کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: بالوں اور داڑھی کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 8826
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَكْرِمُوا الشَّعْرَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ إِلْيَاسَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بالوں کا اکرام کرو ! “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خالد بن الیاس ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8826
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2974)»
حدیث نمبر: 8827
وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنِ اتَّخَذَ شَعْرًا فَلْيُحْسِنْ إِلَيْهِ أَوْ لِيَحْلِقْهُ " . ¤ وَكَانَ أَبُو قَتَادَةَ يُرَجِّلُ شَعْرَهُ غِبًّا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ عَلِيِّ بْنِ سَعِيدٍ الرَّازِيِّ قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ : لَيْسَ بِالْقَوِيِّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جس شخص نے بال رکھے ہوں وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے ورنہ انہیں مونڈوا دے “ راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ ایک دن کے وقفے کے ساتھ بال سنوارا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد علی بن سعید رازی سے نقل کی ہے ۔ امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے ہیں : یہ قوی نہیں ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8827
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 8828
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : كَانَ لِأَبِي قَتَادَةَ جُمَّةٌ ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَكْرِمْهَا وَادَّهِنْهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ رِوَايَةِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ عَنِ الْحِجَازِيِّينَ ، وَهِيَ ضَعِيفَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے بال لمبے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے دریافت کیا : تو آپ نے فرمایا : تم ان کا اکرام کرو اور انہیں تیل لگاؤ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اسماعیل بن عیاش کی اہل حجاز سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ اور
یہ روایت ضعیف ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8828
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (675)»
حدیث نمبر: 8829
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبْصَرَ رَجُلًا ثَائِرَ الرَّأْسِ ، فَقَالَ : " لِمَ يُشَوِّهُ أَحَدُكُمْ نَفْسَهُ ؟ " . وَأَشَارَ بِيَدِهِ . أَيْ خُذْ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مُوسَى بْنِ زَكَرِيَّا التُّسْتَرِيِّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جس کے بال بکھرے ہوئے تھے آپ نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی ایک شخص اپنے آپ کو کیوں قبیح کرتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اسے اشارہ کیا کہ تم انہیں کاٹ لو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد موسیٰ بن زکریا بن تستری کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8829
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 8830
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : سَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَاصِيَتَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْدُلَهَا ثُمَّ فَرَّقَ بَعْدُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بال سیدھے پیچھے کی طرف لے جایا کرتے تھے ( یعنی مانگ نہیں نکالتے تھے ) جتنا عرصہ اللہ کو منظور تھا آپ ایسا کرتے رہے پھر آپ نے بعد میں مانگ نکالنا شروع کر دی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8830
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (215/3)»
حدیث نمبر: 8831
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مِنْ سَعَادَةِ الْمُؤْمِنِ خِفَّةُ لِحْيَتِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ الْغَرْقِ قَالَ الْأَزْدِيُّ : كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مومن کی سعات مندی میں یہ بات شامل ہے کہ اس کی داڑھی ہلکی ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن غرق ہے ازدی کہتے ہیں : یہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8831
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (12920)»
حدیث نمبر: 8832
وَعَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ مَجْزَأَةَ أَنَّ أَبَا مَحْذُورَةَ كَانَتْ لَهُ قَصَّةٌ فِي مُقَدَّمِ رَأْسِهِ ، إِذَا قَعَدَ أَرْسَلَهَا فَتَبْلُغُ الْأَرْضَ ، فَقَالُوا لَهُ : أَلَا تَحْلِقُهَا ؟ فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَسَحَ عَلَيْهَا بِيَدِهِ . فَلَمْ أَكُنْ لِأَحْلِقَهَا حَتَّى أَمُوتَ [ فَلَمْ يَحْلِقْهَا حَتَّى مَاتَ ] . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ ثَابِتٍ الْمَكِّيُّ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : لَا يُحْمَدُ حَدِيثُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ صفیہ بنت مجزاۃ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کے سر کے آگے کی طرف اتنے لمبے بال تھے جب وہ بیٹھتے تھے ، اور انہیں کھولتے تھے ، تو وہ زمین تک پہنچ جاتے تھے لوگ انہیں کہتے آپ انہیں کٹواتے کیوں نہیں ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک ان پر پھیرا تھا تو میں مرتے دم تک انہیں نہیں مونڈواؤں گا ، تو انہوں نے مرتے دم تک انہیں نہیں مونڈوایا ۔ پہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن ثابت مکی ہے ۔ ابوحاتم کہتے ہیں : اس کی حدیث کی تعریف نہیں کی گئی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8832
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (6746)»
حدیث نمبر: 8833
وَعَنْ سَالِمٍ أَنَّهُ وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ غُلَامٌ حَدَثٌ فَسَمَّتْ عَلَيْهِ الرَّسُولُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَعَا لَهُ ، وَتَطَهَّرَ مِنْ فَضْلِ وَضُوئِهِ ، وَذَلِكَ الْيَوْمُ عَلَيْهِ ذُؤَابَةٌ وَقَدْ بَلَغَ أَوْ قَارَبَ يَبْلُغُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سالم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ ایک وفد کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے وہ ایک کمسن لڑکے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں برکت کی دعا دی اور اُن کے لیے دعا کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بچے ہوئے پانی سے انہوں نے وضو کیا ، ان دنوں اُن کے بال لمبے تھے اور وہ بالغ ہو چکے تھے یا بالغ ہونے کے قریب تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8833
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6381)»
حدیث نمبر: 8834
وَعَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - يَغْسِلُ رَأْسَهُ ثُمَّ يَتْرُكُ شَعْرَهُ مِنْ وَرَاءِ أُذُنَيْهِ . . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ہبیرہ بن یریم بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اپنا سر دھوتے تھے اور پھر اپنے بال کان کے پیچھے چھوڑ دیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8834
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8407)»
حدیث نمبر: 8835
وَعَنْ أَبِي مَعْمَرٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - كَانَ لَهُ ضَفِيرَتَانِ ، عَلَيْهِ مَسْحَةُ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ ، وَكَانَ دَقِيقَ السَّاقَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي ذُبَابٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابومعمر بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی گندھے ہوئے بالوں کی دو چوٹیاں ہوتی تھیں ، ان کا حلیہ زمانہ جاہلیت ( کے سادہ افراد ) کی طرح کا تھا ، اور ان کی پنڈلیاں کمزور تھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوذباب ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس راویت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8835
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8409)»
حدیث نمبر: 8836
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ رَأَى الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - مَا يَضْرِبُ شَعْرُهُ مَنْكِبَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحْتَسِبٌ أَبُو عَائِذٍ ، وَهُوَ لَيِّنٌ ، وَشَيْخُهُ شُجَاعٌ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن نامی راوی بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ ان کے بال کندھوں تک نہیں آتے تے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محتسب ابوعائذ ہے ، اور وہ کمزور ہے ، اور اس کا استاد شجاع ہے ، اور اس سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8836
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2530)»
حدیث نمبر: 8837
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ : رَأَيْتُ فِي رَأْسِ الْحَسَنِ قُزْعَةً فَلَقَدْ رَأَيْتُ الْحَسَنَ يَجْبِذُهَا حَتَّى يُدْنِيهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
حسن بن زید اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے سر میں کچھ لمبے بال دیکھے میں نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ انہیں سمیٹ لیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک ابن اسحاق ہے وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ مدلس ہے اس راویت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8837
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2538)»
حدیث نمبر: 8838
وَعَنْ عُبَيْدِ بْنِ زِيَادَةَ الْبَكْرِيِّ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى ابْنَيْ بِشْرٍ الْمَازِنِيَّيْنِ فَقُلْتُ : هَلْ رَأَيْتُمَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَالَا : نَعَمْ زَارَنَا فِي رِحَالِنَا فَقَرَّبْنَا إِلَيْهِ طَعَامًا فَأَكَلَ مِنْ طَعَامِنَا وَرَأَى فِي قَرْنِ أَحَدِنَا شَعَرَاتٍ مُلْتَفَّةً فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِ ، وَقَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي أُمَّتِي مِثْلَ هَذَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ طَالِبِ بْنِ قُرَّةَ الْأَذَنِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عبید بن زیادہ بکری بیان کرتے ہیں : میں سیدنا بشر مازنی رضی اللہ عنہ کے دو صاحبزادوں کے پاس گیا میں نے دریافت کیا : کیا آپ دونوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے ۔ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری رہائشی جگہ پر ہمارے پاس تشریف لائے تھے ہم نے کھانا آپ کی خدمت میں پیش کیا تھا تو آپ نے ہمارے کھانے میں سے کچھ کھایا تھا آپ نے ہم میں سے ایک کی پیشانی پر کچھ بال لپٹے ہوئے دیکھے ، تو اپنا دست مبارک اس پر رکھ دیا اور فرمایا : ” ہر طرح کی حمد اس اللہ کے لئے مخصوص ہے جس نے میری امت میں اس کی مانند بنائے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد طالب بن قرہ اذنی سے نقل کی ہے ۔ اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8838
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 8839
وَعَنِ ابْنَيْ بِشْرٍ قَالَا : دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَضَعْنَا لَهُ قَطِيفَةً لَنَا فَثَنَيْنَاهَا ، فَجَلَسَ وَأُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فِي بَيْتِنَا ، وَقَدَّمْنَا إِلَيْهِ زُبْدًا وَتَمْرًا وَكَانَ يُحِبُّ الزُّبْدَ ، وَكَانَ فِي رَأْسِ أَحَدِهِمْ قَرْنُ شَعْرٍ مُجْتَمِعٌ ، كَأَنَّهُ قَرَنٌ فَقَالَ : " أَلَا أَرَى فِي أُمَّتِي قَرْنًا ؟ " . فَذَكْرَ الْحَدِيثِ . ¤ وَنَصُّهُ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بشر رضی اللہ عنہ کے دونوں صاحبزادے بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ہم نے آپ کے لئے چٹائی بچھائی ہم نے اسے پھیلا دیا آپ تشریف فرما ہوئے آپ پر ہمارے گھر میں وحی بھی نازل ہوئی ہم نے آپ کے سامنے پنیر اور کھجوریں پیش کیں آپ پنیر کو پسند کرتے تھے ، ان لوگوں میں سے ایک شخص کے سر میں کچھ بالوں کی چوٹی تھے ، وہ اکٹھے تھے ، یوں جیسے سینگ ہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں اپنی امت میں سینگ نہیں دیکھ رہا ہوں ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، اور
یہ روایت امام ابوداؤد نے بھی نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8839
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح