کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان جو اُمراء کو دکھاوا کرے
حدیث نمبر: 9267
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : أَخْبَرَنِي أَعْرَابِيٌّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا أَخَافُ عَلَى قُرَيْشٍ إِلَّا أَنْفُسَهَا " . قُلْتُ : مَا لَهُمْ ؟ قَالَ : " أَشِحَّةٌ بَجَرَةٌ ، وَإِنْ طَالَ بِكَ عُمُرٌ لَتَنْظُرَنَّ إِلَيْهِمْ يَفْتِنُونَ النَّاسَ ، حَتَّى يُرَى النَّاسُ بَيْنَهُمْ كَالْغَنَمِ بَيْنَ الْحَوْضَيْنِ إِلَى هَذَا مَرَّةً وَإِلَى هَذَا مَرَّةً " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا بِلَالَ بْنَ يَحْيَى الْعَبْسِيَّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤ وَلَهُ طَرِيقٌ طَوِيلَةٌ فِي الْخَصَائِصِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نے مجھے یہ بات بتائی کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” مجھے قریش کے حوالے سے صرف ان کی اپنی ذات کے حوالے سے اندیشہ ہے میں نے دریافت کیا : انہیں کیا ہو گا ؟ آپ نے فرمایا : وہ کنجوس ہوں گے اور بڑے پیٹ والے ہوں گے ( یعنی مال اکٹھا کریں گے ) اگر تمہاری عمر طویل ہوئی تو تم ان لوگوں کو دیکھو گے کہ وہ لوگوں کو آزمائش کا شکار کریں گے ، یہاں تک کہ ان کے درمیان لوگ یوں دکھائیں دے گے ، جس طرح دو حوضوں کے درمیان بکری ہوتی ہے ، جو کبھی ادھر جاتی ہے اور کبھی ادھر جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف بلال بن یحیی عبسی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔ اس روایت کا ایک اور طریق طویل ہے ، جو ” خصائص “ سے متعلق باب میں آئے گا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9267
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (66/4)»
حدیث نمبر: 9268
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنِّي لَا أَخْشَى عَلَى قُرَيْشٍ إِلَّا أَنْفُسَهَا " . قُلْتُ : وَمَا هُوَ ؟ قَالَ : " أَشِحَّةٌ بَجَرَةٌ إِنْ طَالَ بِكَ عُمُرٌ رَأَيْتَهُمْ يَفْتِنُونَ النَّاسَ ، حَتَّى يُرَى النَّاسُ بَيْنَهُمْ كَالْغَنَمِ بَيْنَ الْحَوْضَيْنِ مَرَّةً إِلَى هَذَا وَمَرَّةً إِلَى هَذَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مجھے قریش کے بارے میں صرف ان کی اپنی ذات کے حوالے سے اندیشہ ہے میں نے دریافت کیا : وہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ کنجوس ہوں گے اور بڑے پیٹ والے ہوں گے ( یعنی مال اکٹھا کریں گے ) اگر تمہاری عمر طویل ہوئی تو تم ان لوگوں کو دیکھو گے کہ وہ دوسرے لوگوں کو آزمائش کا شکار کریں گے ، یہاں تک کہ ( دوسرے ) لوگ ان ( قریش ) کے درمیان یوں دکھائی دیں گے جیسے دو حوضوں کے درمیان بکری ہوتی ہے ، جو کبھی ادھر جاتی ہے اور کبھی ادھر جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9268
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (240/18)»