کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حکمرانوں کے سامنے بات کرنا
حدیث نمبر: 9259
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ حَضَرَ إِمَامًا فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ فَلْيَسْكُتْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ ، وَابْنُ عَدِيٍّ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص حکمران کے پاس موجود ہو ، وہ بھلائی کی بات کرے ، ورنہ خاموش رہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح بن محمد بن زیاد ہے ، جسے امام أحمد اور ابن عدی نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9259
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 9260
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ لَا تَدْخُلَنَّ عَلَى الْأُمَرَاءِ ، فَإِنْ غُلِبْتَ عَلَى ذَلِكَ فَلَا تُجَاوِزْ سُنَّتِي وَلَا تَخَافَنَّ سَيْفَهُ وَسَوْطَهُ أَنْ تَأْمُرَهُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ هَذَا الْبَابُ وَفِيهِ أَحَادِيثُ غَيْرُ هَذَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے ابوہریرہ ! تمام امراء کے پاس ہرگز نہ جانا ، اگر تم مجبور ہو جاؤ ، تو میری سنت سے تجاوز نہ کرنا ، اور حکمران کی تلوار ، یا اُس کا کوڑا ، اُس سے یوں خوفزدہ نہ ہونا کہ تم انہیں اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے کا حکم نہ دو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم ہے اور وہ ضعیف ہے اس سے پہلے باب گزر چکا ہے ، جس میں اس کے علاوہ احادیث موجود ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9260
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف