کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: مہاجر کے ایسی سرزمین پر مرنے کا ناپسندیدہ ہونا جہاں سے وہ نکل گیا تھا
حدیث نمبر: 9291
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا دَخَلَ مَكَّةَ قَالَ : " اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ مَنَايَانَا بِهَا حَتَّى تُخْرِجَنَا مِنْهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا مُحَمَّدَ بْنَ رَبِيعَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں داخل ہوئے تو آپ نے فرمایا : ” اے اللہ ! تو ہمیں یہاں موت نہ دینا تو ہمیں یہاں سے نکال دینا “ ۔
یہ روایت امام أحمد امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف محمد بن ربیعہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف محمد بن ربیعہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 9292
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : مَرِضَ سَعْدٌ بِمَكَّةَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعُودُهُ فَقَالَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَسْتَ تَكْرَهُ أَنْ يَمُوتَ الرَّجُلُ فِي الْأَرْضِ الَّتِي هَاجَرَ مِنْهَا ؟ قَالَ : " بَلَى وَلَعَلَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يَرْفَعُكَ فَيَنْصُرُ بِكَ قَوْمًا وَيَنْفَعُ آخَرِينَ بِكَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا مُحَمَّدَ بْنَ عُمَرَ بْنِ هَيَّاجٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا سعد رضی اللہ عنہ مکہ میں بیمار ہو گئے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کرنے کے لئے ان کے پاس تشریف لائے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ اس بات کو ناپسند نہیں کرتے ہیں کہ آدمی اس جگہ پر مر جائے کہ جہاں سے وہ ہجرت کر کے چلا گیا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! اللہ تعالیٰ تمہیں بلند مرتبہ نصیب کرے گا ، اور تمہارے ذریعے کچھ لوگوں کی مدد کرے گا ، اور تمہارے ذریعے کچھ دوسرے لوگوں کو نفع پہنچائے گا “ ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف محمد بن عمر بن ہیاج کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف محمد بن عمر بن ہیاج کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔