حدیث نمبر: 8762
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُعْجِبُهُ الْفَاغِيَةُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پودوں کی چمک دمک پسند تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8763
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " سَيِّدُ رَيْحَانِ أَهْلِ الْجَنَّةِ الْحِنَّاءُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ مَأْمُونٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اہل جنت کے پودوں کا سردار ، مہندی کا پودا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عبداللہ بن أحمد بن حنبل کا معاملہ مختلف ہے وہ ثقہ اور مامون ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عبداللہ بن أحمد بن حنبل کا معاملہ مختلف ہے وہ ثقہ اور مامون ہے ۔
حدیث نمبر: 8764
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : بَيْنَمَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْأُثَايَةِ إِذْ أُتِيَ بِوَرْدِ الْحِنَّاءِ ، فَقَالَ : " يُشْبِهُ رَيْحَانَ الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَغَيْرُهُ مِمَّنْ وُثِّقَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ” اثانیہ “ میں موجود تھے اسی دوران آپ کے پاس مہندی کا پودا لایا گیا تو آپ نے فرمایا : یہ جنت کے پودے کے مشابہہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے علاوہ بھی ایسا راوی ہے جس کی ، توثیق کی گئی ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے علاوہ بھی ایسا راوی ہے جس کی ، توثیق کی گئی ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8765
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا تَطَيَّبَتِ الْمَرْأَةُ لِغَيْرِ زَوْجِهَا فَإِنَّمَا هُوَ نَارٌ فِي شَنَارٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ امْرَأَتَانِ لَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب کوئی عورت اپنے شوہر کے علاوہ کسی اور کے لئے خوشبو لگاتی ہے ، تو وہ آگ ہے جو عیب میں ہو“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں دو خواتین ایسی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں دو خواتین ایسی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8766
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ائْتَدِمُوا مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ - يَعْنِي : الزَّيْتَ - وَمَنْ عُرِضَ عَلَيْهِ طِيبٌ فَلْيُصِبْ مِنْهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مُوسَى بْنِ زَكَرِيَّا ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس درخت سے سالن تیار کرو ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد زیتون کا درخت تھا ) اور جس شخص کے سامنے خوشبو پیش کی جائے وہ اسے لگا لے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں موسیٰ بن زکریا سے نقل کی ہے ۔ اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں موسیٰ بن زکریا سے نقل کی ہے ۔ اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 8767
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا أُتِيَ أَحَدُكُمْ بِالطَّيِّبِ فَلْيُصِبْ مِنْهُ ، وَإِذَا أُتِيَ بِحَلْوَى فَلْيُصِبْ مِنْهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ ، وَفِيهِ فَضَالَةُ بْنُ حُصَيْنٍ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مُضْطَرِبُ الْحَدِيثِ . وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عَرْعَرَةَ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ فِيهِ : " إِذَا وُضِعَ الطِّيبُ بَيْنَ يَدَيْ أَحَدِكُمْ فَلْيَلْمِسْ مِنْهُ " . وَلَيْسَ فِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَرْعَرَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب کسی شخص کے پاس خوشبو لائی جائے ، تو وہ اسے لگا لے اور جب حلوہ ( یا میٹھی چیز ) لائی جائے ، تو وہ اسے استعمال کرے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضالہ بن حصین ہے ۔ ابوحاتم کہتے ہیں : یہ مضطرب الحدیث ہے ، اور ایک راوی ابراہیم بن عرعرہ ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : جب تم میں سے کسی ایک کے سامنے خوشبو رکھی جائے ، تو وہ اس میں سے لگا لے “ اس کی سند میں ابراہیم بن عرعرہ نامی راوی نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضالہ بن حصین ہے ۔ ابوحاتم کہتے ہیں : یہ مضطرب الحدیث ہے ، اور ایک راوی ابراہیم بن عرعرہ ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : جب تم میں سے کسی ایک کے سامنے خوشبو رکھی جائے ، تو وہ اس میں سے لگا لے “ اس کی سند میں ابراہیم بن عرعرہ نامی راوی نہیں ہے ۔
حدیث نمبر: 8768
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ عَنْ زَيْنَبَ - رَفَعَتِ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - - قَالَتْ : قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اقْبَلُوا الْكَرَامَةَ ، وَأَفْضَلُ الْكَرَامَةِ الطِّيبُ خَفِيفٌ أَخَفُّهُ مَحْمَلًا وَأَطْيَبُهُ رِيحًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن عبداللہ بن جحش ، سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : وہ خاتون بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عزت افزائی کو قبول کرو اور سب سے زیادہ فضیلت والی عزت افزائی خوشبو ہے جو ہلکی ہؤ ، وہ اٹھانے میں ہلکی ہو اور اس کی خوشبو زیادہ پاکیزہ ہو“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 8769
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : مَا عُرِضَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طِيبٌ قَطُّ فَرَدَّهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب بھی خوشبو پیش کی گئی ، تو آپ نے کبھی اسے واپس نہیں کیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اور اس کی ، توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اور اس کی ، توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8770
وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ أَنَّ رَجُلًا أَرَادَ أَنْ يُبَايِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَبْصَرَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَيْهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ فَأَبَى أَنْ يُبَايِعَهُ وَقَالَ : " طِيبُ الرِّجَالِ مَا ظَهَرَ رِيحُهُ وَخَفِيَ لَوْنُهُ ، وَطِيبُ النِّسَاءِ مَا ظَهَرَ لَوْنُهُ ، وَخَفِيَ رِيحُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کرنے کا ارادہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ملاحظہ فرمایا کہ اس کے جسم پر زرد رنگ کا نشان موجود تھا تو آپ نے اس کی بیعت لینے سے انکار کر دیا آپ نے ارشاد فرمایا : ” مردوں کی خوشبو وہ ہوتی ہے جس کی خوشبو ظاہر ہو اور اس کا رنگ پوشیدہ رہے ، اور عورتوں کی خوشبو وہ ہوتی ہے جس کا رنگ ظاہر ہو اور اس کی خوشبو پوشیدہ رہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن بشار مادی ہے ، اور وہ ضعیف ہے اس کی ، توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن بشار مادی ہے ، اور وہ ضعیف ہے اس کی ، توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 8771
وَعَنْ أَبِي قَيْسٍ الْأَوْدِيِّ قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُعْجِبُهُ الطِّيبُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَأَبُو قَيْسٍ الْأَوْدِيُّ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَهُوَ وَمَنْ قَبْلَهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوقیس اودی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو خوشبو پسند تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ ابوقیس اودی نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے یہ اور اس کے پہلے کے راوی ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ ابوقیس اودی نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے یہ اور اس کے پہلے کے راوی ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8772
وَعَنْ حَرْبِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْمِنْبَرِ فِي يَوْمِ الْجُمْعَةِ وَهُوَ يَقُولُ : " قَدْ أَمَرْنَا لِلنِّسَاءِ بِوَرْسٍ وَأَبَرٍ ، فَأَمَّا الْوَرْسُ فَأَتَاهُنَّ مِنَ الْيَمَنِ ، وَأَمَّا الْأَبَرُ فَأخَذَ مِنْ نَاسٍ مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ مِمَّا عَلَيْهِمْ مِنَ الْجِزْيَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الرَّبِيعُ بْنُ زِيَادٍ الْمُحَارِبِيُّ ، ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَلَمْ يُضَعِّفْهُ وَلَمْ يُوَثِّقْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حرب بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کے دن منبر پر یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” ہم نے خواتین کے لئے ورس اور ابر کا حکم دیا ہے “ ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) جہاں تک ورس کا تعلق ہے ، تو یہ خواتین کے پاس یمن سے آتی تھی جہاں تک ابر کا تعلق ہے ، تو یہ لوگ ذمیوں سے لیا کرتے تھے جو اس چیز کے بدلے میں ہوتی تھی ، جو ان پر جزیہ لازم ہوتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ربیع بن زیاد محاربی ہے ۔ ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے ۔ انہوں نے اسے ضعیف بھی قرار نہیں دیا اور اس کی ، توثیق بھی نہیں کی اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ربیع بن زیاد محاربی ہے ۔ ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے ۔ انہوں نے اسے ضعیف بھی قرار نہیں دیا اور اس کی ، توثیق بھی نہیں کی اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔