کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: امامت کا آغاز کیسے ہو گا ، اور پھر یہ کس طرف جائے گی ، خلافت اور ملوکیت کا بیان
حدیث نمبر: 8960
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ : كُنَّا قُعُودًا فِي الْمَسْجِدِ ، وَكَانَ بَشِيرُ رَجُلًا يَكُفُّ حَدِيثَهُ ، فَجَاءَ أَبُو ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيُّ فَقَالَ : يَا بَشِيرُ بْنَ سَعْدٍ أَتَحْفَظُ حَدِيثَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْأُمَرَاءِ ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ : أَنَا أَحْفَظُ خُطْبَتَهُ فَجَلَسَ أَبُو ثَعْلَبَةَ فَقَالَ حُذَيْفَةُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَكُونُ النُّبُوَّةُ فِيكُمْ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا ، ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ ، فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ [ اللَّهُ ] أَنْ يَرْفَعَهَا ، ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا عَاضًّا فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا [ ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا جَبْرِيَّةً ، فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا ] ، ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ النُبُوَّةٍ " . ثُمَّ سَكَتَ . ¤ قَالَ حَبِيبٌ : فَلَمَّا قَامَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَكَانَ يَزِيدُ بْنُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ فِي صَحَابَتِهِ ، فَكَتَبْتُ إِلَيْهِ بِهَذَا الْحَدِيثِ أُذَكِّرُهُ إِيَّاهُ فَقُلْتُ : إِنِّي لَأَرْجُوَ أَنْ يَكُونَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ - يَعْنِي عُمَرَ - بَعْدَ الْمُلْكِ الْعَاضِّ وَالْجَبْرِيَّةِ فَأَدْخَلَ كِتَابِي عَلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَسُّرَ بِهِ وَأَعْجَبَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي تَرْجَمَةِ النُّعْمَانِ ، وَالْبَزَّارُ أَتَمُّ مِنْهُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِبَعْضِهِ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ ایسے شخص تھے جو زیادہ بات نہیں کرتے تھے ۔ سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ آئے ، اور بولے : اے بشیر بن سعد کیا آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمرانوں کے بارے میں حدیث یاد ہے ، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ یاد ہے پھر سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ بیٹھ گئے ، تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا : ” جب تک اللہ کو منظور ہو گا نبوت تمہارے درمیان رہے گی ( یعنی نبی تمہارے درمیان زندہ رہیں گے ) پھر اللہ تعالیٰ جب چاہے گا اسے اٹھا لے گا پھر نبوت کی منہاج پر خلافت ہو گی جب تک اللہ کو منظور ہو گا وہ رہے گی پھر جب اللہ تعالیٰ اسے اٹھانا چاہے گا ، تو اسے اٹھا لے گا پھر مضبوطی والی بادشاہی ہو گی جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہو گا وہ رہے گی پھر جب اللہ تعالیٰ اسے اٹھانا چاہے گا ، تو اسے اٹھا لے گا پھر آمریت والی بادشاہی ہو گی جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہو گا وہ رہے گی پھر جب اللہ تعالیٰ اسے اٹھانا چاہے گا اسے اٹھا لے گا پھر نبوت کی منہاج پر خلافت آئے گی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس کے بعد وہ خاموش ہو گئے ۔ حبیب نامی راوی کہتے ہیں : جب سیدنا عمر بن عبدالعزیز خلیفہ بنے اور یزید بن نعمان بن بشیر ان کے ساتھیوں میں شامل ہوئے ، تو میں نے انہیں یہ حدیث لکھ کر دی اور میں نے انہیں یہ بات یاد کروائی میں نے کہا: مجھے یہ امید ہے کہ اس سے مراد امیرالمؤمنین یعنی سیدنا عمر بن عبدالعزیز ہی ہوں گے کیونکہ وہ مضبوطی والی اور آمریت والی بادشاہی کے بعد آئے ہیں انہوں نے میرا مکتوب سیدنا عمر بن عبدالعزیز کے سامنے پڑھ کر سنایا تو وہ اس پر خوش ہوئے ، اور انہیں یہ اچھا لگا ۔
یہ روایت امام أحمد نے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے منقول روایات کے ضمن میں نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اسے زیادہ مکمل روایت کے طور پر نقل کیا ہے امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8960
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1588) اخرجه احمد فى المسند (273/4)»
حدیث نمبر: 8961
وَعَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ قَالَ : كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ يَتَنَاجَيَانِ بَيْنَهُمَا بِحَدِيثٍ فَقُلْتُ لَهُمَا : مَا حَفِظْتُمَا وَصِيَّةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ أَوْصَاهُمَا بِي . فَقَالَا : مَا أَرَدْنَا أَنْ نَنْتَجِيَ بِشَيْءٍ دُونَكَ إِنَّا ذَكَرْنَا حَدِيثًا حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَا يَتَذَاكَرَانِهِ وَقَالَا : " إِنَّهُ بَدَأَ هَذَا الْأَمْرُ نُبُوَّةً وَرَحْمَةً ، ثُمَّ كَائِنٌ خِلَافَةً وَرَحْمَةً ، ثُمَّ كَائِنٌ مُلْكًا عَضُوضًا ، ثُمَّ كَائِنٌ عُتُوًّا وَجَبْرِيَّةً وَفَسَادًا فِي الْأُمَّةِ يَسْتَحِلُّونَ الْحَرِيرَ وَالْخَمْرَ [ وَالْفُرُوجَ ] وَالْفَسَادَ [ فِي الْأُمَّةِ ] يُنْصَرُونَ عَلَى ذَلِكَ وَيُرْزَقُونَ أَبَدًا حَتَّى يَلْقَوُا اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ وَحْدَهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنْ أَوَّلَ دِينِكُمْ بَدَأَ نُبُوَّةً وَرَحْمَةً " فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ایک حدیث کے بارے میں سرگوشی میں بات کر رہے تھے میں نے ان دونوں سے کہا: کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کو یاد نہیں رکھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں صاحبان کو میرے بارے میں وصیت کی تھی ان دونوں نے کہا: ہم نے یہ ارادہ نہیں کیا کہ ہم آپ کو چھوڑ کر سرگوشی میں کوئی بات چیت کریں ہم ، تو ایک حدیث کا ذکر کر رہے تھے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ارشاد فرمائی تھی پھر ان دونوں نے حدیث کا ذکر کرتے ہوئے یہ بات کہی ( کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا ) ” اس معاملے ( یعنی حکومت ) کا آغاز نبوت اور رحمت سے ہو گا پھر خلافت اور رحمت ہو گی پھر مضبوطی والی بادشاہی ہو گی پھر سرکشی اور آمریت ہو گی اور اس امت میں فساد ہو گا کہ وہ لوگ ریشم اور شراب اور شرمگاہوں کو حلال قرار دیں گے اور اس امت میں فساد ہو گا کہ اس بارے میں ان کی مدد کی جائے گی اور انہیں ہمیشہ رزق دیا جائے گا یہاں تک کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو جائیں گے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اسے صرف سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کیا ہے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہارے دین کا آغاز نبوت اور رحمت کے ساتھ ہوا ہے اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8961
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1589) اخرجه ابو يعلى فى المسند (873,874)»
حدیث نمبر: 8962
عَنْ مُعَاذٍ وَأَبِي عُبَيْدَةَ قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي يَعْلَى وَزَادَ : " يَسْتَحِلُّونَ الْحَرِيرَ ، وَالْفُرُوجَ ، وَالْخُمُورَ " . ¤ وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
یہ روایت امام طبرانی نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ وہ دونوں بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کے بعد راوی نے امام ابویعلیٰ کی نقل کردہ حدیث کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ تا ہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں ” وہ لوگ ریشم ، شرمگاہوں ، اور شراب کو حرام قرار دیدیں گے “ ۔
اس روایت کی سند میں ایک راوی بن ابوسلیم ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ مدلس ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8962
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (367)»
حدیث نمبر: 8963
عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ قَالَ : لَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْفَعْنِي إِلَى رَجُلٍ حَسَنِ التَّعْلِيمِ ، فَدَفَعَنِي إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ ثُمَّ قَالَ : " قَدْ دَفَعْتُكَ إِلَى رَجُلٍ يُحْسِنُ تَعْلِيمَكَ وَأَدَبَكَ " . ¤ فَأَتَيْتُ وَهُوَ وَبَشِيرُ بْنُ سَعْدٍ أَبُو النُّعْمَانِ يَتَحَدَّثَانِ فَلَمَّا رَأَيَانِي سَكَتَا فَقُلْتُ : يَا أَبَا عُبَيْدَةَ وَاللَّهِ مَا هَكَذَا حَدَّثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : فَاجْلِسْ حَتَّى نُحَدِّثَكَ فَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ فِيكُمُ النُّبُوَّةَ ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا وَجَبْرِيَّةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ وَرَجُلٌ مَجْهُولٌ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میری ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے کسی ایسے شخص کے سپرد کیجئے جو اچھی طرح تعلیم دیتا ہو ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیا اور پھر ارشاد فرمایا : میں نے تمہیں ایک ایسے شخص کے حوالے کیا ہے جو تمہیں اچھے طریقے سے تعلیم دے گا ، اور تمہاری اچھی تربیت کرے گا ۔ سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں آیا تو اس وقت سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ، سیدنا ابونعمان بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے جب ان دونوں نے مجھے دیکھا تو وہ دونوں خاموش ہو گئے میں نے کہا: اے سیدنا ابوعبیدہ ! اللہ کی قسم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ، تو مجھے اس طرح بیان نہیں کیا تھا انہوں نے فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ! ہم تمہیں بیان کرتے ہیں : پھر انہوں نے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تمہارے درمیان نبوت ہو گی پھر نبوت کی منہاج پر خلافت ہو گی اور پھر بادشاہت اور آمریت ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا اور ایک راوی مجہول بھی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8963
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (368)»
حدیث نمبر: 8964
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَوَّلُ هَذَا الْأَمْرِ نُبُوَّةٌ وَرَحْمَةٌ ، ثُمَّ يَكُونُ خِلَافَةً وَرَحْمَةً ، ثُمَّ يَكُونُ مُلْكًا وَرَحْمَةً ، ثُمَّ يَكُونُ إِمَارَةً وَرَحْمَةً ، ثُمَّ يَتَكَادَمُونَ عَلَيْهَا تَكَادُمَ الْحَمِيرِ ، فَعَلَيْكُمْ بِالْجِهَادِ ، وَإِنَّ أَفْضَلَ جِهَادِكُمُ الرِّبَاطُ ، وَإِنَّ أَفْضَلَ رِبَاطِكُمْ عَسْقَلَانُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس معاملے کا آغاز نبوت اور رحمت سے ہو گا پھر خلافت اور رحمت ہو گی پھر بادشاہی اور رحمت ہو گی پھر حکمرانی اور رحمت ہو گی اور پھر لوگ اس کے حوالے سے یوں ایک دوسرے کو کاٹیں گے جس طرح گدھے ایک دوسرے کو کاٹتے ہیں ، تو تم پر جہاد کرنا لازم ہے ، اور تمہارے جہاد میں سب سے زیادہ فضیلت پہریداری کو حاصل ہے ، اور تمہاری سب سے زیادہ فضیلت والی پہریداری عسقلان میں ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8964
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (11138)»
حدیث نمبر: 8965
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ جَابِرٍ الصَّدَفِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " سَيَكُونُ مِنْ بَعْدِي خُلَفَاءُ ، وَمِنْ بَعْدِ الْخُلَفَاءِ أُمَرَاءُ ، وَمِنْ بَعْدِ الْأُمَرَاءِ مُلُوكٌ ، وَمِنْ بَعْدِ الْمُلُوكِ جَبَابِرَةٌ ، ثُمَّ يَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يَمْلَأُ الْأَرْضَ عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جُورًا ، ثُمَّ يُؤَمَّرُ الْقَحْطَانِيُّ فَوَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ مَا هُوَ دُونَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
قیس بن جابر صدفی ، اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تقریب میرے بعد خلفاء ہوں گے اور خلفاء کے بعد امراء ہوں گے اور امراء کے بعد بادشاہ ہوں گے اور بادشاہوں کے بعد ظالم حکمران ہوں گے پھر میرے اہل بیت کا ایک شخص نکلے گا ، جو زمین کو عدل سے یوں بھر دے گا جیسے وہ پہلے ظلم سے بھری ہوئی تھی پھر ایک قحطانی کو امیر بنایا جائے گا اس ذات کی قسم ! جس نے مجھے حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے وہ اس سے کم نہیں ہو گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8965
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (374/22)»
حدیث نمبر: 8966
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ثَلَاثُونَ نُبُوَّةٌ ، وَمُلْكٌ ثَلَاثُونَ وَجَبَرُوتٌ ، وَمَا وَرَاءَ ذَلِكَ لَا خَيْرَ فِيهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَطَرُ بْنُ الْعَلَاءِ الرَّمْلِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تیس ( سال ) نبوت ہو گی تیس سال بادشاہی اور جبر کی حکومت ہو گی اور پھر اس کے بعد جو ہو گا اس میں بھلائی نہیں ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مطر بن علاء رملی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8966
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (9424)»