حدیث نمبر: 8898
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِصَنَمٍ مِنْ نُحَاسٍ فَضَرَبَ ظَهْرَهُ بِظَهْرِ كَفِّهِ ثُمَّ قَالَ : " خَابَ وَخَسِرَ مَنْ عَبَدَكَ مَنْ دُونِ اللَّهِ " . ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جِبْرِيلُ وَمَعَهُ مَلَكٌ ، فَتَنَحَّى الْمَلَكُ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا شَأْنُهُ تَنَحَّى ؟ " قَالَ : إِنَّهُ وَجَدَ مِنْكَ رِيحَ نُحَاسٍ ، وَإِنَّا لَا نَسْتَطِيعُ رِيحَ النُّحَاسِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ يُوسُفَ الصَّنْعَانِيُّ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ أَبُو مُسْهِرٍ ، وَأَبُو سَبْرَةَ . قَالَ الذَّهَبِيُّ : لَا يُعْرَفُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ، تانبے کے بنے ہوئے بت کے پاس سے ہوا آپ نے اپنا دست مبارک اس کی پشت پر مارا اور پھر فرمایا وہ شخص رسواء ہو جائے ، اور خسارے کا شکار ہو جائے جو شخص اللہ کو چھوڑ کر تمہاری عبادت کرے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدنا جبرائیل آئے ان کے ساتھ ایک فرشتہ بھی تھا وہ فرشتہ پیچھے ہٹ گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کا کیا معاملہ ہے ؟ یہ کیوں پیچھے ہٹ گیا ہے سیدنا جبرائیل نے بتایا : اسے آپ سے تانبے کی بو محسوس ہوئی ہے ، اور ہم ( یعنی فرشتے ) تانبے کی بو برداشت نہیں کر سکتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن یوسف صنعانی ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور وہ متروک ہے ۔ ابومسہر نے اس کی تعریف کی ہے ایک راوی ابوسبرہ ہے امام ذہبی کہتے ہیں : یہ معروف نہیں ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن یوسف صنعانی ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور وہ متروک ہے ۔ ابومسہر نے اس کی تعریف کی ہے ایک راوی ابوسبرہ ہے امام ذہبی کہتے ہیں : یہ معروف نہیں ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔