کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جو شخص ہجرت نہ کرے اور دین اور اس کے احکام کو قائم رکھے
حدیث نمبر: 9303
عَنْ صَالِحِ بْنِ بَشِيرِ بْنِ فُدَيْكٍ قَالَ : خَرَجَ فُدَيْكٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ مَنْ لَمْ يُهَاجِرْ هَلَكَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَقِمِ الصَّلَاةَ وَآتِ الزَّكَاةَ وَاهْجُرِ السُّوءَ وَاسْكُنْ مِنْ أَرْضِ قَوْمِكَ حَيْثُ شِئْتَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ صَالِحَ بْنَ بَشِيرٍ أَرْسَلَهُ ، وَلَمْ يَقُلْ عَنْ فُدَيْكٍ . ¤
محمد محی الدین
صالح بن بشیر بن فدیک بیان کرتے ہیں سیدنا فدیک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! لوگ یہ کہتے ہیں : جو شخص ہجرت نہیں کرتا وہ ہلاکت کا شکار ہو گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نماز قائم کرو زکوۃ ادا کرو برائی سے لاتعلق رہو اور اپنی قوم کے علاقے میں رہائش پذیر رہو جہاں تم چاہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کے رجال ثقہ ہیں البتہ صالح بن بشیر نے اسے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کیا ہے انہوں نے یہ نہیں کہا: کہ یہ سیدنا فدیک رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9303
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ مرسل
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (336/18)»
حدیث نمبر: 9304
وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْأَرْضُ أَرْضُ اللَّهِ وَالْعِبَادُ عِبَادُ اللَّهِ فَحَيْثُ وَجَدَ أَحَدَكُمْ خَيْرًا فَلْيَتَّقِ اللَّهَ وَلْيُقِمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ساری زمین اللہ کی زمین ہے اور سارے بندے اللہ کے بندے ہیں ، تم میں سے جو شخص جہاں بھلائی پائے وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے وہاں مقیم ہو جائے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9304
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (250)»