کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: جماعت کے ساتھ رہنا حکمرانوں کی اطاعت کرنا اور ان کے ساتھ جنگ کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 9090
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ عَبَدَ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا فَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَسَمِعَ وَأَطَاعَ، فَإِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يُدْخِلُهُ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ وَلَهَا ثَمَانِيَةُ أَبْوَابٍ . ¤ وَمَنْ عَبَدَ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ، وَسَمِعَ وَعَصَى فَإِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - مِنْ أَمْرِهِ بِالْخِيَارِ، إِنْ شَاءَ رَحِمَهُ وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائے نماز قائم کرے زکوۃ ادا کرے اطاعت و فرمانبرداری سے کام لے ، تو اللہ تعالیٰ اسے جنت کے جس بھی دروازے سے وہ چاہے گا اسے داخل کر دے گا ، اور جنت کے آٹھ دروازے ہیں اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائے نماز قائم کرے زکوۃ ادا کرے لیکن نافرمانی کرے ، تو اللہ تعالیٰ کو اس کے بارے میں اختیار ہو گا ، اگر وہ چاہے گا ، تو اس پر رحم کر دے گا ، اور اگر چاہے گا ، تو اسے عذاب دے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9091
وَعَنْ رَجُلٍ قَالَ : كُنَّا قَدْ حَمَلْنَا لِأَبِي ذَرٍّ شَيْئًا نُرِيدُ أَنْ نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ فَأَتَيْنَا الرَّبَذَةَ فَسَأَلْنَا عَنْهُ فَلَمْ نَجِدْهُ قِيلَ : اسْتَأْذَنَ فِي الْحَجِّ فَأُذِنَ لَهُ ، فَأَتَيْنَاهُ بِالْبَلَدِ - وَهِيَ مِنًى - فَبَيْنَا نَحْنُ عِنْدَهُ إِذْ قِيلَ لَهُ : إِنَّ عُثْمَانَ صَلَّى أَرْبَعًا فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ ، وَقَالَ قَوْلًا شَدِيدًا وَقَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، وَصَلَّيْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ، ثُمَّ قَامَ أَبُو ذَرٍّ فَصَلَّى أَرْبَعًا فَقِيلَ لَهُ : عِبْتَ عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ شَيْئًا ثُمَّ تَصْنَعُهُ ؟ قَالَ : الْخِلَافُ أَشَدُّ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَطَبَنَا وَقَالَ : " إِنَّهُ كَائِنٌ بِعْدِي سُلْطَانٌ فَلَا تُذِلُّوهُ فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُذِلَّهُ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ ، وَلَيْسَ بِمَقْبُولٍ مِنْهُ تَوْبَةٌ حَتَّى يَسُدَّ ثُلْمَتَهُ وَلَيْسَ بِفَاعِلٍ ، ثُمَّ يَعُودُ فَيَكُونُ فِيمَنْ يُعَزِّرُهُ " . ¤ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ( أَنْ ) لَا تَغْلِبُونَا عَلَى ثَلَاثٍ : ( أَنْ ) نَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ ، وَنَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ ، وَنُعَلِّمُ النَّاسَ السُّنَنَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک صاحب بیان کرتے ہیں : ہم سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے لئے کچھ سامان لاد کر گئے ہمارا یہ ارادہ تھا کہ یہ انہیں دیں گے ، جب ہم ربذہ آئے ، اور ان کے بارے میں دریافت کیا : ، تو وہ ہمیں نہیں ملے اور ہمیں یہ بتایا گیا کہ وہ حج کے لئے تشریف لے گئے ہیں ہم شہر آ گئے یعنی منی آ گئے ، ایک مرتبہ ہم ان کے پاس موجود تھے انہیں بتایا گیا : سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے چار رکعت ادا کر لیں ہیں ، تو انہوں نے شدید ناگواری کا اظہار کیا اور اس بارے میں انہوں نے سخت کلمات کہے ، اور یہ بات بیان کی میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت ادا کی تھیں اور میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں نماز ادا کی ہے ( انہوں نے بھی دو رکعت ہی ادا کی تھیں ) پھر سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، اور انہوں نے چار رکعت ادا کر لیں ان سے کہا: گیا آپ نے پہلے امیرالمؤمنین پر اس حوالے سے اعتراض کیا تھا ، اور پھر خود وہی کام کر لیا ہے ، تو انہوں نے فرمایا : ( حاکم وقت سے ) اختلاف کرنا زیادہ شدت والا کام ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” میرے بعد حکمران ہوں گے ، تم انہیں ذلت کا شکار نہ کرنا جو شخص انہیں ذلت کا شکار کرنے کا ارادہ کرے گا وہ اپنی گردن سے اسلام کا پٹہ اتار دے گا ایسے شخص کی ، توبہ قبول نہیں ہو گی جب تک وہ اپنے بنائے ہوئے شگاف کو پر نہیں کرتا اور وہ ایسا نہیں کر سکے گا اور پھر وہ شخص واپس آئے ، اور ان لوگوں میں شامل ہو جائے جو اس حکمران کا ساتھ دیتے ہیں “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ ہم تین چیزوں کے حوالے سے مغلوب نہ ہوں ہم نیکی کا حکم دیں ہم برائی سے منع کریں اور لوگوں کو سنتوں کی تعلیم دیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9092
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ عَمِلَ لِلَّهِ فِي الْجَمَاعَةِ فَأَصَابَ، قَبِلَ اللَّهُ مِنْهُ وَإِنْ أَخْطَأَ غَفَرَ لَهُ ، وَمَنْ عَمِلَ يَبْتَغِي الْفُرْقَةَ فَأَصَابَ لَمْ يَتَقَبَّلِ اللَّهُ وَإِنْ أَخْطَأَ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ خُلَيْدٍ الْحَنَفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص جماعت میں رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے لئے عمل کرتا ہے ، اور وہ درست کام کرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کا عمل قبول کرے گا ، اور اگر اس نے غلطی کی ہو گی ، تو اس کی مغفرت کر دے گا ، اور جو شخص ( مسلمانوں میں ) علیحدگی پیدا کرنے کے لئے کوئی کام کرتا ہے اگرچہ وہ کام ٹھیک ہو پھر بھی اللہ تعالیٰ اسے قبول نہیں کرے گا ، اور اگر اس نے غلطی کی ہو گی ، تو اسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لئے تیار رہنا چاہیے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن خلید حنفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے
یہ روایت امام بزار نے ضعیف سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن خلید حنفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے
یہ روایت امام بزار نے ضعیف سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 9093
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ السَّامِعَ الْمُطِيعَ لَا حُجَّةَ عَلَيْهِ وَإِنَّ السَّامِعَ الْعَاصِي لَا حُجَّةَ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : خَطَّ أَبِي عَلَى هَذِهِ الزِّيَادَةِ فَلَا أَدْرِي قَرَأَهَا عَلَيَّ أَمْ لَا ؟ وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا جَبْلَةَ بْنَ عَطِيَّةَ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤ وَ
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ” سننے والا اور اطاعت کرنے والا ، اس کے خلاف کوئی حجت نہیں ہو گی اور سننے والا اور نافرمانی کرنے والا اس کے حق میں کوئی حجت نہیں ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام أحمد نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ۔ عبداللہ کہتے ہیں : میرے والد نے اس اضافے پر لکیر لگا دی تھی مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے میرے سامنے اس کو پڑھا تھا یا نہیں پڑھا تھا ان دونوں روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ جبلہ بن عطیہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام أحمد نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ۔ عبداللہ کہتے ہیں : میرے والد نے اس اضافے پر لکیر لگا دی تھی مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے میرے سامنے اس کو پڑھا تھا یا نہیں پڑھا تھا ان دونوں روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ جبلہ بن عطیہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 9094
عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : أَرَاهُ أَبَا مَالِكٍ الْأَشْعَرِيَّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَأَنَا آمُرُكُمْ بِخَمْسٍ : آمُرُكُمْ بِالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ ، وَالْجَمَاعَةِ ، وَالْهِجْرَةِ ، وَالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَمَنْ خَرَجَ مِنَ الْجَمَاعَةِ قِيدَ شِبْرٍ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ رَأَسِهِ ، وَمَنْ دَعَا دُعَاءَ جَاهِلِيَّةٍ فَهُوَ مِنْ جَثَا جَهَنَّمَ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى ؟ قَالَ : " وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى ، وَلَكِنْ تَسَمَّوْا بِاسْمِ اللَّهِ الَّذِي سَمَّاكُمُ ( عِبَادَ اللَّهِ ) الْمُسْلِمِينَ الْمُؤْمِنِينَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عَلِيَّ بْنَ إِسْحَاقَ السُّلَمِيَّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " فَمَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ قِيدَ قَوْسٍ لَمْ تُقْبَلْ مِنْهُ صَلَاةٌ وَلَا صِيَامٌ ، وَأُولَئِكَ هُمْ وَقُودُ النَّارِ " . ¤
محمد محی الدین
ابوسلام ممطور ایک صحابی کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میرا خیال ہے وہ سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ ہیں وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں تمہیں پانچ چیزوں کا حکم دیتا ہوں میں تمہیں اطاعت و فرمانبرداری کرنے جماعت کے ساتھ رہنے ہجرت کرنے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کا حکم دیتا ہوں جو شخص جماعت سے ایک بالشت نکل جائے گا وہ اپنے سر سے اسلام کا پٹہ الگ کر دے گا ، اور جو شخص زمانہ جاہلیت کی طرح پکارے گا ، تو وہ جہنم میں جائے گا لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگرچہ وہ روزہ رکھتا ہو اور نماز پڑھتا ہو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگرچہ وہ روزہ رکھتا ہو اور نماز پڑھتا ہو لیکن تم اپنے آپ کو اس نام سے پکارو جو اللہ تعالیٰ نے تمہارا نام رکھا ہے اس نے تمہیں اللہ کے بندوں ، مسلمانوں اور مؤمنوں کا نام دیا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں اور صبح کے رجال ہیں صرف علی بن اسحاق سلمی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے
یہ روایت امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” جو شخص جماعت سے ایک کمان جتنا الگ ہو گا اس کی کوئی نماز یا روزہ قبول نہیں ہو گا ، اور یہی لوگ جہنم کا ایندھن ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں اور صبح کے رجال ہیں صرف علی بن اسحاق سلمی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے
یہ روایت امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” جو شخص جماعت سے ایک کمان جتنا الگ ہو گا اس کی کوئی نماز یا روزہ قبول نہیں ہو گا ، اور یہی لوگ جہنم کا ایندھن ہوں گے “ ۔
حدیث نمبر: 9095
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " آمُرُكُمْ بِثَلَاثٍ ( وَأَنْهَاكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ ) : آمُرُكُمْ أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا ، وَأَنْ تَعْتَصِمُوا بِالطَّاعَةِ جَمِيعًا حَتَّى يَأْتِيَكُمْ أَمْرٌ مِنَ اللَّهِ وَأَنْتُمْ عَلَى ذَلِكَ ، وَأَنْ تَنَاصَحُوا وُلَاةَ الْأَمْرِ ( مِنَ ) الَّذِينَ يَأْمُرُونَكُمْ ( بِأَمْرِ اللَّهِ ) . وَأَنْهَاكُمْ عَنْ قِيلٍ وَقَالَ وَكَثْرَةِ السُّؤَالِ وَإِضَاعَةِ الْمَالِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ بَكْرِ بْنِ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيِّ قَالَ الذَّهَبِيُّ : مُقَارِبُ الْحَالِ ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ حَدِيثُهُمْ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں تمہیں تین چیزوں کا حکم دیتا ہوں ، اور میں تمہیں تین چیزوں سے منع کرتا ہوں میں تمہیں یہ حکم دیتا ہوں کہ تم کسی کو اللہ کا شریک قرار نہ دو اور تم سب اطاعت کو مضبوطی سے تھام لو ! یہاں تک کہ تمہارے پاس اللہ کا حکم آ جائے ، اور تم اسی حالت میں ہو اور تم حکمرانوں کی خیرخواہی کرو ان لوگوں کی جو تمہیں اللہ کے حکم کے مطابق حکم دیتے ہیں اور میں تمہیں قیل و قال کرنے بکثرت ( غیر ضروری ) سوالات کرنے اور مال ضائع کرنے سے منع کرتا ہوں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد بکر بن سہل دمیاطی سے نقل کی ہے ۔ امام ذہبی کہتے ہیں : یہ مقارب الحال ہے امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد بکر بن سہل دمیاطی سے نقل کی ہے ۔ امام ذہبی کہتے ہیں : یہ مقارب الحال ہے امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 9096
وَعَنْ رَجُلٍ قَالَ : انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَقُولُ : " أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ وَإِيَّاكُمْ وَالْفُرْقَةَ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ زَكَرِيَّا بْنُ سَلَّامٍ عَنْ أَبِيهِ وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا . ¤
محمد محی الدین
ایک صاحب بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ یہ فرما رہے تھے : ” اے لوگو ! تم پر جماعت کے ساتھ رہنا لازم ہے ، اور تم پر علیحدگی سے بچنا لازم ہے “ ۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں یہ بات مذکور ہے زکریا بن سلام نے اپنے والد کے حوالے سے اسے نقل کیا ہے میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں یہ بات مذکور ہے زکریا بن سلام نے اپنے والد کے حوالے سے اسے نقل کیا ہے میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 9097
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى هَذِهِ الْأَعْوَادِ - أَوْ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ - : " مَنْ لَمْ يَشْكُرِ الْقَلِيلَ لَمْ يَشْكُرِ الْكَثِيرَ وَمَنْ لَمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرِ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - ، وَالتَّحَدُّثُ بِنِعْمَةِ اللَّهِ شُكْرٌ وَتَرْكُهَا كُفْرٌ ، وَالْجَمَاعَةُ رَحْمَةٌ وَالْفُرْقَةُ عَذَابٌ " . ¤ قَالَ : فَقَالَ أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ : عَلَيْكُمْ بِالسَّوَادِ الْأَعْظَمِ . قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ : مَا السَّوَادُ الْأَعْظَمُ ؟ فَنَادَى أَبُو أُمَامَةَ هَذِهِ الْآيَةُ الَّتِي فِي سُورَةِ النُّورِ : فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لکڑیوں پر ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس منبر پر یہ بات ارشاد فرمائی : ” جو شخص تھوڑے کا شکر ادا نہیں کرتا وہ زیادہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا جو شخص لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے بارے میں بات چیت کرنا شکر ہے ، اور اس ( نعمت کے اظہار و اعتراف ) کو ترک کرنا کفر ہے ، اور جماعت رحمت ہے ، اور فرقہ بندی عذاب ہے “ ۔ راوی کہتے ہیں : تو سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگوں پر سواد اعظم کے ساتھ رہنا لازم ہے ایک صاحب نے دریافت کیا : سواد اعظم سے مراد کیا ہے ؟ تو سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے بلند آواز میں یہ آیت تلاوت کی جو سورہ نور میں ہے : ” اگر وہ لوگ منہ موڑ لیتے ہیں ، تو اس ( رسول ) کے ذمہ وہ ہے جو اس پر لازم کیا گیا اور تمہارے ذمہ وہ ہے جو تم پر لازم کیا گیا ہے “ ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے اور امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے اور امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9098
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ تَطْمَئِنُّ إِلَيْهِمُ الْقُلُوبُ وَتَلِينُ لَهُمُ الْجُلُودُ ، ثُمَّ يَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ تَشْمَئِزُّ مِنْهُمُ الْقُلُوبُ وَتَقْشَعِرُّ مِنْهُمُ الْجُلُودُ " . فَقَالَ رَجُلٌ : أَنُقَاتِلُهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لَا ، مَا أَقَامُوا الصَّلَاةَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ الْوَلِيدُ صَاحِبُ عَبْدِ اللَّهَ الْبَهِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عنقریب تم پر ایسے حکمران آئیں گے جن سے تمہارے دل مطمئن ہوں گے اور تمہاری کھالیں ان کے لئے نرم ہوں گی پھر ایسے حکمران آئیں گے کہ جن سے تمہارے دل غیر مطمئن ہوں گے اور تمہاری کھالیں ان سے لرزاں ہوں گی ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم ان کے ساتھ جنگ کریں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! جب تک وہ نماز قائم کرتے ہیں ( تم ان کے ساتھ جنگ نہ کرو ) “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوولید ہے جو عبداللہ بہی کا شاگرد ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوولید ہے جو عبداللہ بہی کا شاگرد ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9099
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " اثْنَانِ خَيْرٌ مِنْ وَاحِدٍ ، وَثَلَاثَةٌ خَيْرٌ مِنِ اثْنَيْنِ ، وَأَرْبَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ ثَلَاثَةٍ ، فَعَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَمْ يَجْمَعْ أُمَّتِي إِلَّا عَلَى هُدَى " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ الْبَخْتَرِيُّ بْنُ عُبَيْدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” دو ، ایک سے بہتر ہوتے ہیں اور تین ، دو سے بہتر ہوتے ہیں اور چار ، تین سے بہتر ہوتے ہیں ، تو تم پر جماعت کے ساتھ رہنا لازم ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ میری امت کو صرف ہدایت پر ہی اکٹھا رکھے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بختری بن عبید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بختری بن عبید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9100
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - مَا عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَنْ تَجْتَمِعَ أُمَّتِي عَلَى ضَلَالَةٍ فَعَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ فَإِنَّ يَدَ اللَّهِ عَلَى الْجَمَاعَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، رِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا مَرْزُوقَ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) ” میری امت گمراہی پر اکٹھی نہیں ہو گی تم پر جماعت کے ساتھ رہنا لازم ہے بے شک اللہ تعالیٰ کا دست رحمت جماعت پر ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ ان دو میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں اور صحیح کے رجال ہیں صرف مرزوق کا معاملہ مختلف ہے جو آل طلحہ کا غلام ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ ان دو میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں اور صحیح کے رجال ہیں صرف مرزوق کا معاملہ مختلف ہے جو آل طلحہ کا غلام ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 9101
وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَدُ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - عَلَى الْجَمَاعَةِ ، فَإِذَا شَذَّ الشَّاذُّ مِنْهُمُ اخْتَطَفَهُ الشَّيْطَانُ كَمَا يَخْتَطِفُ الذِّئْبُ الشَّاةَ مِنَ الْغَنَمِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمُسَاوِرِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کا دست رحمت جماعت پر ہوتا ہے ، اور جب ان میں سے کوئی الگ ہونے والا الگ ہوتا ہے ، تو شیطان اسے اچک لیتا ہے جیسے بھیڑیا ، ریوڑ سے الگ ہونے والی بکری کو اچک لیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالاعلیٰ بن ابومساور ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالاعلیٰ بن ابومساور ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9102
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ مَاتَ بِغَيْرِ إِمَامٍ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص امام کے بغیر مر جائے ( یعنی ایسی حالت میں مرے کہ وہ کسی امام کا پیروکار نہ ہو ) تو وہ زمانہ جاہلیت کی موت مرے گا “ ۔
حدیث نمبر: 9103
وَفِي رِوَايَةٍ : " مَنْ مَاتَ وَلَيْسَ فِي عُنُقِهِ بَيْعَةٌ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُمَا ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” جو شخص ایسی حالت میں مرے کہ اس کی گردن میں بیعت نہ ہو ، تو وہ زمانہ جاہلیت کی موت مرے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور ان دونوں کی سند ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور ان دونوں کی سند ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9104
وَعَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ : رَأَيْتُ حُجْرَ بْنَ عَدِيٍّ حِينَ أَخَذَهُ مُعَاوِيَةُ يَقُولُ : هَذِهِ بَيْعَتِي لَا أُقِيلُهَا وَلَا أَسْتَقِيلُهَا سَمَاعَ اللَّهِ وَالنَّاسِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابواسحاق بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں پکڑا تو وہ یہ کہہ رہے تھے : یہ میری بیعت ہے نہ ، تو میں اسے واپس کر رہا ہوں اور نہ ہی میں اس کی واپسی کا مطالبہ کر رہا ہوں ، اور یہ بات اللہ تعالیٰ بھی سن رہا ہے ، اور لوگ بھی سن رہے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9105
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " سَيَلِيكُمْ بَعْدِي وُلَاةٌ فَيَلِيكُمُ الْبَرُّ بِبِرِّهِ ، وَالْفَاجِرُ بِفُجُورِهِ ، فَاسْمَعُوا لَهُمْ وَأَطِيعُوا فِي كُلِّ مَا وَافَقَ الْحَقَّ ، وَصَلُّوا وَرَاءَهُمْ فَإِنْ أَحْسَنُوا فَلَكُمْ وَلَهُمْ وَإِنْ أَسَاؤُوا فَلَكُمْ وَعَلَيْهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” عنقریب میرے بعد کچھ لوگ تمہارے حکمران بنیں گے نیک شخص اپنی نیکی کے ہمراہ اور گناہ گار شخص اپنے گناہ کے ہمراہ تمہارا نگران بنے گا ، تو تم لوگ ان کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا ہر اس چیز کے بارے میں ، جو حق کے مطابق ہو اور ان کے پیچھے نماز ادا کرنا اگر وہ اچھائی کریں گے ، تو تمہیں اس کا بدلہ ملے گا ، اور انہیں بھی اس کا اجر ملے گا ، اور اگر وہ برائی کریں گے ، تو تمہیں اجر مل جائے گا ، اور ان پر و بال ہو گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن یحیی بن عروہ ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن یحیی بن عروہ ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9106
وَعَنْ يُسَيْرِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ أَبَا مَسْعُودٍ لَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ احْتَجَبَ فِي بَيْتِهِ فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ عَنْ أَمْرِ النَّاسِ فَقَالَ : عَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَجْمَعْ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى ضَلَالَةٍ ، وَاصْبِرْ حَتَّى يَسْتَرِيحَ بَرٌّ وَيُسْتَرَاحَ مِنْ فَاجِرٍ . ¤
محمد محی الدین
یسیر بن عمرو بیان کرتے ہیں : جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا تو سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں بیٹھ گئے میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے ان سے لوگوں کی صورتحال کے بارے میں دریافت کیا : ، تو انہوں نے فرمایا : تم پر جماعت کے ساتھ رہنا لازم ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو گمراہی پر جمع نہیں کرے گا تم صبر سے کام لو یہاں تک کہ نیک شخص راحت حاصل کرے یا برے شخص سے راحت حاصل ہو جائے ۔
حدیث نمبر: 9107
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ يَسِيرٍ قَالَ : لَقِيتُ أَبَا مَسْعُودٍ حِينَ قُتِلَ عَلِيٌّ فَتَبِعْتُهُ فَقُلْتُ لَهُ : أَنْشُدُكَ اللَّهَ مَا سَمِعْتَ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْفِتَنِ ؟ فَقَالَ : إِنَّا لَا نَكْتُمُ شَيْئًا ، عَلَيْكَ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالْجَمَاعَةِ ، وَإِيَّاكَ وَالْفُرْقَةَ فَإِنَّهَا هِيَ الضَّلَالَةُ ، وَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَكُنْ لِيَجْمَعَ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى ضَلَالَةٍ . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ هَذِهِ الطَّرِيقَةِ الثَّانِيَةِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یسیر کے حوالے سے یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا تو میری ملاقات سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے ہوئی میں ان کے پیچھے آیا میں نے ان سے دریافت کیا : میں نے کہا: میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں کہ فتنوں کے بارے میں آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سنا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا : ہم کوئی چیز نہیں چھپائیں گے تم پر اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنا اور جماعت کے ساتھ رہنا لازم ہے ، اور تم پر فرقہ بندی سے بچ کے رہنا لازم ہے ، کیونکہ یہ گمراہی ہے اللہ تعالیٰ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو گمراہی پر جمع نہیں کرے گا ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں اور اس دوسرے طریق کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9108
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ ذِئْبُ الْإِنْسَانِ كَذِئْبِ الْغَنَمِ يَأْخُذُ الشَّاةَ الْقَاصِيَةَ وَالنَّاحِيَةَ ، وَإِيَّاكُمْ وَالشِّعَابَ ، وَعَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ وَالْعَامَّةِ وَالْمَسْجِدِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ الْعَلَاءَ بْنَ زِيَادٍ قِيلَ : إِنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” شیطان آدمی کے لئے بھیڑیے کی مانند ہے جس طرح بکریوں کے لیے بھیٹریا ہوتا ہے کہ وہ الگ ہونے والی اور کونے پر موجود بکری کو پکڑ لیتا ہے ، اور تم پر گھاٹیوں میں رہنا لازم ہے ، اور تم پر مختلف گروہوں میں تقسیم ہونے سے بچنا لازم ہے ، اور تم پر جماعت کے ساتھ رہنا عام افراد کے ساتھ رہنا اور مسجد میں آنا لازم ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ علاء بن زیاد کے بارے میں یہ کہا: گیا ہے کہ اس نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ علاء بن زیاد کے بارے میں یہ کہا: گیا ہے کہ اس نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 9109
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا إِنَّ الْجَنَّةَ لَا تَحِلُّ لِعَاصٍ ، وَمَنْ لَقِيَ اللَّهَ نَاكِثًا بَيْعَتَهُ لَقِيَهُ وَهُوَ أَجْذَمُ ، وَمَنْ خَرَجَ مِنَ الْجَمَاعَةِ قِيدَ شِبْرٍ مُتَعَمِّدًا فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ ، وَمَنْ مَاتَ لَيْسَ لِإِمَامِ جَمَاعَةٍ عَلَيْهِ طَاعَةٌ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ وَاقَدٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک جنت کسی گناہ گار کے لئے حلال نہیں ہے ، اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسی حالت میں حاضر ہو کہ اس نے اپنی بیعت ، توڑ دی ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسی حالت میں حاضر ہو گا کہ وہ جذام زدہ ہو گا ، اور جو شخص بالشت بھر جماعت سے نکلے گا ، جب کہ وہ جان بوجھ کر ایسا کرنے والا ہو تو وہ اپنی گردن سے اسلام کا پٹہ الگ کر دے گا ، اور جو شخص ایسی حالت میں مرے کہ وہ کسی امام کا پیروکار نہ ہو جو ( امام ) جماعت ( یعنی مسلمانوں کی جماعت ) کا حکمران ہو تو ایسا شخص زمانہ جاہلیت کی موت مرے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن واقد ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن واقد ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 9110
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَلَا إِنَّ الْجَنَّةَ لَا تَحِلُّ لِعَاصٍ ، مَنْ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ نَاكِثٌ بَيْعَتَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَقِيَهُ وَهُوَ أَجْذَمُ ، وَمَنْ خَرَجَ مِنَ الطَّاعَةِ شِبْرًا فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ ، وَمَنْ أَصْبَحَ لَيْسَ لِأَمِيرِ جَمَاعَةٍ عَلَيْهِ طَاعَةٌ بَعَثَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَعْثَ مَنْ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةٍ ، وَلِوَاءُ غَدْرٍ عِنْدَ اسْتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ رُوَيْبَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے آپ نے ارشاد فرمایا : ” خبردار جنت کسی گناہ گار کے لئے حلال نہیں ہے ، اور جو شخص ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو کہ اس نے اپنی بیعت کو توڑ دیا ہو تو جب قیامت کے دن وہ اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، تو وہ جذام زدہ ہو گا ، اور جو شخص بالشت بھر اطاعت سے نکلے گا ، تو وہ اپنی گردن سے اسلام کے پٹے کو اتار دے گا ، اور جو شخص ایسی حالت میں صبح کرے کہ اس پر ( مسلمانوں کی ) جماعت کے امیر کی فرمانبرداری نہ ہو تو جب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے اٹھائے گا ، تو اسے ایسی حالت میں اٹھائے گا کہ جیسے وہ زمانہ جاہلیت کی موت مرا تھا ، اور قیامت کے دن اس کا عہد شکنی کا جھنڈا اس کی پشت پر ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن رویبہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن رویبہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 9111
وَعَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَتَى أَبَا سَعِيدٍ فَقَالَ : يَا أَبَا سَعِيدٍ أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ بَايَعْتَ أَمِيرَيْنِ قَبْلَ أَنْ تَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَى أَمِيرٍ وَاحِدٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ بَايَعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ فَجَاءَ أَهْلُ الشَّامِ فَسَاقُونِي إِلَى حُبَيْشِ بْنِ دُلْجَةَ فَبَايَعْتُهُ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : إِيَّاهَا كُنْتُ أَخَافُ ، ( إِيَّاهَا كُنْتُ أَخَافُ وَمَدَّ بِهَا حَمَّادٌ صَوْتَهُ ) قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَلَمْ تَسْمَعْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يَنَامَ يَوْمًا وَلَا يُصْبِحَ صَبَاحًا وَلَا يُمْسِيَ مَسَاءً إِلَّا وَعَلَيْهِ أَمِيرٌ " . ¤ قَالَ : نَعَمْ ، وَلَكِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُبَايِعَ أَمِيرَيْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَى أَمِيرٍ وَاحِدٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . وَبِشْرُ بْنُ حَرْبٍ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
بشر بن حرب بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، اور بولے : اے ابوسعید ! مجھے یہ بات بتائی گئی ہے کہ آپ نے لوگوں کے کسی ایک امیر پر اکٹھا ہونے سے پہلے ہی دو امیروں کی بیعت کر لی ہے ۔ انہوں نے فرمایا : جی ہاں ! میں نے پہلے ابن زبیر کی بیعت کی تھی پھر اہل شام آئے ، اور مجھے ہانک کر حبیش بن دلجہ کے پاس لے گئے ، تو میں نے اس کی بھی بیعت کر لی ، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : مجھے اسی بات کا اندیشہ تھا مجھے اسی بات کا اندیشہ تھا دوسری مرتبہ میں حماد نے بلند آواز کر کے یہ بات نقل کی سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے ابوعبدالرحمن کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے : ” جو شخص یہ استطاعت رکھتا ہو کہ وہ دن کے وقت نہ سوئے ، اور ایسی حالت میں صبح نہ کرے یا شام نہ کرے مگر یہ کہ کوئی اس پر امیر ہونا چاہیے “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جی ہاں ! لیکن میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ کسی ایک امیر پر لوگوں کے اکٹھا ہونے سے پہلے میں دو امیروں کی بیعت کر لوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ بشر بن حرب نامی راوی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ بشر بن حرب نامی راوی ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9112
وَعَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَطِيعُوا أُمَرَاءَكُمْ مَهْمَا كَانَ ، فَإِنْ أَمَرُوكُمْ بِشَيْءٍ مِمَّا جِئْتُكُمْ بِهِ فَإِنَّهُمْ يُؤْجَرُونَ عَلَيْهِ وَتُؤْجَرُونَ بِطَاعَتِهِمْ ، وَإِنْ أَمَرُوكُمْ بِشَيْءٍ مِمَّا لَمْ آتِكُمْ بِهِ فَإِنَّهُ عَلَيْهِمْ وَأَنْتُمْ مِنْهُ بُرَآءُ ، ذَلِكُمْ بِأَنَّكُمْ إِذَا لَقِيتُمُ اللَّهَ قُلْتُمْ : رَبَّنَا لَا ظُلْمَ ، فَيَقُولُونَ : لَا ظُلْمَ فَتَقُولُونَ : رَبَّنَا أَرْسَلْتَ إِلَيْنَا رُسُلًا فَأَطَعْنَاهُمْ بِإِذْنِكَ وَاسْتَخْلَفْتَ عَلَيْنَا خُلَفَاءَ فَأَطَعْنَاهُمْ بِإِذْنِكَ وَأَمَّرْتَ عَلَيْنَا أُمَرَاءَ فَأَطَعْنَاهُمْ بِإِذْنِكَ فَيَقُولُ : صَدَقْتُمْ هُوَ عَلَيْهِمْ وَأَنْتُمْ مِنْهُ بُرَآءُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زِبْرِيقٍ ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اپنے امراء کی اطاعت کرو خواہ وہ جو بھی ہیں اگر وہ تمہیں کسی ایسی چیز کے بارے میں حکم دیں جو میں تمہارے پاس لے کے آیا ہوں تو انہیں اس کا اجر ملے گا ، اور تمہیں ان کی فرمانبرداری کا اجر ملے گا ، اور اگر وہ تمہیں کسی ایسی چیز کے بارے میں حکم دیں ، جو میں تمہارے پاس نہیں لے کے آیا تو اس کا وبال ان لوگوں پر ہو گا اور تم لوگ لاتعلق ہو گے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گے ، تو تم لوگ یہ کہو گے اے ہمارے پروردگار کوئی ظلم نہیں ہو گا وہ کہیں گے کوئی ظلم نہیں ہو گا ، تو تم کہو گے اے ہمارے پروردگار ! تو نے ہماری طرف رسول بھیجے ، تو ہم نے تیرے اذن کے تحت ان کی اطاعت کی پھر تو نے ہم پر ان کے جانشین مقرر کیے ہم نے تیرے اذن کے تحت ان کی اطاعت کی پھر تو نے ہم پر امراء مقرر کیے ہم نے تیرے اذن کے تحت ان کی اطاعت کی ، تو پروردگار فرمائے گا : تم لوگوں نے سچ کہا: ہے اس کا وبال ان لوگوں پر ہو گا اور تم لوگ لاتعلق ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم بن زبریق ہے ، جسے ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم بن زبریق ہے ، جسے ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9113
وَعَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ ، وَأَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ كَانَ هَذَا الْأَمْرُ فِي قَوْمِكَ فَأَوْصِهِمْ بِنَا . قَالَ : " أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِي أُمَّتِي لَا تَبْغَوْا عَلَى أُمَّتِي بَعْدِي " . ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ : " سَيَكُونُ مِنْ بَعْدِي أُمَرَاءُ فَأَدُّوا إِلَيْهِمْ طَاعَتَهُمْ فَإِنَّ الْأَمِيرَ مِثْلُ الْمِجَنِّ يُتَّقَى بِهِ ، فَإِنْ أَصْلَحُوا أُمُورَكُمْ بِخَيْرٍ فَلَكُمْ وَلَهُمْ ، وَإِنْ أَسَاؤُوا فِيمَا أَمَرُوكُمْ بِهِ فَهُوَ عَلَيْهِمْ وَأَنْتُمْ مِنْهُ بُرَآءُ " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر یہ معاملہ ( یعنی حکومت ) آپ کی قوم میں رہے گی ، تو آپ ہمارے بارے میں انہیں تلقین کر دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اپنی امت کے بارے میں تم لوگوں کو اللہ سے ڈرنے کی تلقین کرتا ہوں تم میرے بعد میری امت کے خلاف سرکشی نہ کرنا پھر آپ نے لوگوں سے ارشاد فرمایا عنقریب میرے بعد کچھ ایسے حکمران آئیں گے کہ تم ان کی اطاعت انہیں ادا کرنا کیونکہ امیر کی مثال ڈھال کی طرح ہوتی ہے جس کے ذریعے بچا جاتا ہے اگر وہ بھلائی کے ساتھ تمہارے معاملات ٹھیک رکھیں گے ، تو تمہیں بھی اجر ملے گا ، اور انہیں بھی اجر ملے گا ، اور اگر وہ اس چیز کے بارے میں برائی کریں گے جس کا انہوں نے تمہیں حکم دیا ہے ، تو اس کا وبال ان لوگوں پر ہو گا ، اور تم لوگ بری الذمہ ہو گے “ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن عیاش ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن عیاش ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9114
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ سَلَمَةَ الْجُعْفِيِّ أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَيْنَا أُمَرَاءُ مَنْ بَعْدِكَ يَأْخُذُونَا بِالْحَقِّ الَّذِي عَلَيْنَا وَيَمْنَعُونَا الْحَقَّ الَّذِي ( جَعَلَهُ اللَّهُ ) لَنَا نُقَاتِلُهُمْ وَنَعْصِيهِمْ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ عُبَيْدَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا یزید بن سلمہ جعفی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر آپ کے بعد ہم پر ایسے حکمران مسلط ہوتے ہیں جو ہم سے وہ حق وصول کر لیتے ہیں جو ہمارے ذمہ ہے ، اور ہمیں وہ حق نہیں دیتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ہمارا حصہ مقرر کیا ہے ، تو کیا ہم ان حکمرانوں کے ساتھ جنگ کریں اور ان کی نافرمانی کریں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : انہوں نے جو کیا ہو گا ۔ اس کا وبال ان پر ہو گا ، اور تم نے جو کیا ہو گا اس کا ذمہ تم پر ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبید بن عبیدہ ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبید بن عبیدہ ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9115
وَعَنْ أَبِي لَيْلَى الْأَشْعَرِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " تَمَسَّكُوا بِطَاعَةِ أَئِمَّتِكُمْ وَلَا تُخَالِفُوهُمْ ، فَإِنَّ طَاعَتَهُمْ طَاعَةُ اللَّهِ ، وَإِنَّ مَعْصِيَتَهُمْ مَعْصِيَةُ اللَّهِ ، وَإِنَّ اللَّهَ إِنَّمَا بَعَثَنِي أَدْعُو إِلَى سَبِيلِهِ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ، فَمَنْ خَلَفَنِي فِي ذَلِكَ فَهُوَ وَلِيِّي وَمَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِكُمْ شَيْئًا فَعَمِلَ بِغَيْرِ ذَلِكَ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، وَسَيَلِي أُمَرَاءُ إِنِ اسْتُرْحَمُوا لَمْ يَرْحَمُوا ، وَإِنْ سُئِلُوا الْحَقَّ لَمْ يُعْطُوا ، وَإِنْ أُمِرُوا بِالْمَعْرُوفِ أَنْكَرُوا وَسَتَخَافُونَهُمْ وَيَتَفَرَّقُ مَلَأُكُمْ حَتَّى لَا يَحْمِلُوكُمْ عَلَى شَيْءٍ إِلَّا احْتَمَلْتُمْ عَلَيْهِ طَوْعًا وَكَرْهًا ، فَأَدْنَى الْحَقِّ أَنْ لَا تَأْخُذُوا لَهُمْ عَطَاءً وَلَا يُحَضَرُ لَهُمْ فِي الْمَلَأِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابولیلیٰ اشعری رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں آپ نے ارشاد فرمایا : ” اپنے حکمرانوں کی اطاعت کو مضبوطی سے تھام کے رکھو ان کی مخالفت نہ کرو کیونکہ ان کی فرمانبرداری اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری ہے ، اور ان کی نافرمانی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے مبعوث کیا ہے تاکہ میں حکمت اور اچھے وعظ کے ذریعے اس کے راستے کی طرف دعوت دوں جو شخص میرے بعد میرا جانشین ہو گا وہ میرا ولی ہو گا ، اور جو شخص تمہارے کسی معاملے کا نگران بنے گا ، اور اس کے علاوہ عمل کرے گا ، تو اس پر اللہ تعالیٰ فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہو گی اور عنقریب ایسے حکمران آئیں گے کہ اگر ان سے رحم مانگا جائے گا ، تو وہ رحم نہیں کریں گے اگر ان سے حق مانگا جائے گا ، تو وہ نہیں دیں گے اگر انہیں نیکی کا حکم دیا جائے گا ، تو وہ انکار کریں گے اور عنقریب تم ان سے ڈرو گے اور تمہارا اجتماعی شیرازہ منتشر ہو جائے گا یہاں تک کہ وہ جب تمہیں کسی بات کا پابند کریں گے ، تو تمہیں چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے ویسا کرنا پڑے گا ، اور زیادہ مناسب یہ ہے ، کہ تم ان سے تنخواہ نہ وصول کرو اور نہ ہی ان کی محفل میں حاضر ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 9116
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ( وَهُوَ قَائِلٌ بِكَفِّهِ هَكَذَا كَأَنَّهُ ) يُشَبِّرُ شَيْئًا : " مَنْ فَارَقَ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ شِبْرًا خَرَجَ مِنْ عُنُقِهِ رِبْقَةُ الْإِسْلَامِ ، وَالْمُخَالِفُونَ بِأَلْوِيَتِهِمْ يَتَنَاوَلُونَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ وَرَاءِ ظُهُورِهِمْ " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَبَعْضُهُ فِي الصَّحِيحِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ اپنے دست مبارک کے ذریعے اس طرح اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرما رہے تھے : ” جو شخص مسلمانوں کی جماعت سے بالشت بھر الگ ہو گا وہ اپنی گردن سے اسلام کا پٹہ اتار دے گا ، اور جو لوگ اپنے جھنڈوں کی بنیاد پر مخالفت کرنے والے ہوں گے وہ قیامت کے دن اپنے ان جھنڈوں کو اپنی پشت پر رکھیں گے “ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے جس کا بعض حصہ صحیح میں مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن قیس ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن قیس ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9117
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ جُنَادَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ فَهُوَ فِي النَّارِ عَلَى وَجْهِهِ ، إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ : أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ فَالْخِلَافَةُ مِنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - ، فَإِنْ كَانَ خَيْرًا فَهُوَ يَذْهَبُ بِهِ وَإِنْ كَانَ شَرًّا فَهُوَ يُؤْخَذُ بِهِ ، عَلَيْكَ بِالطَّاعَةِ فِيمَا أَمَرَكَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - بِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن جنادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص جماعت سے علیحدگی اختیار کرے گا وہ چہرے کے بل جہنم میں جائے گا اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ” پریشان حال شخص کی دعا کون سنتا ہے ، جب وہ اسے پکارتا ہے ، اور اس سے تکلیف کو دور کرتا ہے اس نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا ہے “ ۔ تو خلافت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اگر وہ بہتر ہو گا ، تو اسے لے جائے گا ، اور اگر وہ برا ہو گا ، تو اس کے حوالے سے اس کی گرفت ہو گی تم پر اطاعت کرنا لازم ہے اس چیز کے بارے میں ، جس چیز کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 9118
وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " ثَلَاثَةٌ لَا يُسْأَلُ عَنْهُمْ : رَجُلٌ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ وَعَصَى إِمَامَهُ وَمَاتَ عَاصِيًا ، وَعَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ أَبَقَ مِنْ سَيِّدِهِ ، وَامْرَأَةٌ غَابَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَقَدْ كَفَاهَا مَؤُونَةَ الدُّنْيَا فَتَبَرَّجَتْ بَعْدَهُ ، فَلَا يُسْأَلُ عَنْهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تین قسم کے لوگ ہیں جن سے سوال نہیں کیا جائے گا ایک وہ شخص جو جماعت سے الگ ہو جائے ، اور حکمران کی نافرمانی کرے اور نافرمان ہونے کے عالم میں مر جائے ایک وہ غلام یا کنیز جو اپنے آقا کو چھوڑ کر بھاگ جائے ، اور ایک وہ عورت جس کا شوہر موجود نہ ہو اور اس کے شوہر نے اسے تمام ضروریات کی چیزیں فراہم کی ہوئی ہوں ، اور اس کے بعد وہ اپنی زینت کو ظاہر کر دے ، تو ان سے سوال نہیں کیا جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9119
وَعَنِ الزِّبْرِقَانِ بْنِ بَدْرٍ أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ أَشْيَاءَ فَقَالَ الزِّبْرِقَانُ ( يَا رَسُولَ اللَّهِ ) : نَشْهَدُ . فَقَالَ : ( لَا ) " يَا زِبْرِقَانُ فَاسْمَعْ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَأَطِعْ " . قَالَ : سَمْعٌ وَطَاعَةٌ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ . ¤ قُلْتُ : هَكَذَا وَجَدْتُهُ فِي الْأَصْلِ الْمَسْمُوعِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زبرقان بن بدر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے کچھ چیزوں کے بارے میں ذکر کیا سیدنا زبرقان رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم گواہی دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں اسے زبرقان تم اللہ اور اس کے رسول کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو انہوں نے عرض کی : اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کی جاتی ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں نے اصل مسموع میں اس کو اسی طرح پایا ہے
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں نے اصل مسموع میں اس کو اسی طرح پایا ہے
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 9120
وَعَنْ عَمْرٍو الْبِكَالِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِذَا كَانَ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يَأْمُرُونَكُمْ بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ وَالْجِهَادِ فَقَدْ حَرُمَ عَلَيْكُمْ سَبُّهُمْ وَحَلَّ لَكُمُ الصَّلَاةُ خَلْفَهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بکالی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب تم پر ایسے حکمران آئیں جو تمہیں نماز جہاد اور زکوۃ کا حکم دیں ، تو تم پر انہیں برا کہنا حرام ہے ، اور ان کے پیچھے نماز ادا کرنا تمہارے لئے حلال ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 9121
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ أَيْضًا : عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ قَالَ : قَدِمْتُ الشَّامَ أَلْتَمِسُ الْفَرِيضَةَ فَإِذَا أَنَا بِرَجُلٍ وَقَدْ أَطَافَ بِهِ النَّاسُ فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : عَمْرٌو الْبِكَالِيُّ أُصِيبَتْ يَدُهُ يَوْمَ الْيَرْمُوكِ يَوْمَ أَجْلَتِ الرُّومُ مِنَ الشَّامِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤ وَفِيهِ مُجَّاعَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ الْعَتَكِيُّ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ابوتمیمہ بیان کرتے ہیں : میں شام آیا میں فریضہ تلاش کر رہا تھا وہاں ایک صاحب موجود تھے جن کے گرد لوگ چکر لگا رہے تھے میں نے دریافت کیا : یہ کون صاحب ہیں ؟ لوگوں نے بتایا یہ سیدنا عمرو بکالی رضی اللہ عنہ ہیں جن کا ہاتھ جنگ یرموک میں ضائع ہو گیا تھا یہ اس موقع کی بات ہے کہ جب رومیوں کو شام سے جلاوطن کر دیا گیا تھا ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے ان کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی مجاعہ بن زبیر عتکی ہے ، جسے امام أحمد نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9122
وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا نَسْأَلُكَ عَنْ طَاعَةِ مَنِ اتَّقَى وَأَصْلَحَ وَلَكِنْ مَنْ فَعَلَ كَذَا وَكَذَا - يَذْكُرُ الشَّرَّ . فَقَالَ : " اتَّقُوا اللَّهَ وَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ قَيْسٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم آپ سے اس شخص کی اطاعت کے بارے میں نہ پوچھیں جو پرہیزگاری اختیار کرتا ہے ، اور اصلاح کرتا ہے ، لیکن جو شخص ایسا ایسا کرے انہوں نے شر کا ذکر کیا ( تو اس کے بارے میں کیا کرنا ہے ؟ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اطاعت و فرمانبرداری سے کام لو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن قیس ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن قیس ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9123
وَعَنْ عَرْفَجَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَدُ اللَّهِ مَعَ الْجَمَاعَةِ ، وَالشَّيْطَانُ مَعَ مَنْ خَالَفَهُمْ يَرْكُضُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عرفجہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” اللہ تعالیٰ کا دست رحمت جماعت کے ساتھ ہوتا ہے ، اور شیطان اس شخص کے ساتھ ہوتا ہے جو ان سے علیحدگی اختیار کرتا ہے ، اور وہ ٹھونگا مارتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9124
وَعَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ : لَمَّا أَنْكَرَ النَّاسُ سِيرَةَ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ فَزِعَ النَّاسُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ لَهُمْ عَبْدُ اللَّهِ : اصْبِرُوا فَإِنَّ جَوْرَ إِمَامِكُمْ خَمْسِينَ عَامًا خَيْرٌ مِنْ هَرَجِ شَهْرٍ ، وَذَلِكَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا بُدَّ لِلنَّاسِ مِنْ إِمَارَةٍ بَرَّةٍ أَوْ فَاجِرَةٍ ، فَأَمَّا الْبَرَّةُ فَتَعْدِلُ فِي الْقَسَمِ وَتُقَسِّمُ فَيْئَكُمْ فِيكُمْ بِالسَّوِيَّةِ ، وَأَمَّا الْفَاجِرَةُ فَيُبْتَلَى فِيهَا الْمُؤْمِنُ . وَالْإِمَارَةُ الْفَاجِرَةُ خَيْرٌ مِنَ الْهَرَجِ " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْهَرَجُ ؟ قَالَ : " الْقَتْلُ وَالْكَذِبُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ وَهْبُ اللَّهِ بْنُ رِزْقٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
زربن حبیش بیان کرتے ہیں : جب لوگوں نے ولید بن عقبہ بن ابومعیط کے طرز عمل کو منکر قرار دیا ، تو لوگ گھبرا کر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ صبر سے کام لو کیونکہ تمہارے حکمران کا پچاس سال تک ظلم کرنا اس سے زیادہ بہتر ہے کہ ایک ماہ کی قتل و غارت گری ہو اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” لوگوں کے لئے کسی امیر کا ہونا ضروری ہے خواہ وہ نیک ہو یا گناہگار ہو اگر وہ نیک ہو اور تقسیم کرتے ہوئے عدل سے کام لے اور تمہارا مال فئے تمہارے درمیان برابری کے طور پر تقسیم کرے ، تو ٹھیک ہے ، اور اگر وہ گناہگار ہو تو پھر اس کی حکومت میں مومن شخص کو آزمائش کا شکار کیا جائے گا ، اور بری حکمرانی ، حرج سے بہتر ہے عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! حرج سے مراد کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : قتل و غارت گری اور جھوٹ“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی وہب اللہ بن رزق ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی وہب اللہ بن رزق ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9125
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ ؟ " قَالُوا : بَلَى نَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ . قَالَ : " أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّهُ مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَأَنَّ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ طَاعَتِي ؟ " قَالُوا : بَلَى نَشْهَدُ أَنَّهُ مَنْ أَطَاعَ اللَّهَ فَقَدْ أَطَاعَكَ وَمِنْ طَاعَةِ اللَّهِ طَاعَتُكَ . قَالَ : " فَإِنَّ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ أَنْ تُطِيعُونِي وَمِنْ طَاعَتِي أَنْ تُطِيعُوا أُمَرَاءَكُمْ ، أَطِيعُوا أُمَرَاءَكُمْ فَإِنْ صَلُّوا قُعُودًا فَصَلُّوا قُعُودًا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ بِاخْتِصَارٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " أَئِمَّتَكُمْ " بَدَلَ : " أُمَرَائَكُمْ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ایک مرتبہ وہ کچھ اصحاب کے درمیان موجود تھے اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس تشریف لائے آپ نے فرمایا : کیا تم لوگ یہ بات نہیں جانتے ہو کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں آپ اللہ کے رسول ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم لوگ یہ بات نہیں جانتے ہو کہ جو شخص میری اطاعت کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں میری اطاعت کرنا بھی شامل ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے وہ آپ کی بھی اطاعت کرے گا ، اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں آپ کی اطاعت بھی شامل ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں یہ بات بھی شامل ہے کہ تم میری اطاعت کرو اور میری اطاعت میں یہ بات بھی شامل ہے کہ تم اپنے امراء کی اطاعت کرو ، تم لوگ اپنے امراء کی اطاعت کرو اگر وہ بیٹھ کر نماز ادا کریں ، تو تم لوگ بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد نے اس کی مانند روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ تا ہم انہوں نے لفظ ” امراء “ کی جگہ لفظ ” آئمہ “ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد نے اس کی مانند روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ تا ہم انہوں نے لفظ ” امراء “ کی جگہ لفظ ” آئمہ “ نقل کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 9126
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالطَّاعَةِ وَالْجَمَاعَةِ فَإِنَّهَا حَبْلُ اللَّهِ الَّذِي أَمَرَ بِهِ ، وَإِنَّ مَا تَكْرَهُونَ فِي الْجَمَاعَةِ خَيْرٌ مِمَّا تُحِبُّونَ فِي الْفُرْقَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ - يَأْتِي فِي كِتَابِ الْفِتَنِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ - وَفِيهِ ثَابِتُ بْنُ قُطْبَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ۔ انہوں نے فرمایا : ” اے لوگو تم پر اطاعت اختیار کرنا اور جماعت کے ساتھ رہنا لازم ہے ، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی وہ رسی ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے جماعت کی صورت میں تم جس چیز کو ناپسند کرتے ہو وہ اس سے زیادہ بہتر ہو گی جو علیحدگی کی صورت میں تم پسند کرتے ہو“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ایک طویل حدیث میں ذکر کی ہے جو فتنوں سے متعلق کتاب میں آگے آئے گی اگر اللہ نے چاہا اس کی سند میں ایک راوی ثابت بن قطبہ ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ایک طویل حدیث میں ذکر کی ہے جو فتنوں سے متعلق کتاب میں آگے آئے گی اگر اللہ نے چاہا اس کی سند میں ایک راوی ثابت بن قطبہ ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9127
وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ : قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ : يَا حَارِثُ بْنَ قَيْسٍ أَلَيْسَ يَسُرُّكَ أَنْ تَسْكُنَ وَسَطَ الْجَنَّةِ ؟ قَالَ : بَلَى . قَالَ : فَالْزَمْ جَمَاعَةَ النَّاسِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
حارث بن قیس بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا : اے حارث بن قیس ! تمہیں یہ بات پسند نہیں ہے کہ تم جنت کے درمیان میں رہو ؟ حارث نے جواب دیا : جی ہاں ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگوں کی جماعت کے ساتھ رہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔