کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: رعایا سے اور ان کے پوشیدہ معاملات کی تفتیش سے چشم پوشی کرنا
حدیث نمبر: 9082
عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، وَأَبِي أُمَامَةَ قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الْأَمِيرَ إِذَا ابْتَغَى الرِّيبَةَ فِي النَّاسِ أَفْسَدَهُمْ " . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب امیر لوگوں میں مشکوک ( یعنی پوشیدہ معاملات ) کو تلاش کرے گا ، تو انہیں خراب کر دے گا“ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث کو امام ابوداؤد نے نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9082
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7515) اخرجه احمد فى المسند (4/6)»
حدیث نمبر: 9083
وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ ، وَأَبِي أُمَامَةَ قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الْأَمِيرَ إِذَا ابْتَغَى الرِّيبَةَ فِي النَّاسِ أَفْسَدَهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب امیر لوگوں میں مشکوک ( پوشیدہ معاملات ) کو تلاش کرے گا ، تو انہیں خراب کر دے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9083
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (122/17)»
حدیث نمبر: 9084
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا وَلِيَ أَحَدٌ وِلَايَةً إِلَّا بُسِطَتْ لَهُ الْعَافِيَةُ ، فَإِنْ قَبِلَهَا بُسِطَتْ لَهُ وَتَمَّتْ لَهُ ، وَإِنْ حَفَزَ عَنْهَا فُتِحَ لَهُ مَا لَا طَاقَةَ لَهُ بِهِ " . ¤ قُلْتُ : لِابْنِ عَبَّاسٍ : مَا حَفَزَ عَنْهَا ؟ قَالَ : تَطْلُبُ الْعَثَرَاتِ وَالْعَوْرَاتِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ جو شخص کسی عہدے کا نگران بنتا ہے ، اور اس کے لئے عافیت کو پھیلا دیا جاتا ہے ، تو اگر وہ اسے قبول کر لے گا ، تو اس کے لئے اسے پھیلایا جائے گا ، اور اس کے لئے اسے مکمل کیا جائے گا ، اور اگر وہ اس کو پس پشت ڈال دیتا ہے ، تو اس کے لئے وہ چیز کشادہ کر دی جائے گی جس کی اس میں طاقت نہیں ہو گی “ ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا : لفظ حفز عنہا کا کیا مطلب ہے ؟ انہوں نے فرمایا : وہ ان کے لغزشوں اور پوشیدہ معاملات کی تفتیش کرے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9084
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11220)»