ وَيَلْتَزِمُهُمْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ وَلِينٌ ، وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ : لَا أَعْلَمُ أَحَدًا تَرَكَ حَدِيثَهُ وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ وَرَوَى لَهُ مُسْلِمٌ مَقُرُونًا وَالْبُخَارِيُّ تَعْلِيقًا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے صاحبزادوں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سیدنا عبیداللہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا کثیر رضی اللہ عنہ کو صف میں کھڑا کرتے تھے اور پھر یہ فرماتے تھے : جو مجھ تک پہلے پہنچ جائے گا ، اسے یہ ، یہ ملے گا راوی کہتے ہیں : تو وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دوڑ لگا کر جاتے تھے اور آپ کی پشت اور آپ کے سینے پر گر جاتے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں بوسہ دیتے تھے اور اپنے ساتھ چمٹا لیتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے اس میں ضعف اور کمزوری پائی جاتی ہے ۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں : میں ایسے کسی شخص کو نہیں جانتا جس نے اس کی حدیث کو متروک قرار دیا ہوتا ہم اس کے علاوہ دوسرا راوی میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو گا امام مسلم نے اس کے حوالے سے ایک مقرون روایت نقل کی ہے اور امام بخاری رحمہ اللہ نے تعلیق کے طور پر نقل کی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے اس میں ضعف اور کمزوری پائی جاتی ہے ۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں : میں ایسے کسی شخص کو نہیں جانتا جس نے اس کی حدیث کو متروک قرار دیا ہوتا ہم اس کے علاوہ دوسرا راوی میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو گا امام مسلم نے اس کے حوالے سے ایک مقرون روایت نقل کی ہے اور امام بخاری رحمہ اللہ نے تعلیق کے طور پر نقل کی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9353
وَعَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَجْمَعُنَا أَنَا وَعَبْدَ اللَّهِ وَعُبَيْدَ اللَّهِ وَقُثَمَ فَيُفَرِّجُ يَدَيْهِ هَكَذَا فَيَمُدُّ بَاعَهُ وَيَقُولُ : " مَنْ سَبَقَ إِلَيَّ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ الصَّبَّاحُ بْنُ يَحْيَى وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کثیر بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اکٹھا کرتے تھے میں ہوتا تھا عبداللہ ، عبیداللہ اور قثم ہوتے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ اس طرح پھیلا لیتے تھے اور پھر یہ فرماتے تھے : جو مجھ تک پہلے پہنچ جائے گا اسے یہ ، یہ ملے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صباح بن یحیی ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صباح بن یحیی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 9354
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ وَجَعَلَ بَيْنَهَا سَبْقًا وَجَعَلَ فِيهَا مُحَلَّلًا وَقَالَ : لَا سَبْقَ إِلَّا فِي حَافِرٍ أَوْ نَصْلٍ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑوں کے درمیان دوڑ کا مقابلہ کروایا آپ نے ان کے درمیان مقابلہ کروایا اور ان میں ( دوڑ کی ) آخری حد مقرر کی ، آپ نے ارشاد فرمایا : ” مقابلہ صرف گھڑ دوڑ یا تیراندازی میں ہو سکتا ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 9355
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَبَّقَ بَيْنَ الْخَيْلِ وَرَاهَنَ . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ : وَرَاهَنَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑوں کے درمیان دوڑ کا مقابلہ کروایا تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے تا ہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : وراہن “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے تا ہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : وراہن “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9356
وَعَنْ أَبِي لَبِيدٍ لِمَازَةَ بْنِ زِيَادٍ قَالَ : أُرْسِلَتِ الْخَيْلُ زَمَنَ الْحَجَّاجِ وَالْحَكَمُ بْنُ أَيُّوبَ أَمِيرٌ عَلَى الْبَصْرَةِ فَقُلْنَا : لَوْ أَتَيْنَا الرِّهَانَ فَأَتَيْنَاهُ ثُمَّ قُلْنَا : لَوْ مِلْنَا إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَسَأَلْنَاهُ : هَلْ كُنْتُمْ تُرَاهِنُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : فَأَتَيْنَاهُ فَقَالَ : نَعَمْ ، لَقَدْ رَاهَنَ عَلَى فَرَسٍ يُقَالُ لَهُ : سُبْحَةُ فَسَبَقَ النَّاسَ فَهَشَّ لِذَلِكَ وَأَعْجَبَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فَأَتَيْنَاهُ وَهُوَ فِي قَصْرِهِ بِالزَّاوِيَةِ فَسَأَلْنَاهُ : يَا أَبَا حَمْزَةَ أَكُنْتُمْ تُرَاهِنُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ أَوَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُرَاهِنُ ؟ قَالَ : نَعَمْ وَاللَّهِ لَقَدْ رَاهَنَ عَلَى فَرَسٍ يُقَالُ لَهُ سُبْحَةُ : فَسَبَقَ النَّاسَ فَهَشَّ لِذَلِكَ وَأَعْجَبَهُ . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابولبید لمازه بن زیاد بیان کرتے ہیں : حجاج کے زمانہ میں گھوڑے بلوائے گئے حکم بن ایوب ان دنوں بصرہ کے گورنر تھے ہم نے کہا: اگر ہم مقابلے میں حصہ لینے کے لئے جائیں ، تو ہم وہاں جاتے ہیں پھر ہم نے سوچا ہمیں پہلے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر ان سے دریافت کر لینا چاہیے کہ کیا آپ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں گھڑ دوڑ کیا کرتے تھے ۔ راوی کہتے ہیں : ہم نے ان سے دریافت کیا : تو انہوں نے فرمایا : جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گھوڑے پر سوار ہو کر دوڑ میں حصہ لیا تھا ، جس کا نام سبحہ تھا وہ لوگوں سے آگے نکل گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات پر خوش ہوئے اور آپ کو یہ بات اچھی لگی ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے تا ہم انہوں نے یہ لفظ نقل کیے ہیں : ہم سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے پاس آئے وہ اس وقت زاویہ میں اپنے محل میں موجود تھے ہم نے ان سے سوال کیا اے ابوحمزہ کیا آپ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں گھڑ دوڑ میں حصہ لیتے تھے ؟ یا کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھڑ دوڑ میں حصہ لیتے تھے ؟ تو انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ اللہ کی قسم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گھوڑے پر سوار ہو کر دوڑ میں حصہ لیا تھا ، جس کا نام ” سبحہ “ تھا آپ لوگوں سے آگے نکل گئے تو آپ کو یہ بات اچھی لگی اور پسند آئی ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے تا ہم انہوں نے یہ لفظ نقل کیے ہیں : ہم سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے پاس آئے وہ اس وقت زاویہ میں اپنے محل میں موجود تھے ہم نے ان سے سوال کیا اے ابوحمزہ کیا آپ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں گھڑ دوڑ میں حصہ لیتے تھے ؟ یا کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھڑ دوڑ میں حصہ لیتے تھے ؟ تو انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ اللہ کی قسم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گھوڑے پر سوار ہو کر دوڑ میں حصہ لیا تھا ، جس کا نام ” سبحہ “ تھا آپ لوگوں سے آگے نکل گئے تو آپ کو یہ بات اچھی لگی اور پسند آئی ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9357
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ضَمَّرَ الْخَيْلَ وَسَابَقَ بَيْنَهَا فَرَآنِي رَاكِبًا عَلَى بَعِيرٍ فَقَالَ : "يَا جَابِرُ لَا تَزَالُ تُتَعْتِعُهُ" أَيْ : لَا تَزَالُ تَضْرِبُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ مَشْمُولٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑوں کی تربیت گی اور پھر ان کے درمیان مقابلہ کروایا آپ نے مجھے ملاحظہ فرمایا : میں اونٹ پر سوار تھا ، تو آپ نے فرمایا : اے جابر ! تم مسلسل اسے مشقت کا شکار کرتے ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ تم مسلسل اسے مارتے ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سلیمان بن مشمول ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سلیمان بن مشمول ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9358
وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ أَنَّهُ كَانَ يَسُوقُ فَرَسَهُ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَبَارَكَ اللَّهُ الَّذِي كَيَّفَ حَوَافِرَهُنَّ وَسَوَافِلَهُنَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے اپنے گھوڑے کو ہانک کر لے جا رہے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کی ذات برکت والی ہے جس نے ان کے گھروں اور ان کے نیچے والے حصے کو اس طرح بنایا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9359
وَعَنْ عِصْمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَكِبَ فَرَسًا فَجَرَى بِهِ فَرَجَعَ إِلَيْنَا فَقَالَ : "وَجَدْنَاهُ بَحْرًا" . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھوڑے پر سوار ہوئے آپ نے اسے دوڑایا جب آپ ہمارے پاس واپس تشریف لائے ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : ” ہم نے اسے سمندر پایا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9360
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ ذَاتَ يَوْمٍ بِالْمَدِينَةِ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى فَرَسٍ لَهُ فَانْطَلَقَ حَتَّى خَفِيَ عَلَيْنَا ثُمَّ أَقْبَلَ وَهِيَ تَعْدُو إِمَّا دَفَعَهَا ، وَإِمَّا اعْتَرَقَتْ بِهِ ، فَمَرَّ بِشَجَرَةٍ فَطَارَ مِنْهَا طَائِرٌ فَحَادَتْ فَنَدَرَ عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَرْضٍ غَلِيظَةٍ، فَأَتَيْنَاهُ نَسْعًا فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ وَعَرْضُ رُكْبَتَيْهِ وَحَرْقُفَتَيْهِ وَمَنْكِبَيْهِ وَعَرْضُ وَجْهِهِ ، مُنْسَحٌّ بِيضَ مَاءٍ أَصْفَرَ ، فَجَلَسْنَا حَوْلَهُ نَبْكِي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَنْصَارِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ ایک دن مدینہ منورہ میں موجود تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس ایک گھوڑے پر سوار ہو کر تشریف لے آئے پھر آپ تشریف لے گئے ، یہاں تک کہ آپ ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو گئے پھر آپ تشریف لائے وہ گھوڑا تیزی سے دوڑتا ہوا آ رہا تھا یا تو آپ اسے تیز چلا رہے تھے یا وہ خود تیز چل رہا تھا اس کا گزر ایک درخت کے پاس سے ہوا اس درخت سے ایک پرندہ اڑا ، تو وہ گھوڑا لڑکھڑا گیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے سخت زمین پر گر گئے ہم تیزی سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ تشریف فرما تھے ، آپ کے دونوں گھٹنوں ، زانوں کی دونوں ہڈیوں کے سروں ، کندھوں اور چہرے پر چوٹ لگی تھی ، اور چہرے سے جلد اتر گئی تھی ، ہم آپ کے گرد بیٹھ کر رونے لگے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عباس بن فضل انصاری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عباس بن فضل انصاری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9361
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : ضَمَّرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْخَيْلَ وَوَقَّتَ لِإِضْمَارِهَا وَقْتًا وَقَالَ : " يَوْمُ كَذَا وَكَذَا مَوْضِعُ كَذَا وَكَذَا " . وَأَرْسَلَ الْخَيْلَ الَّتِي لَيْسَتْ بِمُضَمَّرَةٍ مِنْ دُونِ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ حِبَّانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑوں کی تربیت کروائی اور ان کی تربیت کے لئے مخصوص وقت مقرر کیا پھر یہ فرمایا : فلاں فلاں دن فلاں فلاں علاقے میں ( ان کا مقابلہ ہو گا ) اور جن گھوڑوں کی تربیت نہیں کی گئی تھی ان کے مقابلے کی حد اس سے کم تھی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی صالح بن حبان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی صالح بن حبان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9362
وَعَنْ عِيَاضٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ : قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ : مَنْ يُرَاهِنِّي ؟ قَالَ شَابٌّ : أَنَا إِنْ لَمْ تَغْضَبْ . قَالَ : فَسَبَقَهُ قَالَ : فَلَقَدْ رَأَيْتُ عَقِيصَتَيْ أَبِي عُبَيْدَةَ تَنْقُزَانِ وَهُوَ خَلْفَهُ عَلَى فَرَسٍ عَرِيٍّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عیاض اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کون میرے ساتھ دوڑ کا مقابلہ کرے گا ؟ ایک نوجوان نے جواب دیا : میں ، اگر آپ غصہ نہ کریں ۔ راوی کہتے ہیں : پھر وہ ان سے سبقت لے گیا ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے بالوں کو دیکھا کہ وہ اُڑ رہے تھے اور وہ ایک گھوڑے کی برہنہ پشت پر اس کے پیچھے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9363
وَعَنْ أَبِي بَلْجٍ قَالَ : رَأَيْتُ لُبَيَّ بْنَ لَبَا الْأَسَدِيَّ وَكَانَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَبَقَ فَرَسٌ لَهُ جَلَّلَهُ بُرْدًا عَدَنِيًّا ، وَرَأَيْتُ عَلَيْهِ ثَوْبَ خَزٍّ وَمِطْرَفًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوبلج بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا لبی بن لبا اسدی رضی اللہ عنہ کو دیکھا ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا تھا ، ان کا گھوڑا سبقت لے گیا ، انہوں نے اس پر اونی چادر ڈالی ہوئی تھی اور میں نے ان صاحب کو دیکھا کہ ان کے جسم پر اونی اور نشان والا کپڑا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔