کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان ، جو اُمراء کے جھوٹ کی تصدیق کرتا ہے اور ان کے ظلم میں ان کی مدد کرتا ہے
حدیث نمبر: 9261
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَكُونُ أُمَرَاءُ يَغْشَاهُمْ غَوَاشٍ وَحَوَاشٍ مِنَ النَّاسِ ، يَكْذِبُونَ وَيَظْلِمُونَ ، فَمَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ ، وَمَنْ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهِمْ وَيُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَيُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ وَزَادَ : " فَأَنَا مِنْهُ بَرِيءٌ وَهُوَ مِنِّي بَرِيءٌ " . ¤ وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ الْقُرَشِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ایسے حکمران آئیں گے ، جن کے پاس ہر قسم کے لوگ موجود ہوں گے ، وہ لوگ جھوٹ بولیں گے اور ظلم کریں گے ، جو شخص اُن کے پاس جا کر اُن کے جھوٹ کی تصدیق کرے اور ان کے ظلم میں ان کی مدد کرے گا ، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہو گا اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہو گا اور جو شخص ان کے پاس نہ جائے اور ان کے جھوٹ کی تصدیق نہ کرے اور ان کے ظلم میں مدد نہ کرے ، اُس کا مجھ سے تعلق ہو گا اور میرا اس سے تعلق ہو گا“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” میں اُس سے لاتعلق ہوؤں گا اور وہ مجھ سے لاتعلق ہو گا“ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ابوسلیمان قرشی ہے اور میں اُس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9261
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (1187 و 1286) اخرجه احمد فى المسند (24/3)»
حدیث نمبر: 9262
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَيَكُونُ بَعْدِي عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ ، يَأْمُرُونَكُمْ بِمَا لَا يَفْعَلُونَ ، فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ وَلَنْ يَرِدَ عَلَيَّ الْحَوْضَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : خَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفِي الْمَسْجِدِ تِسْعَةُ نَفَرٍ - أَرْبَعَةٌ مِنَ الْمَوَالِي وَخَمْسَةٌ مِنَ الْعَرَبِ - فَقَالَ : " إِنَّهَا سَتَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ فَمَنْ أَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ وَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَغَشِي أَبْوَابَهُمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ وَلَنْ يَرِدَ عَلَيَّ الْحَوْضَ ، وَمَنْ لَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ وَلَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَسَيَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ " . ¤ وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ قُعَيْسٍ ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے بعد عنقریب تم پر ایسے حکمران آئیں گے ، جو تمہیں ان کاموں کا حکم دیں گے ، جو وہ خود نہیں کرتے ہوں گے ، جو شخص ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے اور ان کے ظلم میں ان کی مدد کرے گا ، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہو گا اور میرا اُس سے کوئی تعلق نہیں ہو گا اور وہ حوض پر ، میرے پاس نہیں آ سکے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، اس وقت مسجد میں ، نو افراد موجود تھے ، جن میں سے چار کا تعلق موالی سے تھا اور پانچ کا تعلق عربوں سے تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عنقریب تم پر ایسے حکمران آئیں گے کہ جو شخص اُن کے ظلم میں ان کی مدد کرے گا اور ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے گا اور اُن کے دروازوں پر جائے گا ، اُس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہو گا ، اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہو گا اور وہ حوض پر میرے پاس نہیں آ سکے گا ، اور جو شخص اُن کے ظلم میں ان کی مدد نہیں کرے گا اور اُن کے جھوٹ کے حوالے سے اُن کی تصدیق نہیں کرے گا ، اُس کا مجھ سے تعلق ہو گا ، اور میرا اُس سے تعلق ہو گا اور وہ عنقریب حوض پر میرے پاس آ جائے گا “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن قعیس ہے ، جسے ابوحاتم نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9262
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1608) اخرجه احمد فى المسند (5702)»
حدیث نمبر: 9263
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ : " أَعَاذَكَ اللَّهُ مِنْ إِمَارَةِ السُّفَهَاءِ " . قَالَ : وَمَا إِمَارَةُ السُّفَهَاءِ ؟ قَالَ : " أُمَرَاءُ يَكُونُونَ بَعْدِي لَا يَهْتَدُونَ بِهَدْيِي وَلَا يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِي فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَأُولَئِكَ لَيْسُوا مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُمْ وَلَا يَرِدُونَ عَلَى حَوْضِي وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَيُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَأُولَئِكَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ وَسَيَرِدُونَ عَلَى حَوْضِي . ¤ يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ الصِّيَامُ جَنَّةٌ ، وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ ، وَالصَّلَاةُ قُرْبَانٌ - أَوْ قَالَ : بُرْهَانٌ . ¤ يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ النَّاسُ غَادِيَانِ فَمُبْتَاعُ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَوْ بَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُوبِقُهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَزَادَ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ لَحْمٌ نَبَتَ مَنْ سُحْتٍ ، النَّارُ أَوْلَى بِهِ " . ¤ وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ تمہیں بے وقوفوں کی حکومت سے بچا کے رکھے ! انہوں نے دریافت کیا : بے وقوفوں کی حکومت سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کچھ حکمران ، جو میرے بعد ہوں گے ، وہ میری ہدایت کی پیروی نہیں کریں گے ، میری سنت کی پیروی نہیں کریں گے ، جو شخص اُن کے جھوٹ کے حوالے سے ان کی تصدیق کرے گا اور ان کے ظلم کے بارے میں ان کی مدد کرے گا ، تو ایسے لوگوں کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہو گا اور میرا اُن سے کوئی تعلق نہیں ہو گا ، اور وہ میرے حوض پر نہیں آئیں گے اور جو شخص ان کے جھوٹ میں ان کی تصدیق نہیں کرے گا اور ان کے ظلم میں ان کی مدد نہیں کرے گا ، تو ایسے لوگوں کا مجھ سے تعلق ہو گا اور میرا اُن سے تعلق ہو گا اور وہ لوگ عنقریب میرے حوض پر آئیں گے “ ۔ اے کعب بن عجرہ ! روزہ ، ڈھال ہے ، اور صدقہ ، گناہ کو بجھا دیتا ہے ، نماز ، قربت کے حصول کا باعث ہے ، ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) برہان ہے ۔ اے کعب بن عجرہ ! لوگ دو قسم کی حالت میں ہوتے ہیں کوئی شخص اپنے آپ کو خرید کر ، خود کو آزاد کروا دیتا ہے اور کوئی اپنے آپ کو فروخت کر کے ، خود کو ہلاکت کا شکار کر دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” ایسا گوشت جنت میں داخل نہیں ہو گا ، جس کی نشو و نما حرام کے ذریعے ہوئی ہو ، آگ اس کی زیادہ حقدار ہے “ ۔ ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9263
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1609) اخرجه أبو يعلى فى المسند (1999) اخرجه احمد فى المسند (321/3)»
حدیث نمبر: 9264
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ بَعْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ فَرَفَعَ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ خَفَّضَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ قَدْ حَدَثَ فِي السَّمَاءِ شَيْءٌ ، فَقَالَ : " أَلَا إِنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ يَظْلِمُونَ وَيَكْذِبُونَ ، فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَمَالَأَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَا أَنَا مِنْهُمْ وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَلَمْ يُمَالِئْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ ، أَلَا وَإِنَّ دَمَ الْمُسْلِمِ كَفَّارَةٌ ، أَلَا وَإِنَّ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ هُنَّ الْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ " . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الْبَاقِيَاتِ الصَّالِحَاتِ غَيْرُ هَذَا رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، ہم اُس وقت عشاء کی نماز کے بعد مسجد میں موجود تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نگاہ اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا ، پھر اسے جھکا لیا ، یہاں تک کہ ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آسمان میں کوئی چیز رونما ہوئی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عنقریب میرے بعد ایسے حکمران آئیں گے ، جو ظلم کریں گے اور جھوٹ بولیں گے ، جو شخص اُن کے جھوٹ میں ان کی تصدیق کرے گا اور ان کے ظلم میں ان کی مدد کرے گا ، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہو گا اور میرا اُس سے کوئی تعلق نہیں ہو گا ، اور جو شخص ان کے جھوٹ میں ان کی تصدیق نہیں کرے گا ، اور ان کے ظلم میں ان کا ساتھ نہیں دے گا ، اُس کا مجھ سے تعلق ہو گا اور میرا اُس سے تعلق ہو گا ، خبردار ! مسلمان کا خون ، کفارہ ہے ، خبر دار ! سبحان اللہ ، الحمدللہ ، لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر پڑھنا ، باقی رہنے والی نیکیاں ہیں“ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ، باقی رہنے والی نیکیوں کے بارے میں ، ایک حدیث منقول ہے ، جو اس روایت کے علاوہ ہے اور اسے امام ابن ماجہ نے نقل کیا ہے ،
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9264
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (267/4)»
حدیث نمبر: 9265
وَعَنْ حُذَيْفَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّهُ سَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يَظْلِمُونَ وَيَكْذِبُونَ فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ وَلَا يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ ، وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَلَمْ يُعْنِهُمْ فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَسَيَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ الْبَزَّارِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ كَذَلِكَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” عنقریب تم پر ایسے حکمران آئیں گے ، جو تم پر ظلم کریں گے اور جھوٹ بولیں گے ، جو شخص ان کے جھوٹ کے حوالے سے ان کی تصدیق کرے گا ، اور ان کے ظلم کے بارے میں ان کی مدد کرے گا ، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہو گا “ اور میرا اُس سے کوئی تعلق نہیں ہو گا ، اور وہ شخص حوض پر میرے پاس نہیں آئے گا ، اور جو شخص اُن کے جھوٹ کے حوالے سے اُن کی تصدیق نہیں کرے گا ، اور ان کی ( ظلم میں ) مدد نہیں کرے گا ، اس کا مجھ سے تعلق ہو گا ، اور میرا اُس سے تعلق ہو گا ، اور وہ عنقریب حوض پر میرے پاس آئے گا “ ۔ یہ راویت امام أحمد ، امام بزار ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام بزار کی اسانید میں سے ، ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، اور امام أحمد کے رجال کا معاملہ بھی اسی طرح ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9265
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1607 و 1606) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3019) اخرجه احمد فى المسند (384/5)»
حدیث نمبر: 9266
وَعَنْ خَبَّابٍ قَالَ : كُنَّا قُعُودًا عِنْدَ بَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ : " أَتَسْمَعُونَ ؟ " قُلْنَا : قَدْ سَمِعْنَا - مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا - قَالَ : " إِنَّهُ سَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ فَلَا تُصَدِّقُوهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَلَا تُعِينُوهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ ، فَإِنَّهُ مَنْ صَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسَ يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ خَبَّابٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خباب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے فرمایا : کیا تم لوگ سنتے ہو ؟ ہم نے عرض کی : ہم سن رہے ہیں یہ مکالمہ دو یا شاید تین مرتبہ ہوا پھر آپ نے فرمایا : ” عنقریب تم پر ایسے حکمران آئیں گے کہ تم ان کے جھوٹ کے بارے میں ان کی تصدیق نہ کرنا اور ان کے ظلم کے بارے میں ان کی مدد نہ کرنا ، کیونکہ جو شخص ان کے جھوٹ کے حوالے سے ان کی تصدیق کرے گا ، اور ان کے ظلم کے بارے میں ان کی مدد کرے گا وہ حوض پر میرے پاس نہیں آئے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عبداللہ بن خباب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9266
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3627) اخرجه احمد فى الپسند (395/6)»