کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: سلطان کی عزت افزائی کرنا
حدیث نمبر: 9085
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ أَكْرَمَ سُلْطَانَ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فِي الدُّنْيَا أَكْرَمَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ أَهَانَ سُلْطَانَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فِي الدُّنْيَا أَهَانَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ مِنْهُ : " مَنْ أَهَانَ " دُونَ : " مَنْ أَكْرَمَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ وَزَادَ فِي أَوَّلِهِ : " الْإِمَامُ ظِلُّ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ " . وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص دنیا میں اللہ کے سلطان کی عزت افزائی کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس شخص کی عزت افزائی کرے گا ، اور جو شخص دنیا میں اللہ کے مقرر کردہ سلطان کی اہانت کرے گا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی اہانت کرے گا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے ۔ لیکن انہوں نے اس میں سے صرف اہانت والا حصہ نقل کیا ہے عزت افزائی والا حصہ نقل نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ انہوں نے اس کے آغاز میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” امام زمین میں اللہ کا سایہ ہوتا ہے “ ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9085
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (42/5)»
حدیث نمبر: 9086
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ مِنْ إِكْرَامِ جَلَالِ اللَّهِ إِكْرَامُ ذِي الشَّيْبَةِ الْمُسْلِمِ ، وَالْإِمَامِ الْعَادِلِ ، وَحَامِلِ الْقُرْآنِ لَا يَغْلُو فِيهِ، وَلَا يَجْفُو عَنْهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي الْجَوْنِ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَدُحَيْمٌ ، وَضَعَّفَهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کی عظمت کے احترام میں یہ بات بھی شامل ہے کہ بوڑھے مسلمان کا احترام کیا جائے عادل حکمران کا اور قرآن کے عالم کا احترام کیا جائے اس میں غلو بھی نہ کیا جائے ، اور ان کے ساتھ زیادتی بھی نہ کی جائے ( یعنی اس میں کوتاہی بھی نہ کی جائے ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن سلیمان بن ابوجون ہے ، جسے ابن حبان اور دحیم نے ثقہ قرار دیا ہے امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9086
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 9087
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ : " أَلَا إِنِّي أُوشِكُ أَنْ أُدْعَى فَأُجِيبُ فَيَلِيَكُمْ عُمَّالٌ مِنْ بَعْدِي يَعْمَلُونَ مَا تَعْمَلُونَ وَيَعْمَلُونَ مَا تَعْرِفُونَ وَطَاعَةُ أُولَئِكَ طَاعَةٌ " . ¤ قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي أَئِمَّةِ الْجَوْرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمَرْوَزِيِّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا آپ نے اپنے خطبے کے دوران ہمیں یہ ارشاد فرمایا : ” عنقریب میرا بلاوا آ جائے گا ، اور مجھے جانا ہو گا میرے بعد تم لوگوں کے اہلکار ایسے آئیں گے جو وہ عمل کریں گے جو تم عمل کرتے ہو گے اور وہ عمل کریں گے جسے تم معروف سمجھتے ہو گے ، تو ان لوگوں کی فرمانبرداری ہی صحیح فرمانبرداری ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے یہ مکمل روایت ظالم حکمرانوں سے متعاق باب میں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد محمد بن علی مروزی کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9087
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 9088
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ لِي عَلَيْكُمْ حَقًّا ، وَلِلْأَئِمَّةِ عَلَيْكُمْ حَقًّا ، مَا قَامُوا ثَلَاثًا : إِذَا اسْتُرْحِمُوا رَحِمُوا ، وَإِذَا حَكَمُوا عَدَلُوا ، وَإِذَا عَاهَدُوا أَوْفُوا ، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُمْ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرا تم پر حق ہے ، اور حکمرانوں کا بھی تم پر حق ہے ، جب تک وہ تین چیزیں قائم رکھیں جب ان سے رحم مانگا جائے ، تو وہ رحم کریں اور جب وہ فیصلہ دیں ، تو انصاف سے کام لیں اور جب وہ عہد کریں ، تو اسے پورا کریں ان میں سے جو شخص ایسا نہیں کرے گا اس پر اللہ تعالیٰ فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہو گی ایسے لوگوں کی کوئی نفل یا فرض عبادت قبول نہیں ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9088
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 9089
عَنْ حُذَيْفَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا مِنْ قَوْمٍ مَشَوْا إِلَى سُلْطَانِ اللَّهِ لِيُذِلُّوهُ إِلَّا أَذَلَّهُمُ اللَّهُ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا كَثِيرَ بْنَ أَبِي كَثِيرٍ التَّيْمِيَّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ كَثِيرَةٌ فِي السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب بھی کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حکمران کی طرف چل کر جائیں تاکہ اسے ذلت کا شکار کریں ، تو قیامت کے دن سے پہلے اللہ تعالیٰ انہیں ذلت کا شکار کر دے گا“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف کثیر بن ابوکثیر تیمی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں اطاعت و فرمانبرداری کے بارے میں بہت سی احادیث آگے آئیں گی اگر اللہ نے چاہا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9089
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1594)»