کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: سفید بالوں اور خضاب لگانے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 8773
عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي الْإِسْلَامِ كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ عِنْدَ ذَلِكَ : فَإِنَّ رِجَالًا يَنْتِفُونَ الشَّيْبَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ شَاءَ فَلْيَنْتِفْ نُورَهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اسلام کی حالت میں بوڑھا ہو جائے ( یا اس کے بال سفید ہو جائیں ) تو یہ اس کے لئے قیامت کے دن نور ہوں گے “ ۔ آپ کے پاس موجود ایک صاحب نے آپ کی خدمت میں عرض کی : کچھ لوگ سفید بال اکھاڑ لیتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص چاہے وہ اپنے نور کو اکھاڑ لے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8773
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2973) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (304/18) اخرجه أحمد فى المسند (20/6)»
حدیث نمبر: 8774
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ كَانَ لَا يُغَيِّرُ شَيْبَهُ ، فَقِيلَ لَهُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَلَا تُغَيِّرُ ، فَقَدْ كَانَ أَبُو بَكْرٍ يُغَيِّرُ ؟ فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي الْإِسْلَامِ كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " وَمَا إِنَّا نُغَيِّرُ شَيْئًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے سفید بال متغیر نہیں کرتے تھے ( یعنی ان پر خضاب نہیں لگاتے تھے ) ان سے اس بارے میں بات کی گئی ، اے امیرالمؤمنین ! آپ ان کا متغیر نہیں کرتے جبکہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ متغیر کر لیتے تھے ( یعنی خضاب لگا لیتے تھے ) تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جس شخص کے اسلام کے دوران بال سفید ہو جائیں ، تو یہ اس کے لئے قیامت کے دن نور ہوں گے “ ۔ ( پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) تو میں ، اس میں سے کچھ بھی تبدیل نہیں کروں گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8774
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1846) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (58)»
حدیث نمبر: 8775
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي الْإِسْلَامِ كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ طَرِيفُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ الْعُقَيْلِيُّ : لَا يُتَابَعُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اسلام میں بوڑھا ہو جائے ( یعنی اس کے بال سفید ہو جائیں ) تو یہ اس کے لئے قیامت کے دن نور ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی طریف بن زید ہے عقیلی کہتے ہیں : اس حدیث کی متابعت نہیں کی گئی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8775
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1028)»
حدیث نمبر: 8776
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تَنْتِفُوا الشَّيْبَ فَإِنَّهُ نُورٌ ، مَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي الْإِسْلَامِ كُتِبَ لَهُ بِهَا عَشْرُ حَسَنَاتٍ ، وَحُطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ ، وَرُفِعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم سفید بال نہ اکھیڑو کیونکہ یہ نور ہیں جو شخص اسلام میں سفید بالوں والا ہو جائے ، تو اس کے عوض میں اس شخص کے لئے دس نیکیاں نوٹ کی جائیں گی اور اس کے عوض میں اس کے ایک گناہ کو مٹا دیا جائے گا ، اور اس کے عوض میں اس کا ایک درجہ بلند کیا جائے گا “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8776
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 8777
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَقُولُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - : إِنِّي لَأَسْتَحِي مِنْ عَبْدِي وَأَمَتِي [ يَشِيبَانَ فِي الْإِسْلَامِ ] ، فَتَشِيبُ لِحْيَةُ عَبْدِي وَرَأْسُ أَمَتِي فِي الْإِسْلَامِ أُعَذِّبُهُمَا [ فِي النَّارِ ] بَعْدَ ذَلِكَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ نُوحُ بْنُ ذَكْوَانَ ، وَغَيْرُهُ مِنَ الضُّعَفَاءِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” مجھے اپنے بندے اور اپنی کنیز سے حیاء آتی ہے جن کے اسلام میں بال سفید ہو جاتے ہیں میرے بندے کی داڑھی کے بال سفید ہو جاتے ہیں اور میری کنیز کے سر کے بال اسلام میں سفید ہو جاتے ہیں ( تو مجھے اس بات سے حیاء آتی ہے ) کہ میں اس کے بعد بھی انہیں جہنم میں عذاب دوں “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نوح بن ذکوان ہے ، اور اس کے علاوہ دیگر ضعیف راوی ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8777
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه ابويعليٰ فى المسند (2764)»
حدیث نمبر: 8778
وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي وَسَأَلْتُهُ ؟ فَقَالَ : كَانَ خِضَابُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْوَرْسَ وَالزَّعْفَرَانَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا بَكْرِ بْنِ عِيسَى ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
ابومالک اشجعی بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے والد کو سنا میں نے ان سے سوال کیا ، تو انہوں نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم ورس اور زعفران خضاب کے طور پر لگاتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف بکر بن عیسیٰ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8778
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2975) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8176) اخرجه احمد فى المسند (472/3)»
حدیث نمبر: 8779
وَعَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَأَخِي رَافِعُ بْنُ عَمْرٍو عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رَحِمَهُ اللَّهُ - وَأَنَا مَخْضُوبٌ بِالْحِنَّاءِ وَأَخِي مَخْضُوبٌ بِالصُّفْرَةِ فَقَالَ لِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَحِمَهُ اللَّهُ : هَذَا خِضَابُ الْإِسْلَامِ وَقَالَ لِأَخِي : هَذَا خِضَابُ الْإِيمَانِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَبِيبٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
حکم بن عمرو غفاری بیان کرتے ہیں : میں اور میرا بھائی رافع بن عمرو ، امیرالمؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے میں نے مہندی کا خضاب لگایا ہوا تھا ، اور میرے بھائی نے زرد خضاب لگایا ہوا تھا سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے میرے بارے میں فرمایا یہ اسلام کا خضاب ہے ، اور میرے بھائی کے لئے فرمایا یہ ایمان کا خضاب ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالصمد بن حبیب ہے یحیی بن معین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے امام أحمد نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8779
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 8780
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ : سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ خِضَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَكُنْ شَابَ إِلَّا يَسِيرًا ، وَلَكِنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ بَعْدَهُ خَضَبَا بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ . ¤ قَالَ : وَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - بِأَبِيهِ أَبِي قُحَافَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ يَحْمِلُهُ ، حَتَّى وُضِعَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَبِي بَكْرٍ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَرِضْوَانُهُ : " لَوْ أَقْرَرْتَ الشَّيْخَ فِي بَيْتِهِ لَأَتَيْنَاهُ تَكْرِمَةً لِأَبِي بَكْرٍ " . فَأَسْلَمَ وَرَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ كَالثَّغَامَةِ بَيَاضًا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " غَيِّرُوهُمَا ، وَجَنِّبُوهُ السَّوَادَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں : سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خضاب کے بارے میں دریافت کیا گیا : تو انہوں نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صرف معمولی سے بال سفید تھے ۔ آپ کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مہندی اور کتم کا خضاب لگایا کرتے تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ فتح مکہ کے دن اپنے والد سیدنا ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کو اٹھا کر لائے ، اور انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بٹھا دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم ان بزرگ کو اپنے گھر میں ہی رہنے دیتے ، ہم ان کے پاس چلے جاتے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی عزت افزائی کے لئے یہ بات ارشاد فرمائی ، سیدنا ابوقحافہ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا ان کے سر اور داڑھی کے بال ثغامہ ( نامی پھول ) کی طرح سفید تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : انہیں تبدیل کر دو لیکن سیاہ رنگ استعمال کرنے سے اجتناب کرنا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ صحیح میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8780
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (2831) اخرجه احمد فى المسند (160/3)»
حدیث نمبر: 8781
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى مَشْيَخَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ بِيضٌ لِحَاهُمْ ، فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، حَمِّرُوا وَصَفِّرُوا ، وَخَالِفُوا أَهْلَ الْكِتَابِ " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي بَابِ النَّهْيِ عَنْ لِبَاسِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا الْقَاسِمِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِيهِ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ انصاری بزرگوں کے پاس تشریف لائے جن کی داڑھیاں سفید تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے انصار کے گروہ ! زرد رنگ لگا لو اور اہل کتاب کے برخلاف کرو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے جو اس سے پہلے اس کو پہننے کی ممانعت سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف قاسم نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے اس کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے جو نقصان دہ نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8781
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (264/5)»
حدیث نمبر: 8782
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تَشَبَّهُوا بِالْأَعَاجِمِ غَيِّرُوا اللِّحَى " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ كُرَيْبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” عجمیوں کے ساتھ مشابہت اختیار نہ کرو اور داڑھی ( کا سفید رنگ ) تبدیل کر لو “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن کریب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8782
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2979)»
حدیث نمبر: 8783
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَنَا بِالْحِنَّاءِ وَنَهَى عَنِ السَّوَادِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مہندی لگانے کا حکم دیا تھا ، اور سیاہ ( خضاب ) سے منع کیا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8783
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2977)»
حدیث نمبر: 8784
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " اخْتَضِبُوا بِالْحِنَّاءِ ، فَإِنَّهُ يَزِيدُ فِي شَبَابِكُمْ وَنِكَاحِكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ مَيْمُونٍ التَّمَّارُ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مہندی کو خضاب کے طور پر لگاؤ ! یہ تمہاری جوانی اور تمہارے نکاح ( کی صلاحیت ) میں اضافہ کرے گی“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن میمون تمار ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8784
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2978)»
حدیث نمبر: 8785
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " غَيِّرُوا الشَّيْبَ ، وَإِنَّ أَحْسَنَ مَا غَيَّرْتُمْ بِهِ الشَّيْبَ الْحِنَّاءُ ، وَالْكَتَمُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سفید رنگ کو تبدیل کر دو اور جس چیز کے ذریعے تم اسے تبدیل کرو گے اس میں سب سے بہتر مہندی اور کتم ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن بشیر ہے ، اور وہ ثقہ ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8785
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2980)»
حدیث نمبر: 8786
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَحْسَنُ مَا غَيَّرْتُمْ بِهِ الشَّيْبَ الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ " . أَوْ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُخَضِّبُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ أَبُو النَّضْرِ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي الطُّفَيْلِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس چیز کے ذریعے تم سفید بالوں کو تبدیل کرو گے اس میں سب سے بہتر مہندی اور کتم ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مہندی اور کتم کا خضاب لگایا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابونضر ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے اس نے سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8786
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2976)»
حدیث نمبر: 8787
وَعَنْ أَنَسٍ أَنْ رَجُلًا دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبْيَضَ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ ، فَقَالَ : " أَلَسْتَ مُسْلِمًا ؟ " قَالَ : بَلَى . قَالَ : " فَاخْتَضِبْ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي سَارَّةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس کے سر اور داڑھی کے بال سفید تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم مسلمان نہیں ہو ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر تم خضاب لگاؤ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن ابوسارہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8787
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (3494)»
حدیث نمبر: 8788
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " اخْتَضِبُوا بِالْحِنَّاءِ فَإِنَّهُ طَيِّبُ الرِّيحِ يُسَكِّنُ الدَّوْخَةَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ طَرِيقِ الْحَسَنِ بْنِ دِعَامَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ شَرِيكٍ قَالَ الذَّهَبِيُّ : مَجْهُولَانِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’ مہندی کو خضاب کے طور پر لگاؤ کیونکہ اس کی خوشبو پاکیزہ ہے ، اور یہ سر کے درد ( یا سر کو چکرانے ) کو سکون دیتی ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے حسن بن دعامہ کے حوالے سے عمر بن شریک سے نقل کی ہے ۔ امام ذہبی کہتے ہیں : یہ دونوں مجہول ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8788
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (3621)»
حدیث نمبر: 8789
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كُنَّا يَوْمًا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَخَلَتْ عَلَيْهِ الْيَهُودُ فَرَآهُمْ بِيضَ اللِّحَى فَقَالَ : " مَا لَكُمْ لَا تُغَيِّرُونَ ؟ " . فَقِيلَ : إِنَّهُمْ يَكْرَهُونَ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَكِنَّكُمْ غَيِّرُوا وَإِيَّايَ السَّوَادَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ وَهُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے یہودی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی سفید داڑھیاں دیکھیں ، تو ارشاد فرمایا تم لوگ ان کو تبدیل کیوں نہیں کرتے ہو ( یعنی خضاب کیوں نہیں لگاتے ہو ؟ ) آپ کو بتایا گیا یہ لوگ اس کو ناپسند کرتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مسلمانوں سے فرمایا : ) لیکن تم لوگ اس کا رنگ تبدیل کرو اور سیاہ رنگ استعمال کرنے سے بچنا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور یہ حدیث حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8789
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (142)»
حدیث نمبر: 8790
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " غَيِّرُوا الشَّيْبَ وَلَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ وَلَا النَّصَارَى " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخٍ لَهُ اسْمُهُ أَحْمَدُ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ ثِقَةٌ ; لِأَنَّهُ أَكْثَرَ عَنْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سفید رنگ کو تبدیل کر دو ! یہودیوں یا عیسائیوں کے ساتھ مشابہت اختیار نہ کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ جس کا نام أحمد ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں بظاہر یہ لگتا ہے کہ وہ ثقہ ہیں کیونکہ امام طبرانی نے اس سے بکثرت روایات نقل کی ہیں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8790
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1252)»
حدیث نمبر: 8791
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : رَأَيْتُ فِي أَصْدَاغِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْحِنَّاءَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کنپٹیوں پر مہندی لگی ہوئی دیکھی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8791
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 8792
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَكَّةَ ، وَأَبُو بَكْرٍ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِهِ ، فَقَالَ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبَا قُحَافَةَ شَيْخٌ كَبِيرٌ وَإِنَّهُ بِنَاحِيَةِ مَكَّةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قُمْ بِنَا إِلَيْهِ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هُوَ أَحَقُّ أَنْ يَأْتِيَكَ فَجِيءَ بِأَبِي قُحَافَةَ ، كَأَنَّ رَأْسَهُ وَلِحْيَتَهُ ثَغَامَةٌ بَيْضَاءُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " غَيِّرُوهُ وَجَنِّبُوهُ السَّوَادَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ فَرَاهِيجَ ، وَثَّقَهُ يَحْيَى الْقَطَّانُ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے سرہانے کھڑے ہوئے تھے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں سیدنا ابوقحافہ رضی اللہ عنہ ایک عمر رسیدہ شخص ہیں اور وہ مکہ کے کنارے پر موجود ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ہمیں لے کر ان کی طرف چلو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ وہ آپ کے پاس آئیں پھر سیدنا ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کو لایا گیا تو ان کے سر اور داڑھی کے بال ثغامہ ( نامی پھول کی طرح سفید تھے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے تبدیل کر دو ! لیکن سیاہ رنگ استعمال کرنے سے بچنا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن فراہیج ہے ، جسے یحیی القطان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8792
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 8793
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ يُسَوِّدُونَ أَشْعَارَهُمْ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِمْ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ خَلَا قَوْلَهُ : " لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” آخری زمانے میں ایسے لوگ ہوں گے جو اپنے بال سیاہ کر لیں گے ، اللہ تعالیٰ ان کی طرف نظر رحمت نہیں کرے گا “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے ۔ تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہے : ” اللہ تعالی ان کی طرف نظر رحمت نہیں کرے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8793
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید
حدیث نمبر: 8794
وَعَنْ عُمَرَ أَنَّهُ عَرَضَتْ عَلَيْهِ مَوْلَاةٌ لَهُ أَنْ تَصْبُغَ لِحْيَتَهُ فَقَالَ : أَتُرِيدِينَ أَنْ تُطْفِئِي نُورِي كَمَا أَطْفَأَ فُلَانٌ نُورَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ان کنیز نے ان کے سامنے یہ پیشکش کی کہ وہ ان کی داڑھی کو رنگ دے ، تو انہوں نے فرمایا : کیا تم یہ چاہتی ہو کہ تم میرے نور کو بجھا دو ! جس طرح فلاں شخص نے اپنے نور کو بجھا دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے ، اور وہ مدلس ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8794
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (56)»
حدیث نمبر: 8795
وَعَنْ أَبِي عَامِرٍ سَلِيمِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : رَأَيْتُ عُمَرَ لَا يُغَيِّرُ مِنْ لِحْيَتِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ خَلَا بَكْرِ بْنِ سَهْلٍ قَالَ الذَّهَبِيُّ : مُقَارِبُ الْحَدِيثِ ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ . ¤
محمد محی الدین
ابوعامر سلیم بن عامر بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ اپنی داڑھی کا رنگ تبدیل نہیں کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں صرف بکر بن سہل کا معاملہ مختلف ہے امام ذہبی کہتے ہیں : یہ مقارب الحدیث ہے امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8795
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (57)»
حدیث نمبر: 8796
وَعَنْ مُسْتَقِيمِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَ : رَأَيْتُ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - مَا شَابَا وَمَا يُخَضِّبَانِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جُمْهُورُ بْنُ مَنْصُورٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
مستقیم بن عبدالملک بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ان دونوں کے بال بھی سفید نہیں ہوئے تھے اور یہ دونوں خضاب بھی نہیں لگاتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جمہور بن منصور ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8796
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2537)»
حدیث نمبر: 8797
وَعَنْ أُمِّ عَيَّاشٍ قَالَتْ : مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَضَّبَ حَتَّى مَاتَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ رَوْحٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُخْطِئُ وَيُخَالِفُ . وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ لَمْ يَتَكَلَّمْ فِيهِمْ أَحَدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام عیاش رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خضاب لگاتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ کا وصال ہو گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم بن روح ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ، اور برخلاف روایت نقل کرتا ہے دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال کے بارے میں کسی نے کلام نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8797
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (92/25)»
حدیث نمبر: 8798
وَعَنْ حَسَّانَ بْنِ أَبِي جَابِرٍ السُّلَمِيِّ قَالَ : كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالطَّائِفِ فَرَأَى رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِهِ قَدْ حَمَّرُوا لِحَاهُمْ وَصَفَّرُوا لِحَاهُمْ قَالَ : " مَرْحَبًا بِالْمُحَمِّرِينِ وَالْمُصَفِّرِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَتَابِعَيْهِ يُوسُفُ غَيْرُ مُسَمًّى ، وَبَقِيَّةُ : مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حسان بن ابوجابر سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ طائف میں موجود تھا آپ نے اپنے اصحاب میں سے کچھ افراد کو دیکھا کہ انہوں نے داڑھی پر سرخ رنگ لگایا ہے ، اور کچھ نے داڑھیوں پر زرد رنگ لگایا ہے ، تو آپ نے فرمایا : سرخ رنگ لگانے والوں اور زرد رنگ لگانے والوں کو خوش آمدید ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں تابعی یوسف نامی شخص ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اس میں ایک راوی بقیہ ہے جو مدلس ہے اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8798
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3595)»
حدیث نمبر: 8799
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، وَشُعَيْبِ بْنِ عَمْرٍو ، وَنَاجِيَةَ بْنِ عَمْرٍو قَالُوا : رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْضِبُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عَايِذُ بْنُ شُرَيْحٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور سیدنا شعیب بن عمرو رضی اللہ عنہ اور سیدنا ناجیہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ نے خضاب لگایا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عائذ بن شریح ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8799
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7234)»
حدیث نمبر: 8800
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَرَادَ أَنْ يُخَضِّبَ أَخَذَ شَيْئًا مِنْ دُهْنٍ وَزَعْفَرَانٍ فَرَشَهُ بِيَدِهِ ثُمَّ يَمْرُسُهُ عَلَى لِحْيَتِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو تَوْبَةَ بَشِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَلَمْ يَجْرَحْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب خضاب لگانے کا ارادہ کرتے تھے ، تو کچھ تیل اور زعفران لے کر اسے اپنے ہاتھ پر ملتے تھے اور پھر اسے اپنی داڑھی پر لگا لیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوتوبہ بشیر بن عبداللہ ہے ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے ، اور اس پر جرح نہیں کی ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8800
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11466)»
حدیث نمبر: 8801
وَعَنِ الْجَهْدَمَةِ قَالَتْ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ يَنْفُضُ رَأْسَهُ وَلِحْيَتَهُ مِنْ رَدْعِ الْحِنَّاءِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرٍ الدَّاهِرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ جہدمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نماز کے لئے تشریف لے گئے آپ کے سر اور داڑھی مبارک سے مہندی کی مہک پھوٹ رہی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر داہری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8801
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (208/24) .»
حدیث نمبر: 8802
وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُ بِتَغْيِيرِ الشَّعْرِ مُخَالَفَةً لِلْأَعَاجِمِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْأَحْوَصُ بْنُ حَكِيمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بالوں کا رنگ تبدیل کرنے کا حکم دیتے تھے تاکہ عجمیوں کے برخلاف ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی احوص بن حکیم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8802
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (129/17)»
حدیث نمبر: 8803
وَعَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ سَعْدًا كَانَ يُخَضِّبُ بِالسَّوَادِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سَلِيمُ بْنُ مُسْلِمٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَقَدْ رَوَاهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَفِيهِ تَوْثِيقٌ . ¤
محمد محی الدین
عامر بن سعد بیان کرتے ہیں : سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سیاہ رنگ کا خضاب لگاتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیم بن مسلم ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں انہوں نے اسے ایک سند کے ساتھ نقل کیا ہے جس میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے ، اور وہ ضعیف ہے اس کی ، توثق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8803
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (295,296)»
حدیث نمبر: 8804
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ، وَقَدْ سَوَّدَ شَيْبَهُ فَهُوَ مِثْلُ جَنَاحِ الْغُرَابِ فَقَالَ : مَا هَذَا يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أُحِبُّ أَنْ يُرَى فِيَّ بَقِيَّةٌ ، فَلَمْ يَنْهَهُ عَنْ ذَلِكَ ، وَلَمْ يَعِبْهُ عَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، قَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ : حَدَّثَنِي مَنْ أَثِقُ بِهِ . وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے سفید بالوں کو سیاہ خضاب لگایا ہوا تھا جو کوے کے پروں کی طرح تھا آپ نے فرمایا : اے ابوعبداللہ ! یہ کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : اے امیرالمؤمنین میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ مجھ میں بقیہ ( شاید مراد ، گزری جوانی ہے ) نظر آئے ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں اس سے منع نہیں کیا اور اس حوالے سے ان پر اعتراض نہیں کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے سعد بن ابومریم بیان کرتے ہیں : مجھے اس شخص نے حدیث بیان کی ہے ، جسے میں قابل اعتماد سمجھتا ہوں اس روایت کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8804
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 8805
وَعَنْ أَبِي عُشَّانَةَ أَنَّهُ رَأَى عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يُخَضِّبُ بِالسَّوَادِ ، وَيَقُولُ : نُسَوِّدُ أَعْلَاهَا وَتَأْبَى أُصُولُهَا . ¤ قَالَ : وَكَانَ شَاعِرًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، خَلَا أَبَا عُشَّانَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوعشانہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کو سیاہ خضاب لگاتے ہوئے دیکھا ہے وہ یہ کہتے تھے ہم اس ( سر یعنی بالوں ) کے اوپر والے حصے کو سیاہ کر دیتے ہیں لیکن اس کی جڑیں نہیں مانتی ہیں ۔ رادی کہتے ہیں : وہ صاحب شاعر تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابوعشانہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8805
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (268/17)»
حدیث نمبر: 8806
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّهُ رَأَى الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - مَخْضُوبًا بِالسَّوَادِ عَلَى فَرَسٍ ذَنُوبٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا محمد بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے ( عمامہ میں سے ) باہر آئے ہوئے ، بالوں پر سیاہ خضاب لگایا ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف محمد بن اسماعیل بن رجاء کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8806
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2536)»
حدیث نمبر: 8807
وَعَنْ سُلَيْمِ بْنِ الْهُذَيْلِ قَالَ : رَأَيْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَخْضِبُ رَأْسَهُ وَلِحْيَتَهُ بِالسَّوَادِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَسُلَيْمٌ وَالرَّاوِي عَنْهُ لَمْ أَعْرِفْهُمَا . ¤
محمد محی الدین
سلیم بن ہذیل بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اپنے سر اور داڑھی میں سیاہ خضاب لگائے ہوئے دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ سلیم نامی راوی اور اس سے روایت کرنے والا شخص ان دونوں سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8807
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2209)»
حدیث نمبر: 8808
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - كَانَ يَخْضِبُ بِالسَّوَادِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الَّذِي قَبْلَهُ ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُمَا مِنْ طُرُقٍ أُخْرَى ، وَهَذِهِ أَصَحُّهَا وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا محمد بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ سیاہ خضاب لگاتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کے رجال اور اس سے پہلی والی روایت کے رجال اور ان دونوں کو دیگر طرق سے بھی نقل کیا گیا ہے ، اور یہ زیادہ مستند ہے ، اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8808
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2789)»
حدیث نمبر: 8809
وَعَنْ أَنَسٍ : أَنَّ الْحُسَيْنَ كَانَ يَخْضِبُ بِالْوَسْمَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طُرُقٍ ، وَهَذَا أَصَحُّهَا ، وَرِجَالُهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ وسمہ کا خضاب لگاتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف طرق کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اور یہ ان میں سب سے زیادہ مستند ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8809
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2779)»
حدیث نمبر: 8810
وَعَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ : سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي يَزِيدَ : رَأَيْتُ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ ؟ قَالَ : نَعَمْ رَأَيْتُهُ جَالِسًا فِي حَوْضِ زَمْزَمَ قُلْتُ : هَلْ رَأَيْتَهُ صَبَغَ ؟ قَالَ : لَا إِلَّا أَنِّي رَأَيْتُ رَأْسَهُ وَلِحْيَتَهُ سَوْدَاءَ ، إِلَّا هَذَا الْمَوْضِعَ - يَعْنِي عَنْفَقَتَهُ - وَأَسْفَلُ مِنْ ذَلِكَ بَيَاضٌ ، وَذُكِرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَابَ ذَلِكَ الْمَوْضِعُ مِنْهُ وَكَانَ يَتَشَبَّهُ بِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ إِنْ كَانَ الْمَازِنِيَّ فَهُوَ ثِقَةٌ ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَهُ فَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَحْمَدَ ثِقَةٌ مَأْمُونٌ . ¤
محمد محی الدین
سفیان بن عیینہ بیان کرتے ہیں : میں نے عبداللہ بن ابویزید سے دریافت کیا : کیا آپ نے سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی زیارت کی ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! میں نے انہیں زمزم کے کنویں کے پاس بیٹھے ہوئے دیکھا تھا سفیان کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : کیا آپ نے انہیں دیکھا تھا کہ انہوں نے خضاب لگایا ہوا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں میں نے دیکھا تھا کہ ان کے سر کے اور داڑھی کے بال سیاہ ہیں ، البتہ اتنا سا حصہ نہیں تھا یعنی نچلے ہونٹ سے نیچے والا حصہ ، وہاں کچھ سفید بال تھے ۔ یہ بات ذکر کی گئی ہے : کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بھی اس حصے کے سفید بال تھے ، تو ( اس حوالے سے ) سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مشابہت رکھتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور عبداللہ بن ابویزید نامی راوی اگر تو مازنی ہے ، تو پھر یہ ثقہ ہے ، اور اگر یہ اس کے علاوہ کوئی اور ہے ، تو میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عبداللہ بن أحمد کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ اور مامون ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8810
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2900)»
حدیث نمبر: 8811
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُزْرُجٍ قَالَ : رَأَيْتُ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ ابْنَيْ فَاطِمَةَ يَخْضِبَانِ بِالسَّوَادِ وَكَانَ الْحُسَيْنُ يَدَعُ الْعَنْفَقَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن بزرج بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے ، جو دونوں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے صاحبزادے ہیں وہ دونوں سیاہ خضاب لگاتے تھے البتہ امام حسین رضی اللہ عنہ نچلے ہونٹ سے نیچے والے حصے کو چھوڑ دیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہعیہ ہے اس کی سند میں ضعف پایا جاتا ہے ، اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8811
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2787)»
حدیث نمبر: 8812
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ قَالَ : رَأَيْتُ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ يَخْضِبُ بِالْوَسْمَةِ . . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زُهَيْرٍ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن ابوزہیر بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو وسمہ کا خضاب لگاتے ہوئے دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور عبداللہ بن ابوزہیر نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8812
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2531)»