کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: خلافت کا قریش میں ہونا اور لوگوں ، ان کے پیروکار ہونا
حدیث نمبر: 8973
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو بَكْرٍ فِي طَائِفَةٍ مِنَ الْمَدِينَةِ ، قَالَ : فَجَاءَ فَكَشَفَ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ فَقَبَّلَهُ وَقَالَ : فِدَاؤُكَ أَبِي وَأُمِّي مَا أَطْيَبَكَ حَيًّا وَمَيِّتًا ، مَاتَ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ، قَالَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ : فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ يَتَقَاوَدَانِ حَتَّى أَتَوْهُمْ ، فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ فَلَمْ يَتْرُكْ شَيْئًا أُنْزِلَ فِي الْقُرْآنِ وَلَا ذَكَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي شَأْنِهِمْ إِلَّا ذَكَرَهُ ، قَالُوا : وَلَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَوْ سَلَكَتِ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكَتِ الْأَنْصَارُ وَادِيًا سَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ " . وَلَقَدْ عَلِمْتَ يَا سَعْدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ وَأَنْتَ قَاعِدٌ : " قُرَيْشٌ وُلَاةُ هَذَا الْأَمْرِ ، فَبَرُّ النَّاسِ تَبَعٌ لِبَرِّهِمْ ، وَفَاجِرُهُمْ تَبَعٌ لِفَاجِرِهِمْ " . قَالَ : فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ : صَدَقْتَ نَحْنُ الْوُزَرَاءُ وَأَنْتُمُ الْأُمَرَاءُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ - وَفِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْ أَوَّلِهِ - وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَمْ يُدْرِكْ أَبَا بَكْرٍ . ¤
محمد محی الدین
حمید بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کے کچھ لوگوں کے درمیان موجود تھے وہ آئے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے کپڑا ہٹایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بوسہ دیا اور پھر بولے : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ زندہ ہونے اور وصال فرمانے کے بعد کتنے پاکیزہ ہیں ! رب کعبہ کی قسم ! سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ چلتے ہوئے گئے یہاں تک کہ انصار کے پاس آئے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے گفتگو شروع کی ، تو کوئی ایسی چیز ترک نہیں کی جس کے بارے میں قرآن نازل ہوا ہو یا جس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہو جس کا تعلق ان کے معاملے سے تھا وہ ہر چیز سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ذکر کر دی لوگوں نے کہا: آپ یہ بات جانتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار دوسری وادی میں چلیں تو میں انصار کی وادی میں چلوں گا “ ۔ ( تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) اے سعد ! تم یہ بات جانتے ہو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی ، تو تم بھی اس وقت وہاں موجود تھے ( آپ نے فرمایا تھا : ) ” قریش اس معاملے کے نگران بنیں گے لوگوں میں سے نیک لوگ ان کے نیک لوگوں کے پیروکار ہوں گے اور لوگوں میں سے برے لوگ ان کے برے لوگوں کے پیروکار ہوں گے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ نے سچ کہا: ہے ہم لوگ وزیر ہوں گے اور آپ لوگ امیر ہوں گے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ صحیح میں اس کا ابتدائی حصہ منقول ہے البتہ حمید بن عبدالرحمن نامی راوی نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8973
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (18)»
حدیث نمبر: 8974
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : سَمِعَتْ أُذُنَايَ وَوَعَى قَلْبِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ ، صَالِحُهُمْ تَبَعٌ لِصَالِحِهِمْ وَشِرَارُهُمْ تَبَعٌ لِشِرَارِهِمْ " . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ الْيَمَامِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ الْجُمْهُورِ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے کانوں نے یہ بات سنی ہے ، اور میرے دل نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اس کو محفوظ رکھا ہے ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” لوگ قریش کے تابع ہوں گے لوگوں میں سے نیک لوگ ان کے نیک لوگوں کے اور لوگوں میں سے برے لوگ ان کے برے لوگوں کے پیروکار ہوں گے “ ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جابر یمامی ہے ، اور جمہور کے نزدیک وہ ضعیف ہے ویسے اس کی ، توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8974
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1574)»
حدیث نمبر: 8975
وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَطَبَ النَّاسَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ : " أَلَا إِنَّ الْأُمَرَاءَ مِنْ قُرَيْشٍ أَلَا إِنَّ الْأُمَرَاءَ مِنْ قُرَيْشٍ أَلَا إِنَّ الْأُمَرَاءَ مِنْ قُرَيْشٍ مَا أَقَامُوا بِثَلَاثٍ : مَا حَكَمُوا فَعَدَلُوا ، وَمَا عَاهَدُوا فَوَفُّوا ، وَمَا اسْتُرْحِمُوا فَرَحِمُوا ، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعَنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفُهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” خبردار ! حکمران قریش میں سے ہوں گے خبردار ! حکمران قریش میں سے ہوں گے خبردار ! حکمران قریش میں سے ہوں گے ، جب تک وہ تین کام کریں گے فیصلہ دیتے ہوئے عدل سے کام لیں گے اور عہد کریں ، تو اس کو پورا کریں ، اور جب ان سے رحم مانگا جائے ، تو رحم کریں ، ان میں سے جو فرد ایسا نہیں کرے گا اس پر اللہ تعالیٰ فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہو گی “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8975
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (564)»
حدیث نمبر: 8976
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ : أَبْرَارُهَا أُمَرَاءُ أَبْرَارِهَا ، وَفُجَّارُهَا أُمَرَاءُ فُجَّارِهَا ، وَلِكُلٍّ حَقٌّ ، فَآتُوا كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ ، وَإِنْ أُمِّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ [ مُجَدَّعٌ ] فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا مَا لَمْ يُخَيِّرْ أَحَدَكُمْ بَيْنَ إِسْلَامِهِ وَضَرْبِ عُنُقِهِ ، فَإِذَا خَيَّرَ [ بَيْنَ إِسْلَامِهِ وَبَيْنَ ضَرْبِ عُنُقِهِ ] فَلْيَمْدُدْ عُنُقَهُ ثَكِلَتْهُ أُمُّهُ فَلَا دُنْيَا لَهُ وَلَا آخِرَةَ بَعْدَ ذَهَابِ دِينِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيِّ قَالَ الْحَاكِمُ : حَدَّثَ بِغَيْرِ حَدِيثٍ لَمْ يُتَابَعْ عَلَيْهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حکمران قریش میں سے ہوں گے قریش کے نیک لوگ ، لوگوں میں سے نیک لوگوں کے حکمران ہوں گے اور قریش کے برے لوگ لوگوں میں سے برے لوگوں کے حکمران ہوں گے اور ہر فرد کا حق ہوتا ہے ، تو تم ہر حق دار کو اس کا حق دو اگر تم پر ایسے حبشی غلام کو امیر بنا دیا جائے جس کے ناک کان کٹے ہوئے ہوں ، تو تم اس کی اطاعت و فرمانبرداری کرو ! جب تک وہ تم میں سے کسی ایک شخص کو اس چیز کا اختیار نہیں دیتا کہ وہ یا تو اسلام کو باقی رکھے یا پھر قتل ہو جائے ، جب وہ کسی شخص کو اسلام باقی رکھنے یا قتل ہو جانے کے درمیان اختیار دے ، تو پھر آدمی کو اپنی گردن آگے کر دینی چاہیے اس کی ماں اسے روئے ، جب اس کا دین رخصت ہو گیا تو نہ دنیا اس کے لئے فائدہ مند ہو گی نہ آخرت “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں اپنے استاد حفص بن عمر بن صباح رقی سے نقل کی ہے ۔ امام حاکم رحمہ اللہ کہتے ہیں : اس نے اس کے علاوہ ایک ایسی حدیث نقل کی ہے ۔ جس میں اس کی متابعت نہیں کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8976
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (425)»
حدیث نمبر: 8977
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : بَيَّنَّا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَرِيبًا مِنْ ثَمَانِينَ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ لَيْسَ فِيهِمْ إِلَّا قُرَشِيٌّ ، لَا وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ صَفِيحَةَ وُجُوهٍ [ رِجَالٍ قَطُّ ] أَحْسَنَ مِنْ وُجُوهِهِمْ يَوْمَئِذٍ ، فَذَكَرُوا النِّسَاءَ فَتَحَدَّثُوا فِيهِنَّ حَتَّى أَحْبَبْتُ أَنْ يَسْكُتَ ، قَالَ : فَأَتَيْتُهُ فَتَشَهَّدَ ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ فَإِنَّكُمْ وُلَاةُ هَذَا الْأَمْرِ مَا لَمْ تَعْصُوا اللَّهَ ، فَإِذَا عَصَيْتُمُوهُ بَعَثَ عَلَيْكُمْ مَنْ يَلْحَاكُمْ كَمَا يُلْحَى [ هَذَا ] الْقَضِيبُ " . لِقَضِيبٍ فِي يَدِهِ ، ثُمَّ لَحَا قَضِيبَهُ فَإِذَا هُوَ أَبْيَضُيَصْلُدُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ہم تقریباً اسی افراد تھے جن کا تعلق قریش سے تھا ان میں موجود ہر فرد قریشی تھا اللہ کی قسم ! میں نے اس دن ان لوگوں کے چہروں سے زیادہ خوبصورت چہرے کبھی نہیں دیکھے ان لوگوں نے خواتین کا ذکر کرتے ہوئے ان کے بارے میں بات چیت شروع کی یہاں تک کہ میں نے یہ خواہش کی کہ وہ خاموش ہو جائیں سیدنا عبداللہ کہتے ہیں : پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ نے کلمہ شہادت پڑھا اور پھر ارشاد فرمایا : ” اما بعد ! اے قریش کے گروہ ! تم لوگ اس معاملے کے نگران بنو گے ، جب تک تم اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرتے جب تم اس کی نافرمانی کرو گے ، تو وہ تم پر ایسے لوگوں کو بھیج دے گا ، جو تمہیں اس طرح چھیل دیں گے ، جس طرح چھڑی کو چھیلا جاتا ہے “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک میں موجود ایک چھڑی کے بارے میں یہ بات ارشاد فرمائی : پھر آپ نے اس چھڑی کو چھیلا تو وہ ملائم اور سفید ہو گئی ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور امام ابویعلیٰ کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8977
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (5024) اخرجه احمد فى المسند (4380)»
حدیث نمبر: 8978
وَعَنْ بُكَيْرِ بْنِ وَهْبٍ الْجَزِرِيِّ قَالَ : قَالَ لِي أَنَسٌ : أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا مَا أُحَدِّثُهُ كُلَّ أَحَدٍ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَامَ عَلَى بَابِ الْبَيْتِ وَنَحْنُ فِيهِ فَقَالَ : " الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ إِنَّ لِي عَلَيْكُمْ حَقًّا ، وَإِنَّ لَهُمْ عَلَيْكُمْ حَقًّا مِثْلَ ذَلِكَ ، مَا إِنِ اسْتُرْحِمُوا رَحِمُوا ، وَإِنْ عَاهَدُوا وَفُّوا ، وَإِنْ حَكَمُوا عَدَلُوا ، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ أَتَمَّ مِنْهُمَا وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " الْمُلْكُ فِي قُرَيْشٍ " . وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
بکیر بن وہب جزری بیان کرتے ہیں : سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا میں تمہیں ایک حدیث بیان کرنے لگا ہوں جو میں ہر ایک کو بیان نہیں کرتا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے دروازے پر کھڑے ہوئے ہم لوگ اس گھر کے اندر موجود تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حکمران قریش میں سے ہوں گے میرا تم لوگوں پر حق ہے اور اُن لوگوں کا بھی تم پر اس کی مانند حق ہے ، جب تک ان سے رحم مانگا جائے ، تو وہ رحم کریں گے اور جب وہ عہد کریں ، تو وہ پورا کریں اور جب تک وہ فیصلہ کرتے ہوئے انصاف سے کام لیں گے ان میں سے جو فرد ایسا نہیں کرے گا اس پر اللہ تعالیٰ فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہو گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ جو ان دونوں سے زیادہ مکمل ہے اسے امام بزار نے بھی نقل کیا ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں : ” بادشاہی قریش میں ہو گی“ ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8978
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (15) اخرجه ابو يعلى فى المسند (4033) اخرجه احمد فى المسند (129/3)»
حدیث نمبر: 8979
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ لِي عَلَى قُرَيْشٍ حَقًّا وَإِنَّ لِقُرَيْشٍ عَلَيْكُمْ حَقًّا ، مَا حَكَمُوا فَعَدَلُوا ، وَائْتُمِنُوا فَأَدَّوْا ، وَاسْتُرْحِمُوا فَرَحِمُوا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرا قریش پر حق ہے ، اور قریش کا تم لوگوں پر حق ہے ، جب تک وہ فیصلہ کرتے ہوئے عدل سے کام لیں اور جب انہیں امین بنایا جائے ، تو وہ ادائیگی کریں اور جب ان سے رقم مانگا جائے ، تو وہ رحم کریں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8979
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7640)»
حدیث نمبر: 8980
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلْعَبَّاسِ : " فِيكُمُ النُّبُوَّةُ وَالْمَمْلَكَةُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَامِرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” آپ لوگوں ( یعنی قریش ) میں نبوت اور حکمرانی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن عامری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8980
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1581)»
حدیث نمبر: 8981
وَعَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ أَبِي الْمِنْهَالِ قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى أَبِي بَرْزَةَ وَإِنَّ فِي أُذُنِي لَقُرْطَيْنِ وَأَنَا غُلَامٌ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْأُمَرَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ " ثَلَاثًا " مَا فَعَلُوا ثَلَاثًا : مَا حَكَمُوا فَعَدَلُوا ، وَاسْتُرْحِمُوا فَرَحِمُوا ، وَعَاهَدُوا فَوَفَوْا ، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى أَتَمُّ مِنْهُ وَفِيهِ قِصَّةٌ ، وَالْبَزَّارُ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، خَلَا سُكَيْنَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ ثِقَةٌ .
محمد محی الدین
سیار بن سلامہ ابومنہال بیان کرتے ہیں : میں اپنے والد کے ساتھ سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا میرے کان میں دو بالیاں تھیں میں لڑکا تھا انہوں نے یہ بات بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے ” حکمران قریش میں سے ہوں گے “ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی : ( اور پھر فرمایا : ) ” جب تک وہ لوگ تین کام کریں گے فیصلہ کرتے ہوئے عدل سے کام لیں گے ، جب ان سے رحم مانگا جائے ، تو رحم کریں گے اور جب عہد کریں گے ، تو اس کو پورا کریں گے ان میں سے جو شخص ایسا نہیں کرے گا اس پر اللہ تعالیٰ ، فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہو گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام ابویعلیٰ نے اسے زیادہ مکمل روایت کے طور پر نقل کیا ہے جس میں پورا واقعہ مذکور ہے امام بزار نے بھی اسے نقل کیا ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف سکین بن عبدالعزیز کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8981
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1853) اخرجه ابو يعلي فى المسند (3645) اخرجه احمد فى المسند (421/4)»
حدیث نمبر: 8982
وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِقُرَيْشٍ : " إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ فِيكُمْ وَأَنْتُمْ وُلَاتُهُ ، حَتَّى تُحْدِثُوا أَعْمَالًا ، فَإِذَا فَعَلْتُمْ ذَلِكَ سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ شِرَارَ خَلْقِهِ ، فَالْتَحُوكُمْ كَمَا يُلْتَحَى الْقَضِيبُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش سے فرمایا : ” یہ معاملہ ( یعنی حکومت ) تمہارے درمیان ہو گی اور تم اس کے نگران ہو گے یہاں تک کہ تم نئے ( منفی ) کام کرو گے ، جب تم ایسا کرو گے ، تو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے بدترین لوگ تم پر مسلط کر دے گا ، اور وہ لوگ تمہیں یوں چھیل دیں گے جس طرح چھڑی کو چھیلا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف قاسم بن عبدالرحمن بن حارث کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8982
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (262/17) اخرجه احمد فى المسند (118/4)»
حدیث نمبر: 8983
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى بَابِ الْبَيْتِ لِبَيْتٍ فِيهِ نَفَرٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالَ وَأَخَذَ بِعَضَادَتَيِ الْبَابِ فَقَالَ : " هَلْ فِي الْبَيْتِ إِلَّا قُرَشِيٌّ ؟ " قَالَ : فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ غَيْرُ فُلَانِ ابْنِ أُخْتِنَا فَقَالَ : " ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ " ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ فِي قُرَيْشٍ مَا [ دَامُوا ] إِذَا اسْتُرْحِمُوا رَحِمُوا ، وَإِذَا حَكَمُوا عَدَلُوا وَإِذَا قَسَّمُوا أَقْسَطُوا ، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ : " ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ " فَقَطْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھر کے دروازے پر کھڑے ہوئے اس گھر میں قریش سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد موجو تھے راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازے کے کواڑوں کو پکڑا اور ارشاد فرمایا : کیا گھر میں صرف قریشی افراد موجود ہیں ؟ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! ہمارا ایک بھانجا ہے جو قریشی نہیں ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قوم کا بھانجا ان کا ایک فرد ہوتا ہے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ” یہ معاملہ ( یعنی حکومت ) قریش میں رہے گی جب تک وہ اس حال میں رہیں گے ، کہ جب ان سے رحم مانگا جائے ، تو وہ رحم کریں جب فیصلہ دیں ، تو عدل سے کام لیں جب تقسیم کریں ، تو انصاف سے کام لیں ان میں سے جو فرد ایسا نہیں کرے گا اس پر اللہ تعالیٰ فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہو گی اس شخص کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں ہو گی “ ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابوداؤد نے اس روایت میں سے صرف یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” قوم کا بھانجا ان کا ایک فرد ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8983
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1582) اخرجه احمد فى المسند (396/4)»
حدیث نمبر: 8984
وَعَنْ ذِي مِخْبَرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كَانَ هَذَا الْأَمْرُ فِي حِمْيَرَ فَنَزَعَهُ اللَّهُ مِنْهُمْ ، فَجَعَلَهُ فِي قُرَيْشٍ وَفِي وَسَ يَ عُ و دُ إِ لَ يْ هِ مْ " . ¤ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : كَذَا هُوَ فِي كِتَابِ أَبِي مُقَطَّعٌ ، وَحَيْثُ حَدَّثَنَا بِهِ تَكَلَّمَ بِهِ عَلَى الِاسْتِوَاءِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارِ الْحُرُوفِ ، وَرِجَالُهُمْ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ذومخبر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” یہ معاملہ ( یعنی حکومت ) حمیر میں تھی ، پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے اسے الگ کر دیا اور اسے قریش میں رکھ دیا اور یہ عنقریب ان کی طرف لوٹ جائے گی “ ۔ عبداللہ کہتے ہیں : میری والد کی تحریر میں یہ الفاظ اسی طرح الگ الگ ذکر ہوئے ہیں لیکن جب وہ ہمیں یہ حدیث بیان کرتے تھے ، تو یہ پورا جملہ صحیح بولتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے اسے حروف کے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ان کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8984
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (4227) اخرجه احمد فى المسند (91/4)»
حدیث نمبر: 8985
وَعَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ : أَخْبَرَنِي جُبَيْرُ بْنُ نُفَيْرٍ ، وَكَثِيرُ بْنُ مُرَّةَ، وَعَمْرُو بْنُ الْأَسْوَدِ، وَالْمِقْدَامُ بْنُ مَعْدِ يَكْرِبَ، وَأَبُو أُمَامَةَ : أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَا هَذَا الْأَمْرُ إِلَّا فِي قَوْمِكَ ؟ قَالَ : " بَلَى " . قَالَ : فَوَصِّهِمْ بِنَا . فَقَالَ لِقُرَيْشٍ : " إِنِّي أُحَذِّرُكُمُ اللَّهَ أَنْ تَشُقُّوا عَلَى أُمَّتِي مِنْ بَعْدِي " . ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ : " سَيَكُونُ مِنْ بَعْدِي أُمَرَاءُ فَأَدُّوا إِلَيْهِمْ طَاعَتَهُمْ ، فَإِنَّ الْأَمِيرَ مِثْلُ الْمِجَنِّ يُتَّقَى بِهِ ، فَإِنْ صَلُحُوا وَاتَّقَوْا وَأَمَرُوكُمْ بِخَيْرٍ ، وَإِنْ أَسَاؤُوا وَأَمَرُوكُمْ بِهِ ، فَعَلَيْهِمْ وَأَنْتُمْ مِنْهُ بَرَآءٌ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
شریح بن عبید بیان کرتے ہیں : جبیر بن نفیر ، کثیر بن مرہ ، عمرو بن اسود ، سیدنا مقدام بن معدیکرب اور سیدنا ابوامامہ نے مجھے یہ بات بیان کی ہے : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ معاملہ صرف آپ کی قوم میں رہے گا ؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں ! اس نے عرض کی : پھر ان لوگوں کو ہمارے بارے میں وصیت کر دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش سے فرمایا میں تم لوگوں کو اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی تلقین کرتا ہوں کہ تم میرے بعد میری امت کو مشقت کا شکار کرو پھر آپ نے لوگوں سے فرمایا : عنقریب میرے بعد ایسے حکمران آئیں گے کہ تم ان کی اطاعت کرنا کیونکہ امیر کی مثال ڈھال کی طرح ہوتی ہے جس کے ذریعے بچاؤ کیا جاتا ہے اگر وہ ٹھیک رہیں اور پرہیز گاری اختیار کریں اور بھلائی کا حکم دیں ، تو ٹھیک ہے ، اور اگر وہ برائی کریں اور تمہیں برائی کا حکم دیں ، تو ان پر ( اس کا وبال ہو گا ) اور تم اس سے لاتعلق ہو گے “ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن عیاش ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8985
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 8986
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مِلْحَةَ الْمُزَنِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ قَاعِدًا مَعَهُمْ فَدَخَلَ بَيْتَهُ فَقَالَ : " ادْخُلُوا عَلَيَّ وَلَا يَدْخُلُ عَلَيَّ إِلَّا قُرَشِيٌّ " فَتَسَالَّلْتُ فَدَخَلْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ هَلْ مَعَكُمْ أَحَدٌ لَيْسَ مِنْكُمْ ؟ " قَالُوا : نُخْبِرُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِآبَائِنَا أَنْتَ وَأُمَّهَاتِنَا مَعَنَا ابْنُ الْأُخْتِ وَالْمَوْلَى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " حَلِيفُ الْقَوْمِ مِنْهُمْ ، وَابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ ، يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ إِنَّكُمُ الْوُلَاةُ بَعْدِي لِهَذَا الْأَمْرِ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ، ( وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا ) ( وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ ( وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ ) يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ احْفَظُونِي فِي أَصْحَابِي وَأَبْنَائِهِمْ وَأَبْنَاءِ أَبْنَائِهِمْ رَحِمَ اللَّهُ الْأَنْصَارَ وَأَبْنَاءَ الْأَنْصَارِ وَأَبْنَاءَ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو الْمُزَنِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ حَسَّنَ لَهُ التِّرْمِذِيُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن عوف بن یزید بن ملحہ مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے ساتھ تشریف فرما تھے آپ گھر کے اندر تشریف لے گئے آپ نے ارشاد فرمایا تم لوگ میرے پاس اندر آ جاؤ لیکن صرف قریشی اندر آئیں راوی کہتے ہیں : میں وہاں سے اٹھا اور اندر آ گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے قریش کے افراد ! کیا تمہارے ساتھ کوئی ایسا فرد ہے جو تم میں سے نہ ہو ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ہم آپ کو بتاتے ہیں ہمارے ساتھ ہمارا ایک بھانجا ہے ، اور ایک غلام ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قوم کا حلیف ان میں سے ایک ہوتا ہے ، اور قوم کا بھانجا ان میں سے ایک ہوتا ہے اے قریش کے گروہ ! تم لوگ میرے بعد اس معاملے کے نگران بنو گے ، تو تم مرتے وقت مسلمان ہی رہنا اور تم اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام کے رکھنا اور فرقوں میں تقسیم نہ ہونا اور تم ان لوگوں کی مانند نہ ہو جانا جو فرقوں میں تقسیم ہو گئے ، اور انہوں نے اختلاف کیا اس کے بعد کہ ان کے پاس واضح نشانیاں آ گئی تھیں اور ان لوگوں کو صرف اسی بات کا حکم دیا گیا کہ وہ دین کو اللہ تعالیٰ کے لئے خالص کرتے ہوئے ، اور صحیح راستے پر قائم رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں وہ نماز قائم کریں زکوۃ ادا کریں یہی مضبوط دین ہے اے قریش کے گروہ ! میرے اصحاب ان کے بیٹوں ان کے بیٹوں کے بیٹوں کے بارے میں میرا دھیان رکھنا اللہ تعالیٰ انصار پر انصار کے بیٹوں پر انصار کے بیٹوں کے بیٹوں پر رحمت فرمائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ بن عمرو مزنی ہے ، اور وہ ضعیف ہے امام ترمذی نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8986
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12/17)»
حدیث نمبر: 8987
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى بَيْتٍ فِيهِ نَفَرٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَأَخَذَ بِعِضَادَتَيِ الْبَابِ فَقَالَ : " هَلْ فِي الْبَيْتِ إِلَّا قُرَشِيٌّ ؟ " فَقَالُوا : [ لَا ] إِلَّا ابْنَ أُخْتٍ لَنَا . فَقَالَ : " ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ " ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ فِي قُرَيْشٍ مَا إِذَا اسْتُرْحِمُوا رَحِمُوا ، وَإِذَا حَكَمُوا عَدَلُوا ، وَإِذَا أَقْسَمُوا أَقْسَطُوا ، وَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھر کے پاس آ کر کھڑے ہوئے جس میں قریش کے کچھ افراد موجود تھے آپ نے دروازے کے کواڑوں کو پکڑ لیا اور دریافت کیا : گھر میں صرف قریشی ہیں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی نہیں ! ہمارا ایک بھانجا بھی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قوم کا بھانجا ان کا ایک فرد ہوتا ہے پھر آپ نے ارشاد فرمایا یہ معاملہ ( یعنی حکومت ) قریش میں رہے گا ، جب تک ان سے رحم مانگا جائے ، تو وہ رحم کریں گے اور جب تک وہ فیصلہ دیتے ہوئے عدل سے کام لیں گے اور تقسیم کرتے ہوئے انصاف سے کام لیں گے ان میں سے جو فرد ایسا نہیں کرے گا اس پر اللہ تعالیٰ فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8987
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (216)»
حدیث نمبر: 8988
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كُنَّا فِي بَيْتٍ فِيهِ نَفَرٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ ، فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا يُوَسِّعُ رَجَاءَ أَنْ يَجْلِسَ إِلَى جَنْبِهِ ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الْبَابِ فَأَخَذَ بِعِضَادَتَيْهِ فَقَالَ : " الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ ، وَلِي عَلَيْكُمْ حَقٌّ عَظِيمٌ ، وَلَهُمْ ذَلِكَ مَا فَعَلُوا ثَلَاثًا : إِذَا اسْتُرْحِمُوا رَحِمُوا ، وَإِذَا حَكَمُوا عَدَلُوا ، وَإِذَا عَاهَدُوا وَفَّوْا فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : " وَإِذَا ائْتَمَنُوا أَدُّوا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَرُّوخَ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : رُبَّمَا خَالَفَ وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الْكَبِيرِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم ایک ایسے گھر میں موجود تھے جس میں مہاجرین اور انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد موجود تھے اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے ہم میں سے ہر ایک شخص نے جگہ بنانی شروع کی یہ امید رکھتے ہوئے کہ شاید آپ اس کے پہلو میں تشریف فرما ہو جائیں لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دروازے کے پاس کھڑے ہوئے آپ نے اس کے کواڑوں کو پکڑا اور فرمایا حکمران قریش میں سے ہوں گے میرا تم پر بڑا حق ہے ، اور ان لوگوں کا بھی حق ہو گا ، جب تک وہ تین کام کریں گے ، جب ان سے رحم مانگا جائے ، تو رحم کریں جب وہ فیصلہ دیں ، تو عدل سے کام لیں گے ، جب عہد کریں ، تو اس کو پورا کریں گے ان میں سے جو فرد ایسا نہیں کرے گا اس پر اللہ تعالیٰ فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہو گی ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : جب انہیں امین بنایا جائے ، تو وہ ادائیگی کریں ( یعنی امانت واپس کر دیں ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن فروخ ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے وہ فرماتے ہیں : یہ بعض اوقات ( دوسروں کے ) برخلاف روایت نقل کرتا ہے اس راوی کے بارے میں کلام کیا گیا ہے معجم کبیر کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8988
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 8989
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَمَانُ أَهْلِ الْأَرْضِ مِنَ الْغَرَقِ الْقَوْسُ ، وَأَمَانُ أَهْلِ الْأَرْضِ مِنَ الِاخْتِلَافِ الْمُوَالَاةُ لِقُرَيْشٍ ، قُرَيْشُ أَهْلُ اللَّهِ ، فَإِذَا خَالَفَتْهَا قَبِيلَةٌ مِنَ الْعَرَبِ صَارُوا حِزْبَ إِبْلِيسَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " وَأَمَانُ أُمَّتِي مِنَ الِاخْتِلَافِ " . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : وَقَالَ : " قُرَيْشٌ أَهْلُ اللَّهِ " . ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . ¤ وَفِيهِ خُلَيْدُ بْنُ دَعْلَجٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اہل زمین کے ڈوبنے سے امان ، قوس ( شاید مراد قوس قزح کا نمودار ہونا ) ہے ، اور اختلاف کے حوالے سے اہل زمین کی امان قریش کے ساتھ محبت ہے قریش اللہ والے ہیں عربوں کا کوئی قبیلہ جب ان کی مخالفت کرے گا ، تو وہ ابلیس کے گروہ میں ہو جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ تا ہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اختلاف کے حوالے سے میری امت کی امان “ ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : آپ نے فرمایا : ” قریش اللہ والے ہیں “ ۔ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی خلید بن دعلج ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8989
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (747) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11479)»
حدیث نمبر: 8990
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بھلائی اور برائی ( ہر معاملے ) میں لوگ قریش کے پیروکار ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8990
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5841)»
حدیث نمبر: 8991
وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ الْحَارِثِ ، وَكَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، وَعَمْرِو بْنِ الْأَسْوَدِ ، وَأَبِي أُمَامَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ خِيَارَ أَئِمَّةِ قُرَيْشٍ خِيَارُ أَئِمَّةِ النَّاسِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حارث بن حارث رضی اللہ عنہ سیدنا کثیر بن رضی اللہ عنہ سیدنا عمرو بن اسود رضی اللہ عنہ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قریش کے بہترین حکمران لوگوں کے بہترین حکمران ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8991
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7517)»
حدیث نمبر: 8992
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّهُ قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ : حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ - وَهُوَ عَدْلٌ عَلَى نَفْسِهِ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَزَالُ وَالٍ مِنْ قُرَيْشٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سُنَيْدٌ وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَقَدْ تُكُلِّمَ فِي رِوَايَتِهِ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ سُلَيْمَانَ وَهَذَا مِنْهَا ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے بارے یہ بات منقول ہے ۔ انہوں نے منبر پر یہ بات ارشاد فرمائی : کہ ضحاک بن قیس نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے ، اور یہ اپنی ذات کے حوالے سے عادل شخص ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” حکمران ہمیشہ قریش سے رہے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سنید ہے ، اور وہ ثقہ ہے حجاج بن سلیمان سے اس کے روایت کرنے کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اور
یہ روایت بھی ان میں سے ایک ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8992
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8134)»
حدیث نمبر: 8993
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْجُحْفَةِ فَقَالَ : " أَلَسْتُ أَوْلَى بِكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ ؟ " قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " فَإِنِّي سَائِلُكُمْ عَنِ اثْنَيْنِ : عَنِ الْقُرْآنِ وَعَنْ عِتْرَتِي . أَلَا وَلَا تَقَدَّمُوا قُرَيْشًا فَتَضِلُّوا ، وَلَا تَخَلَّفُوا عَنْهَا فَتَهْلِكُوا ، وَلَا تُعَلِّمُوهَا فَهُمْ أَعْلَمُ مِنْكُمْ . قُوَّةُ رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ أَفْضَلُ مِنْ قُوَّةِ رَجُلَيْنِ مِنْ غَيْرِهِمْ . لَوْلَا أَنْ تَبْطُرَ قُرَيْشٌ لَأَخْبَرَتُهَا بِمَا لَهَا عِنْدَ اللَّهِ تَعَالَى ، خِيَارُ قُرَيْشٍ خِيَارُ النَّاسِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن حنطب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حجفہ کے مقام پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا آپ نے ارشاد فرمایا : کیا میں تم لوگوں کے نزدیک تمہاری جانوں سے زیادہ حق نہیں رکھتا ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر میں دو چیزوں کے بارے میں تم سے ، توقع رکھتا ہوں قرآن کے بارے میں اور اپنی عترت کے بارے میں ، خبردار ! تم قریش سے آگے نہ بڑھنا ورنہ تم گمراہ ہو جاؤ گے اور ان سے پیچھے بھی نہ رہ جانا ورنہ تم ہلاک ہو جاؤ گے اور انہیں تعلیم بھی نہ دینا کیونکہ وہ تم سے زیادہ علم رکھتے ہیں قریش کے ایک فرد کی قوت ان کے علاوہ کسی اور قوم کے دو افراد کی قوت سے زیادہ ہے اگر قریش کے سرکش ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں بتاتا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں انہیں کیا مرتبہ و مقام حاصل ہے قریش کے بہترین لوگ ، لوگوں میں سے بہترین ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا شخص ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8993
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 8994
وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اسْتَقِيمُوا لِقُرَيْشٍ مَا اسْتَقَامُوا لَكُمْ ، فَإِذَا لَمْ تَفْعَلُوا فَضَعُوا سُيُوفَكُمْ عَلَى عَوَاتِقِكُمْ فَأَبِيدُوا خَضْرَاءَهُمْ ، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَكُونُوا حِينَئِذٍ زَرَّاعِينَ أَشْقِيَاءَ ، تَأْكُلُونَ مِنْ كَدِّ أَيْدِيكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ الصَّغِيرِ ثِقَاتٌ . وَيَأْتِي حَدِيثُ النُّعْمَانِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قریش کے لئے ٹھیک رہنا جب تک وہ تمہارے لئے ٹھیک رہیں گے ، جب تم ایسا نہیں کرو گے ، تو تم اپنی تلواریں اپنی گردنوں پر رکھ لینا اور ان کو فنا کر دینا ، ( شاید یہ مراد ہے کہ جو قریش کی مخالفت کریں گے ان کو فنا کر دینا ) اگر تم ایسا نہیں کرو گے ، تو ایسی صورت میں تم کھیتی باڑی کرنے والے بدنصیب ہو جاؤ گے اور اپنے ہاتھوں کی محنت کر کے کھاؤ گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ معجم صغیر کے رجال ثقہ ہیں سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث آگے آئے گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8994
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (201)»
حدیث نمبر: 8995
وَعَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ : كُنْتُ أَسْمَعُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - يَقُولُ : لَا يَدْخَلُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ مِنْ بَابٍ إِلَّا دَخَلَ مَعَهُ أُنَاسٌ ، فَلَا أَدْرِي مَا تَأْوِيلُ قَوْلِهِ حَتَّى طُعِنَ عُمَرُ ، فَأَمَرَ صُهَيْبًا أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ ثَلَاثًا ، وَأَمَرَ أَنْ يَجْعَلَ لِلنَّاسِ طَعَامًا تِلْكَ الثَّلَاثِ الْأَيَّامِ حَتَّى يَجْتَمِعَ أَهْلُ الشُّورَى عَلَى رَجُلٍ ، فَلَمَّا رَجَعُوا مِنَ الْجِنَازَةِ جَاؤُوا وَقَدْ وُضِعَتِ الْمَوَائِدُ ، فَأَمْسَكَ النَّاسُ لِلْحُزْنِ الَّذِي هُمْ فِيهِ ، فَجَاءَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَكَلْنَا وَشَرِبْنَا بَعْدَهُ ، وَمَاتَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَأَكَلْنَا وَشَرِبْنَا . أَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِنْ هَذَا الطَّعَامِ ، فَمَدَّ يَدَهُ وَمَدَّ النَّاسُ أَيْدِيَهُمْ فَأَكَلُوا فَعَرَفْتُ تَأْوِيلَ قَوْلِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
احنف بن قیس بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنتا تھا : قریش سے تعلق رکھنے والا کوئی فرد جس دروازے سے داخل ہو گا ، تو لوگ بھی اس کے ساتھ داخل ہوں گے احنف بن قیس کہتے ہیں : مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آتی تھی کہ ان کی بات کا مطلب کیا ہے ؟ یہاں تک کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو زخمی کر دیا گیا تو انہوں نے سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں وہ تین دن تک ایسا کریں گے ۔ انہوں نے لوگوں کو یہ ہدایت کی کہ وہ ان تین دنوں میں کھانا تیار کریں یہاں تک کہ شوری کے اراکین کسی ایک فرد پر متفق ہو جائیں جب وہ لوگ جنازے سے واپس آئے ، تو کھانا رکھ دیا گیا تھا لوگ جس غم کا شکار تھے اس کی وجہ سے انہوں نے کھانا نہیں کھایا سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے انہوں نے فرمایا : اے لوگو ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا آپ کے بعد بھی ہم کھاتے پیتے رہے ہیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا پھر بھی ہم کھاتے پیتے رہے ہیں ، تو اے لوگو ! تم لوگ یہ کھانا کھاؤ پھر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تو لوگوں نے بھی اپنے ہاتھ آگے بڑھائے ، اور کھانا پینا شروع کیا اس وقت مجھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بات کا مفہوم سمجھ میں آیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8995
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 8996
وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْخِلَافَةُ فِي قُرَيْشٍ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي أَوَّلِ كِتَابِ الْأَحْكَامِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” خلافت قریش میں ہو گی “ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے جو اس سے پہلے کتاب الاحکام کے آغاز میں گزر چکی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث پہلے گزر چکی ہے ، اور اس کے رجال بھی ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8996
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح