حدیث نمبر: 9305
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ قَالَ : إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً فِي سَفَرٍ فَأَمِّرُوا عَلَيْكُمْ أَحَدَكُمْ ، ذَاكَ أَمِيرٌ أَمَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عَمَّارَ بْنَ خَالِدٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب تم تین افراد سفر میں ہوں ، تو اپنے میں سے ایک فرد کو اپنے اوپر امیر مقرر کر لو یہ وہ امیر ہو گا جسے اللہ کے رسول نے امیر قرار دیا ہے یا یہ وہ امیر ہو گا ، جس کے بارے اللہ کے رسول نے حکم دیا ہے ) ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال میں صرف عمار بن خالد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال میں صرف عمار بن خالد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 9306
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا سَافَرْتُمْ فَلْيَؤُمَّكُمْ أَقُرَؤُكُمْ وَإِنْ كَانَ أَصْغَرَكُمْ ، فَإِذَا أَمَّكُمْ فَهُوَ أَمِيرُكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم لوگ سفر کرو تو جو قرآن کا سب سے بڑا عالم ہو وہ تمہاری امامت کرے خواہ وہ تم سے عمر میں سب سے کم ہو اور جب وہ تمہاری امامت کرے گا ، تو وہ تمہارا امیر بھی ہو گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 9307
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً فَلَا يَتَنَاجَ اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ ، وَإِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً فِي سَفَرٍ فَلْيُؤَمِّرُوا أَحَدَهُمْ " . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ : " لَا يَتَنَاجَ اثْنَانِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عُبَيْسَ بْنَ مَرْحُومٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب وہ تین افراد ہوں ، تو تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی میں بات نہ کریں اور جب سفر میں تین افراد ہوں ، تو وہ اپنے میں سے کسی ایک کو امیر بنا لیں“ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس صحابی کے حوالے سے ” صحیح “ میں یہ حدیث مذکور ہے : دو آدمی سرگوشی میں بات نہ کریں “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال میں صرف عبیس بن مرحوم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال میں صرف عبیس بن مرحوم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 9308
وَعَنْ عَبْدَ اللَّهِ قَالَ : إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً فِي سَفَرٍ فَأَمِّرُوا عَلَيْكُمْ أَحَدَكُمْ وَلَا يَتَنَاجَ اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب تم سفر میں تین افراد ہو ، تو اپنے میں سے کسی ایک کو اپنے اوپر امیر بنا لو ، اور دو آدمی اپنے ساتھی ( یعنی تیسرے فرد ) کو چھوڑ کر سرگوشی میں بات نہ کریں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔