حدیث نمبر: 8967
عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يُقْرِئُنَا الْقُرْآنَ ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَلْ سَأَلْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَمْ يَمْلُكُ هَذِهِ الْأُمَّةَ مِنْ خَلِيفَةٍ ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ مُذْ قَدِمْتُ الْعِرَاقَ قَبْلَكَ ثُمَّ قَالَ : نَعَمْ ، وَلَقَدْ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " اثْنَا عَشَرَ كَعِدَّةِ نُقَبَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَثَّقَهُ النَّسَائِيُّ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
مسروق بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے وہ ہمیں قرآن پڑھاتے تھے ایک شخص نے کہا: اے ابوعبدالرحمن ! کیا آپ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا تھا کہ اس امت میں خلافت کب تک رہے گی ؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب سے میں عراق آیا ہوں تم سے پہلے کسی نے مجھ سے اس بارے میں دریافت نہیں کیا پھر انہوں نے فرمایا : جی ہاں ! ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا : ” بنی اسرائیل کے نقباء کی تعداد میں بارہ ( خلفاء ) ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8968
وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ : كُنْتُ مَعَ عَمِّي عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَخْطُبُ فَقَالَ : " لَا يَزَالُ أَمْرُ أُمَّتِي صَالِحًا حَتَّى يَمْضِيَ اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً " وَخَفَضَ بِهَا صَوْتَهُ ، فَقُلْتُ لِعَمِّي وَكَانَ أَمَامِي : مَا قَالَ يَا عَمُّ ؟ قَالَ : " كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اپنے چچا کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا آپ خطبہ دے رہے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس امت کا معاملہ ٹھیک رہے گا یہاں تک کہ بارہ خلفاء گزر جائیں “ ۔ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پست آواز میں کوئی بات ارشاد فرمائی ، میں نے اپنے چچا سے دریافت کیا : جو مجھ سے آگے موجود تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ارشاد فرمایا ہے : اے چچا ! انہوں نے جواب دیا : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے : ) ” ان سب کا تعلق قریش سے ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 8969
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا مَلَكَ اثْنَا عَشَرَ مِنْ بَنِي مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ كَانَ الْبُغْضُ وَالنِّفَاقُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ذُؤَادُ بْنُ عُلَبْةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ ذُؤَادٍ تِلْمِيذُهُ ضَعِيفٌ جِدًّا أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بنو مرہ بن کعب میں سے جب بارہ افراد حکمران بن جائیں گے ، تو پھر قیامت تک بغض اور نفاق ( حکومتی معاملات میں رہے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں زواد بن عبلہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اور ایک راوی اسماعیل بن ذؤاد ہے ، جو اس کا شاگرد ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں زواد بن عبلہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اور ایک راوی اسماعیل بن ذؤاد ہے ، جو اس کا شاگرد ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 8970
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ : " اثْنَا عَشَرَ قَيِّمًا مِنْ قُرَيْشٍ لَا يَضُرُّهُمْ عَدَاوَةُ مَنْ عَادَاهُمْ " . فَالْتَفَتُّ خَلْفِي فَإِذَا أَنَا بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فِي أُنَاسٍ فَأَثْبَتُوا لِي الْحَدِيثَ كَمَا سَمِعْتُ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ مِنْ حَدِيثِهِ وَحَدِيثِ أَبِيهِ فَقَطْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر خطبہ دینے کے دوران یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” بارہ حکمرانوں کا تعلق قریش سے ہو گا ، جو شخص ان سے دشمنی رکھے گا اس کی دشمنی انہیں نقصان نہیں پہنچائے گی “ ۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ لوگوں میں موجود تھے ، انہوں نے میری اس حدیث کو اسی طرح درست قرار دیا جس طرح میں نے سنی تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں ، ان کی اور ان کے والد کی نقل کردہ حدیث کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 8971
وَفِي رِوَايَةٍ : " لَا تَزَالُ هَذِهِ " . ¤ وَفِيهِ رَوْحُ بْنُ عَطَاءٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” یہ معاملہ مسلسل اسی طرح رہے گا “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی روح بن عطاء ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 8972
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ وَحْدَهُ زَادَ فِيهِ : ثُمَّ رَجَعَ - يَعْنِي النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - - إِلَى بَيْتِهِ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ : ثُمَّ يَكُونُ مَاذَا ؟ قَالَ : " ثُمَّ يَكُونُ الْهَرَجُ " . ¤ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
یہ روایت امام بزار نے صرف سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ اور اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر واپس تشریف لے گئے میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی : پھر کیا ہو گا ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : پھر قتل و غارت گری ہو گی ۔ اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔