کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: بنو عباس کی حکومت کا بیان
حدیث نمبر: 8953
عَنِ الْعَبَّاسِ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ : " انْظُرْ هَلْ تَرَى فِي السَّمَاءِ نَجْمًا ؟ " قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : " مَا تَرَى ؟ " قَالَ : قُلْتُ : الثُّرَيَّا . قَالَ : " أَمَا إِنَّهُ سَيَلِي هَذِهِ الْأُمَّةَ بِعَدَدِهَا مِنْ صُلْبِكَ اثْنَيْنِ فِي فِتْنَةٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو مَيْسَرَةَ مَوْلَى الْعَبَّاسِ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ إِلَّا فِي تَرْجَمَةِ أَبِي قُبَيْلٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک رات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا آپ نے ارشاد فرمایا : آپ دیکھیں کہ آپ کو آسمان میں کوئی ستارہ نظر آ رہا ہے ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : آپ نے کیا دیکھا ہے میں نے جواب دیا : ثریا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عنقریب اتنی ہی تعداد میں ، آپ کی اولاد میں سے لوگ اس امت کے حکمران بنیں گے ، جو ایک آزمائش ( کے بعد حکمران بنیں گے ) “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومیسرہ ہے جو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا غلام ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں البتہ ابوقبیل کے ترجمہ میں اس کا تذکرہ ہے امام أحمد کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8953
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (1786)»
حدیث نمبر: 8954
وَعَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : إِنَّ عِنْدِي لَحَدِيثًا ، وَلَوْ أَرَدْتُ أَنْ آكُلَ بِهِ الدُّنْيَا أَكَلْتُهَا ، وَلَكِنْ لَا يَسْأَلُنِي اللَّهُ عَنْ حَدِيثٍ أَرْفَعُهُ إِلَى السُّلْطَانِ ، قَالَ أَبِي : قُلْتُ : مَا هُوَ ؟ فَقَالَ : لَمَّا خَرَجَ زَيْدٌ أَتَيْتُ خَالَتِي الْغَدَ فَقُلْتُ لَهَا : يَا أُمَّهُ قَدْ خَرَجَ زَيْدٌ فَقَالَتْ : الْمِسْكِينُ يُقْتَلُ كَمَا قُتِلَ آبَاؤُهُ . فَقُلْتُ لَهَا : إِنَّهُ خَرَجَ مَعَهُ ذَوُو الْحِجَا . فَقَالَتْ : كُنْتُ عِنْدَ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَذَاكَرُوا الْخِلَافَةَ فَقَالَتْ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَذَاكَرُوا الْخِلَافَةَ بَعْدَهُ فَقَالُوا : وَلَدُ فَاطِمَةَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَصِلُونَ إِلَيْهَا أَبَدًا وَلَكِنَّهَا فِي وَلَدِ عَمِّي وَصِنْوُ أَبِي حَتَّى يُسَلِّمُوهَا إِلَى الدَّجَّالِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
ابومعاویہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ یہ فرماتے ہیں : میرے پاس ایک حدیث موجود ہے اگر میں چاہوں ، تو اس کے ذریعے دنیا حاصل کر سکتا ہوں ، لیکن اللہ تعالیٰ مجھ سے ایسی حدیث کے بارے میں نہیں دریافت کرے گا ، جو میں حکمران تک لے کے جاؤں ، میرے والد نے کہا: وہ روایت کون سی ہے ؟ انہوں نے بتایا جب امام زید نے خروج کیا ، تو اگلے دن صبح میں اپنی خالہ کے پاس آیا میں نے ان سے کہا: اے امی جان ! امام زید نے خروج کر لیا ہے ۔ انہوں نے فرمایا : یہ مسکین قتل ہو گا جس طرح اس کے باپ دادا قتل ہوئے تھے میں نے ان سے کہا: ان کے ساتھ صاحب حیثیت لوگوں نے بھی خروج کیا ہے ، تو انہوں نے فرمایا : میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس موجود تھی ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں لوگوں نے خلافت کا تذکرہ کیا ، تو سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ایک مرتبہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ۔ لوگوں نے آپ کے بعد خلافت کا تذکرہ کیا اور عرض کی : سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد کو ( خلافت ملے گی ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ اس تک کبھی نہیں پہنچیں گے بلکہ خلافت میرے چچا کی اولاد میں سے ہو گی جو میرے والد کے سگے ہیں یہاں تک کہ وہ لوگ اسے ( یعنی حکومت کو ) دجال کے حوالے کریں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8954
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (420/23)»
حدیث نمبر: 8955
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : " لَا يَمْلِكُ أَحَدٌ مِنْ بَنِي أُمَيَّةَ سَنَةً إِلَّا مَلَكَ وَلَدُ الْعَبَّاسِ سِنِينَ " . ¤ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ : يَا أَبَا حَمْزَةَ أَقَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ كَمَا أَنَّكَ هَهُنَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ بَكْرُ بْنُ يُونُسَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : بنوامیہ میں سے اگر کوئی شخص ایک سال حکمران رہے گا ، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی اولاد کا فرد دو سال ( یا چند سال ) حکمران رہے گا ۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے ایک شخص نے کہا: اے ابوحمزہ کیا یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی ہے ؟ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی ہاں ! جس طرح تم یہاں ہو ( اسی طرح یہ حقیقت ہے کہ یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بکر بن یونس ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8955
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 8956
وَعَنْ أُمِّ الْفَضْلِ قَالَتْ : مَرَرْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ جَالِسٌ بِالْحِجْرِ فَقَالَ : " يَا أُمَّ الْفَضْلِ " قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : " إِنَّكِ حَامِلٌ بِغُلَامٍ " قُلْتُ : وَكَيْفَ وَقَدْ تَحَالَفَتْ قُرَيْشٌ أَنْ لَا يَأْتُوا النِّسَاءَ ؟ قَالَ : " هُوَ مَا أَقُولُ فَإِذَا وَضَعْتِيهِ فَائْتِينِي بِهِ " قَالَتْ : فَلَمَّا وَضَعْتُهُ أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَذَّنَ فِي أُذُنِهِ الْيُمْنَى وَأَقَامَ فِي أُذُنِهِ الْيُسْرَى ، وَأَلْبَأَهُ مِنْ رِيقِهِ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ ، ثُمَّ قَالَ : " اذْهَبِي بِأَبِي الْخُلَفَاءِ " قَالَتْ : فَأَتَيْتُ الْعَبَّاسَ فَأَعْلَمْتُهُ ، وَكَانَ رَجُلًا لَبَّاسًا جَمِيلًا مَدِيدَ الْقَامَةِ فَتَلَبَّسَ ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، قَامَ إِلَيْهِ فَقَبَّلَ مَا بَيْنَ عَيْنَيْهِ ثُمَّ أَقْعَدَهُ عَنْ يَمِينِهِ ثُمَّ قَالَ : " هَذَا عَمِّيَ فَمَنْ شَاءَ فَلْيُبَاهِ بِعَمِّهِ " . فَقَالَ الْعَبَّاسُ : بَعْضُ الْقَوْلِ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " وَلِمَ لَا أَقُولُ هَذَا يَا عَمُّ وَأَنْتَ عَمِّي وَبَقِيَّةُ آبَائِي وَوَارِثِي ، وَخَيْرُ مَنْ أَخْلُفُ مِنْ بَعْدِي مِنْ أَهْلِي ؟ ! " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَتْ أُمُّ الْفَضْلِ كَذَا وَكَذَا . قَالَ : " هِيَ يَا عَبَّاسُ بَعْدَ ثِنْتَيْنِ وَثَلَاثِينَ وَمِائَةٍ ، ثُمَّ مِنْكُمُ السَّفَّاحُ وَالْمَنْصُورُ وَالْمَهْدِيُّ ، وَهِيَ فِي أَوْلَادِهِمْ حَتَّى يَكُونَ آخِرُهُمِ الَّذِي يُصَلِّي بِالْمَسِيحِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ رَاشِدٍ الْهِلَالِيُّ وَقَدِ اتُّهِمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیده ام فضل رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزری آپ اس وقت حطیم میں تشریف فرما تھے آپ نے ارشاد فرمایا : اے ام فضل ! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہیں ایک لڑکے کا حمل ہے میں نے عرض کی : یہ کیسے ہو سکتا ہے ، جبکہ قریش نے یہ طے کر رکھا ہے کہ وہ خواتین کے پاس نہیں جائیں گے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ویسا ہی ہو گا جیسے میں نے کہا: ہے ، جب تم اس بچے کو جنم دو تو اسے میرے پاس لے کے آنا سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں جب میں نے اس بچے کو جنم دیا تو میں اس کو لے کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے دائیں کان میں اذان دی اور بائیں کان میں اقامت کہی اور آپ نے اپنا لعاب دہن اس کے منہ میں ڈالا اور اس کا نام عبداللہ رکھا پھر آپ نے ارشاد فرمایا : خلفاء کے باپ کو لے جاؤ سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور انہیں اس بارے میں بتایا وہ ایک خوش لباس ، وجیہ و شکیل ، لمبی قامت کے شخص تھے ، انہوں نے ( باہر جانے کا ) لباس پہنا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں ملاحظہ فرمایا : تو آپ اٹھ کر ان کی طرف بڑھے اور ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور پھر انہیں دائیں طرف بٹھا لیا پھر ارشاد فرمایا یہ میرے چچا ہیں جو شخص چاہے وہ اپنے چچا کے ساتھ مقابلہ کر لے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : یا رسول اللہ ! ایک بات ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں یہ بات کیوں نہ کہوں کہ یہ چچا ہیں جبکہ آپ میرے چچا ہیں اور میرے آباء و اجداد کے باقی رہ جانے والے فرد ہیں اور میرے وارث ہیں اور ان سب میں بہتر ہوں گے جنہیں میں اپنے خاندان کے افراد میں سے پیچھے چھوڑ کے جاؤں گا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ام فضل نے یہ ، یہ بات کہی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایسا ہی ہو گا اے سیدنا عباس ! یہ ایک سو بتیس کے بعد ہو گا پھر آپ لوگوں کی اولاد میں سفاح ہو گا منصور ہو گا مہدی ہو گا ، اور یہ حکومت ان کی اولاد میں باقی رہے گی یہاں تک کہ ان کا آخری فرد سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے ساتھ نماز ادا کرے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن راشد ہلالی ہے اس حدیث کے حوالے سے اس پر تہمت عائد کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8956
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
حدیث نمبر: 8957
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخَذَ بِيَدِ عَمِّهِ الْعَبَّاسِ ثُمَّ قَالَ : " يَا عَبَّاسُ إِنَّهُ لَا تَكُونُ نُبُوَّةٌ إِلَّا كَانَ بَعْدَهَا خِلَافَةٌ ، وَسَيَلِي مِنْ وَلَدِكَ آخِرَ الزَّمَانِ سَبْعَةَ عَشَرَ ، مِنْهُمُ السَّفَّاحُ ، وَمِنْهُمُ الْمَنْصُورُ ، وَمِنْهُمُ الْمَهْدِيُّ وَلَيْسَ بِمَهْدِيٍّ ، وَمِنْهُمُ الْجَمُوحُ ، وَمِنْهُمُ الْعَاقِبُ ، وَمِنْهُمُ الْوَاهِنُ مِنْ وَلَدِكَ ، وَوَيْلٌ لِأُمَّتِي مِنْهُ كَيْفَ يَعْقِرُهَا وَيُهْلِكُهَا وَيَذْهَبُ بِأَمْوَالِهَا هُوَ وَأَتْبَاعُهُ عَلَى غَيْرِ دِينِ الْإِسْلَامِ ، فَإِذَا بُويِعَ لِصُلْبِهِ فَعِنْدَ الثَّامِنِ عَشَرَ انْقِطَاعُ دَوْلَتِهِمْ وَخُرُوجُ أَهْلِ الْمَغْرِبِ مِنْ بُيُوتِهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْأَوَّلِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُعَلِّمِ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے اپنے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور پھر ارشاد فرمایا : اے سیدنا عباس ! جب بھی نبوت ہو تو اس کے بعد خلافت ہوتی ہے آخری زمانے میں آپ کی اولاد کے لوگ حکمران بنیں گے وہ سترہ افراد ہوں گے ان میں سے ایک سفاح ہو گا ان میں سے ایک منصور ہو گا ان میں سے ایک مہدی ہو گا ، جو مہدی نہیں ہو گا ان میں سے ایک جموح ہو گا ان میں سے ایک عاقب ہو گا ان میں سے ایک واہن ہو گا ، جو آپ کی اولاد میں سے ہو گا ، اور اس کے حوالے سے میری امت کے لئے بربادی ہے کہ وہ کیسے انہیں بانجھ کر دے گا انہیں ہلاکت کا شکار کر دے گا ان کے اموال ضائع کر دے گا وہ اور اس کے پیرو کار لوگ دین اسلام پر نہیں ہوں گے اور جب اس کے سگے بیٹے کی بیعت کی جائے گی ، تو اٹھارویں فرد کے وقت ان کی حکومت ختم ہو جائے گی اور اہل مغرب اپنے گھروں سے نکل آئیں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالاول بن عبداللہ معلم ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8957
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 8958
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلْعَبَّاسِ : " لَنْ تَذْهَبَ الدُّنْيَا حَتَّى يَمْلُكَ مِنْ وَلَدِكَ يَا عَمُّ فِي آخِرِ الزَّمَانِ عِنْدَ انْقِطَاعِ دَوْلَتِهِمْ وَهُوَ الثَّامِنُ عَشَرَ ، يَكُونُ مَعَهُ فِتْنَةٌ عَمْيَاءُ صَمَّاءُ يُقْتَلُ مِنْ كُلِّ عَشَرَةِ آلَافٍ تِسْعَةُ آلَافٍ وَتِسْعُمِائَةٍ ، لَا يَنْجُو مِنْهَا إِلَّا الْيَسِيرُ يَكُونُ قِتَالُهُمْ بِمَوْضِعٍ مِنَ الْعِرَاقِ " . قَالَ : فَبَكَى الْعَبَّاسُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا يُبْكِيكَ ؟ إِنَّهُمْ شِرَارُ أُمَّتِي يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، يَطْلُبُونَ الدُّنْيَا وَلَا يَهْتَمُّونَ لِلْآخِرَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مِينَاءُ وَهُوَ كَذَّابٌ خَبِيثٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” اے چچا ! دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہو گی جب تک آپ کی اولاد میں سے آخری زمانے میں کچھ افراد حکمران نہیں بنیں گے اور پھر ان کی حکومت ختم ہو جائے گی اور وہ اٹھارواں فرد ہو گا جس کے ساتھ ایک ایسا فتنہ ہو گا ، جو گونگا ، اور بہرا کر دے گا ، اور اس کے دوران ہر دس ہزار افراد میں سے نو ہزار نو سو افراد قتل ہو جائیں گے صرف معمولی سے لوگ اس سے بچیں گے اور ان کی لڑائی عراق نامی جگہ پر ہو گی راوی کہتے ہیں : ، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ رو پڑے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ یہ میری امت کے بدترین لوگ ہوں گے جو دین سے یوں نکل جائیں گے جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے یہ لوگ دنیا کے طلبگار ہوں گے اور انہیں آخرت کی کوئی فکر نہیں ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی میناء ہے ، اور وہ کذاب اور خبیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8958
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 8959
وَعَنْ نُفَيْرِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَذْهَبُ وَلَدُ الْعَبَّاسِ حَتَّى تَغَيَّظَ عَلَيْهِمْ أَحْيَاءُ الْعَرَبِ ، فَيَكُونُ أَشَدُّ مَا يَكُونُ لَيْسَ لَهُمْ فِي السَّمَاءِ نَاصِرٌ وَلَا فِي الْأَرْضِ عَاذِرٌ كَأَنِّي بِهِمْ عَلَى بَغْلَاتِهِمْ بَيْنَ ظَهْرَانِيِّ الْكُوفَةِ فَتَقُولُ الْعَاتِقُ فِي خِدْرِهَا : اقْتُلُوهُمْ قَتْلَهُمُ اللَّهُ لَا تَرْحَمُوهُمْ لَا رَحِمَهُمُ اللَّهُ فَطَالَمَا لَمْ يَرْحَمُونَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤ وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ نَحْوِ هَذَا فِي بَابِ أَئِمَّةِ الظُّلْمِ وَالْجَوْرِ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نفیر بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی اولاد اس وقت تک ختم نہیں ہو گی جب تک عرب کے قبیلے ان کے خلاف اٹھ کھڑے نہیں ہوں گے اور اس وقت کی صورت حال ان کے لئے سب سے زیادہ سخت ہو گی ، جب نہ تو آسمان میں ان کا کوئی مددگار ہو گا ، اور نہ زمین میں کوئی ان کا عذر پیش کرنے والا ہو گا میں گویا اس وقت بھی انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ کوفہ کے درمیان اپنے خچروں پر سوار ہوں گے اور اس وقت کوئی پردہ نشین عورت پردے میں یہ کہے گی : ان لوگوں کو قتل کر دو ! اللہ تعالیٰ انہیں قتل کرے تم ان پر رحم نہ کرنا اللہ تعالیٰ ان پر رحم نہ کرے ، انہوں نے ایک طویل عرصہ تک ہم پر رحم نہیں کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس نوعیت کی کچھ احادیث آگے چل کر ظلم و ستم کرنے والے حکمرانوں سے متعلق باب میں آئیں گی اگر اللہ نے چاہا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8959
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف