کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: تماثیل اور تصویروں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 8887
عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي جِنَازَةٍ فَقَالَ : " أَيُّكُمْ يَنْطَلِقُ إِلَى الْمَدِينَةِ فَلَا يَدَعُ بِهَا وَثَنًا إِلَّا كَسَرَهُ ، وَلَا قَبْرًا إِلَّا سَوَّاهُ ، وَلَا صُورَةً إِلَّا لَطَّخَهَا ؟ " . فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَهَابَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ ، [ فَرَجِعَ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : أَنَا انْطَلِقُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَانْطَلِقْ . ] قَالَ : فَانْطَلَقَ ثُمَّ رَجَعَ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَدَعْ بِهَا وَثَنًا إِلَّا كَسَرْتُهُ ، وَلَا قَبْرًا إِلَّا سَوَّيْتُهُ ، وَلَا صُورَةً إِلَّا لَطَّخْتُهَا ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ عَادَ إِلَى صَنْعَةِ شَيْءٍ مِنْ هَذَا فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " . ¤ ثُمَّ قَالَ : " لَا تَكُونَنَّ مُخْتَالًا ، وَلَا فَتَّانًا ، وَلَا تَاجِرًا إِلَّا تَاجَرَ خَيْرٍ ، فَإِنَّ أُولَئِكَ هُمُ الْمُسَوِّفُونَ بِالْعَمَلِ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے میں شریک تھے آپ نے ارشاد فرمایا تم میں سے کون مدینہ جائے گا ، اور وہاں موجود ہر بت کو توڑ دے گا ، اور ہر قبر کو برابر کر دے گا ، اور ہر تصویر کو خراب کر دے گا ، تو ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں راوی کہتے ہیں لیکن وہ اہل مدینہ سے ڈر گیا اور واپس آ گیا ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں جاتا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم چلے جاؤ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لے گئے وہ واپس آئے ، تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے وہاں موجود ہر بت کو توڑ دیا ہے ہر قبر کو برابر کر دیا ہے ، اور ہر تصویر کو خراب کر دیا ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ان میں سے کوئی کام دوبارہ کرے گا وہ اس چیز کا کفر کرے گا ، جو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ہے “ ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم تکبر کرنے والے آزمائش کا شکار کرنے والے اور تجارت کرنے والے نہ ہونا البتہ بھلائی کی تجارت کرنے والے کا معاملہ مختلف ہے ، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو عمل کو ٹالتے رہتے ہیں ( کہ میں عنقریب ایسا کر لوں گا ) “ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8887
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (657)»
حدیث نمبر: 8888
وَفِي رِوَايَةٍ : عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَنْ يُسَوِّيَ كُلَّ قَبْرٍ ، وَأَنْ يُلَطِّخَ كُلَّ صَنَمٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أَدْخُلَ بُيُوتَ قَوْمِي ، قَالَ : فَأَرْسَلَنِي . فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤ رَوَى الْأَوَّلَ أَحْمَدُ ، وَرَوَى الثَّانِيَ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری کو بھیجا تاکہ وہ ہر قبر کو برابر کر دے اور ہر بت کو خراب کر دے اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ میں اپنی قوم کے گھروں میں داخل ہو جاؤں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ پہلی روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور دوسری روایت ان کے صاحبزادے عبداللہ نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8888
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (1176)»
حدیث نمبر: 8889
وَفِي رِوَايَةٍ : عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ - قَالَ : وَيُكَنِّيهِ أَهْلُ الْبَصْرَةِ أَبَا مُوَرَّعٍ قَالَ : وَأَهْلُ الْكُوفَةِ يُكَنُّونَهُ بِأَبِي مُحَمَّدٍ - قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ أَحْمَدَ الْأَوَّلِ ، وَلَمْ يَقُلْ عَنْ عَلِيٍّ وَقَالَ فِيهِ : " وَلَا صُورَةً إِلَّا طَلَخَهَا " بَدَلُ : " لَطَّخَهَا " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُهُ ، وَفِيهِ أَبُو مُحَمَّدٍ الْهُذَلِيُّ ، وَيُقَالُ : أَبُو مُوَرَّعٍ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ وَثَّقَهُ وَقَدْ رَوَى عَنْهُ جَمَاعَةٌ ، وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : اہل بصرہ سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب سے
یہ روایت منقول ہے اہل بصرہ ان کی کنیت ابومورع بیان کرتے ہیں ، لیکن اور اہل کوفہ ان کی کنیت ابومحمد بیان کرتے ہیں : وہ صاحب کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے امام أحمد کے نقل کردہ پہلی والی روایت کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ اور اس میں یہ بات بیان نہیں کی کہ
یہ روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، اور اس میں ایک لفظ ” طلخھا“ کی جگہ لفظ ” لطخھا نقل کیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس کا ایک حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور ان کے صاحبزادے نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومحد ہذلی ہے ایک قول کے مطابق اس کی کنیت ابومورع ہے میں نے کسی کو اس کی ، توثیق کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ایک جماعت نے اس سے روایات نقل کی ہیں کسی نے اسے ضعیف قرار نہیں دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8889
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (506) اخرجه أحمد فى المسند (1177 و 657)»
حدیث نمبر: 8890
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " اجْلِسِي حَتَّى يَأْتِيَنِي جِبْرِيلُ فَتُسَلِّمِينَ عَلَيْهِ ، وَيَدْعُوَ لَكِ بِالْخَيْرِ " فَجَاءَ جِبْرِيلُ ، فَقَامَ بِالْبَابِ ، ثُمَّ رَجَعَ وَلَمْ يَدْخُلْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا بَالُ جِبْرِيلَ رَجَعَ وَلَمْ يَدْخُلْ ؟ " فَلَقِيَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَزْلَةً أُخْرَى فَقَالَ : " يَا جِبْرِيلُ جَلَسَتْ عَائِشَةُ لِتُسَلِّمَ عَلَيْكَ ، وَتَدْعُوَ لَهَا بِالْخَيْرِ فَرَجَعَتْ عَنْ بَابِنَا وَلَمْ تَدْخُلْ عَلَيْنَا ؟ " . فَقَالَ جِبْرِيلُ : إِنِّي جِئْتُ لِأَدْخُلَ عَلَيْكُمْ فَوَجَدْتُ تِلْكَ الدُّوَيْبَّةَ أَوِ التِّمْثَالَ . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ : مَجْهُولٌ ، وَفِيهِ مَسْتُورٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیان کرتی ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم بیٹھی رہو ! جبرائیل میرے پاس آئے گا تم اسے سلام کرنا وہ تمہارے لئے دعائے خیر کرے گا ۔ سیدنا جبرائیل آئے ، اور دروازے پر کھڑے ہو گئے ، اور اندر آئے بغیر واپس چلے گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جبرائیل کا کیا معاملہ ہے وہ اندر آئے بغیر واپس چلا گیا پھر دوسری مرتبہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان سے ملاقات ہوئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے جبرائیل عائشہ تمہیں سلام کرنے کے لئے بیٹھی تھی تاکہ تم اس کے لئے دعائے خیر کرو اور تم ہمارے دروازے سے واپس چلے گئے ، اور ہمارے ہاں اندر نہیں آئے ، تو سیدنا جبرائیل نے عرض کی : میں آپ کے پاس اندر آنے کے لئے ہی آیا تھا ، لیکن میں نے اس چھوٹے جانور ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : تمثیل کو پایا ( اس لئے میں اندر نہیں آیا ) ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عبداللہ بن خالد بن سعید بن ابومریم ہے ابن ابوحاتم کہتے ہیں : یہ مجہول ہے اس میں مستور ہونا پایا جاتا ہے ( یا اس روایت میں ایک راوی مستور ہے ) اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8890
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 8891
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " وَعَدَنِي جِبْرِيلُ مَوْعِدًا وَإِنَّهُ أَبْطَأَ عَلَيَّ " ثُمَّ قَالَ : " إِنَّمَا مَنَعَنِي مِنْ ذَلِكَ صَوْتُ جَرَسٍ أَوْ صُورَةٌ فِي بَيْتٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَهْرَمَانُ آلِ الزُّبَيْرِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جبرائیل نے مجھ سے ملنے کا وعدہ کیا تھا ، اور اسے میرے پاس آنے میں تاخیر ہو گئی اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ( بعد میں جبرائیل نے مجھ سے کہا: ) میں گھنٹی کی آواز کی وجہ سے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) گھر میں موجود تصویر کی وجہ سے اندر نہیں آ پایا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن دینار ہے جو آل زبیر کا منشی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8891
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 8892
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا كَلْبٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے ہیں جس میں تصویر یا کتا موجود ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8892
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3860)»
حدیث نمبر: 8893
وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ الْبَيْتَ فَرَأَى صُورَةً [ فَدَعَا بِمَاءٍ ] فَجَعَلَ يَمْحُوهَا وَيَقُولُ : " قَاتَلَ اللَّهُ قَوْمًا يُصَوِّرُونَ مَا لَا يَخْلُقُونَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْعُمَرِيُّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہوئے ، تو آپ نے ایک تصویر ملاحظہ فرمائی آپ نے پانی منگوا کر اسے مٹانا شروع کیا اور ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اس قوم کو برباد کرے جو ان چیزوں کی تصویریں بناتے ہیں جنہیں وہ تخلیق نہیں کر سکتے ہیں“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خالد بن یزید عمری ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8893
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (407)»
حدیث نمبر: 8894
وَعَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ قَالَتْ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَلَّ ثَوْبًا وَهُوَ فِي الْكَعْبَةِ ثُمَّ جَعَلَ يَضْرِبُ التَّصَاوِيرَ الَّتِي فِيهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے کپڑا گیلا کروایا آپ اس وقت خانہ کعبہ میں موجود تھے اور پھر آپ نے خانہ کعبہ میں موجود تصویروں پر وہ کپڑا پھیرنا شروع کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8894
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (323/24)»
حدیث نمبر: 8895
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا تَدَخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةُ تِمْثَالٍ ، وَالْمُصَوِّرُونَ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي النَّارِ ، يَقُولُ لَهُمُ الرَّحْمَنُ : قُومُوا إِلَى مَا صَوَّرْتُمْ ، فَلَا يَزَالُونَ يُعَذَّبُونَ حَتَّى تَنْطِقَ الصُّوَرُ وَلَا تَنْطِقُ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الزُّعَيْزِعَةِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے ہیں جس میں کوئی تصویر موجود ہو قیامت کے دن تصویر بنانے والوں کو جہنم میں عذاب دیا جائے گا رحمان ان سے فرمائے گا : تم نے جو تصویریں بنائی تھیں تم اٹھ کر ان کی طرف جاؤ اور ان لوگوں کو مسلسل عذاب ہوتا رہے گا ، جب تک وہ تصویریں کلام نہیں کریں گی اور وہ کلام نہیں کر پائیں گی ( یعنی انہیں ہمیشہ عذاب ہوتا رہے گا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں صحیح میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوزعیزعہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8895
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11478)»
حدیث نمبر: 8896
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : كَانَ لِي غَزَالٌ مِنْ ذَهَبٍ ، فَأَمَرَنِي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ أَتَصَدَّقَ بِهِ فَفَعَلْتُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میرا سونے کا بنا ہوا ایک ہرن تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ حکم دیا میں اسے صدقہ کر دوں ، تو میں نے ایسا ہی کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8896
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (293/23)»
حدیث نمبر: 8897
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي التَّمَاثِيلِ : رَخَّصَ فِيمَا كَانَ يُوطَأُ ، وَكَرِهَ مَا كَانَ مَنْصُوبًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تماثیل کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تماثیل کے بارے میں اجازت دی ہے جو پاؤں کے نیچے آ جاتی ہیں اور انہیں ناپسندیدہ قرار دیا ہے جو لٹکی ہوئی ہوتی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ارقم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8897
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف