کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: خلوق ( نامی مخصوص قسم کی خوشبو ) کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 8747
عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَمْسَحُ وُجُوهَنَا فِي الصَّلَاةِ ، وَيُبَارِكُ عَلَيْنَا ، فَجِئْتُ ذَاتَ يَوْمٍ فَمَسَحَ وُجُوهَ الْذِينَ عَنْ يَمِينِي وَعَنْ يَسَارِي وَتَرَكَنِي ، وَذَلِكَ أَنِّي كُنْتُ دَخَلْتُ عَلَى أُخْتٍ لِي فَمَسَحَتْ وَجْهِي بِشَيْءٍ مِنْ صُفْرَةٍ ، فَقِيلَ لِي : إِنَّمَا تَرَكَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِمَا رَأَى بِوَجْهِكَ ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى بِئْرٍ فَدَخَلْتُ فِيهَا فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ إِنِّي حَضَرْتُ صَلَاةً أُخْرَى ، فَمَرَّ بِي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَسَحَ وَجْهِي وَبَرَّكَ عَلَيَّ وَقَالَ : " عَادَ بِخَيْرِ دِينِهِ الْعُلَاءُ تَابَ وَاسْتَهَلَّتِ السَّمَاءُ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ عَنْ يَعْلَى نَفْسِهِ وَهَذَا عَنْ يَعْلَى عَنْ أَبِيهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے پہلے ہمارے چہروں پر ہاتھ پھیرتے تھے اور ہمارے لئے برکت کی دعا کرتے تھے ایک دن میں آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے دائیں اور بائیں افراد کے چہروں پر ہاتھ پھیر دیا اور مجھے چھوڑ دیا اس کی وجہ یہ ہوئی کہ میں اپنی بہن کے پاس گیا تھا اس نے میرے چہرے پر تھوڑا زرد رنگ ( یا خلوق نامی خوشبو ) لگا دی تھی مجھے بتایا گیا کہ اللہ کے رسول نے تمہیں اس لئے چھوڑ دیا ہے ، کیونکہ انہوں نے تمہارے چہرے پر ( زرد رنگ ) دیکھا ہے ، میں ایک کنویں کے پاس گیا اور میں اس میں داخل ہو گیا پھر میں نے غسل کیا پھر میں اگلی نماز میں شامل ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے ، تو آپ نے میرے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور میرے لئے برکت کی دعا کی ، اور فرمایا : علاء اپنے بہتر دین کے ساتھ واپس آیا ہے اس نے توبہ کی ہے ، اور آسمان نے بارش نازل کی ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام ترمذی نے سیدنا یعلی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ اور یہاں یہ سیدنا یعلی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ان کے والد سے منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8747
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (170/4)»
حدیث نمبر: 8748
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ عَنْ يَعْلَى بِنَحْوِ مَا رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ غَيْرَ أَنَّهُ زَادَ : " يَا يَعْلَى، مَا حَمَلَكَ عَلَى الْخَلُوقِ أَتَزَوَّجْتَ ؟ " . قُلْتُ : لَا . ¤ وَفِيهِ يُونُسُ بْنُ خَبَّابٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ خَبِيثٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا یعلی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ان کی نقل کردہ ایک حدیث میں اس کی مانند الفاظ ہیں ، جو امام ترمذی نے نقل کیے ہیں تا ہم اس میں یہ الفاظ ہیں : ” اے یعلی تم نے خلوق کیوں لگائی ہے کیا تم نے شادی کر لی ہے ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی یونس بن خباب ہے ، اور وہ ضعیف اور خبیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8748
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (171/4)»
حدیث نمبر: 8749
وَعَنْ أَبِي حَبِيبَةَ عَنْ ذَلِكَ الرَّجُلِ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلِي حَاجَةٌ فَرَأَى عَلَيَّ خَلُوقًا فَقَالَ : " اذْهَبْ فَاغْسِلْهُ " فَذَهَبْتُ فَغَسَلْتُهُ ثُمَّ عُدْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ : " اذْهَبْ فَاغْسِلْهُ " فَذَهَبْتُ فَوَقَعْتُ فِي بِئْرٍ ، وَأَخَذْتُ مُسْتَقَةً وَجَعَلْتُ أَتَتَبَّعُهُ ، ثُمَّ عُدْتُ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : " حَاجَتَكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو حَبِيبَةَ هَذَا إِنْ كَانَ هُوَ الطَّائِيَّ فَهُوَ ثِقَةٌ ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَهُ فَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابوحبیبہ ، ایک شخص کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا مجھے ایک کام تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اوپر خلوق لگی ہوئی دیکھی ، تو فرمایا تم جاؤ اور اسے دھو لو میں گیا میں نے اسے دھویا پھر میں واپس آیا تو میں نے عرض کی : میں نے اسے دھو لیا ہے ، تو آپ نے فرمایا : تم جاؤ اور اسے دھو لو میں گیا میں ایک کنویں میں اترا میں نے مٹی لی اور اس کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر صاف کیا پھر میں واپس آپ کے پاس آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارا کام ( کیا ہے ؟ ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ ابوحبیبہ نامی یہ راوی اگر تو یہ طائی ہے ، تو پھر یہ ثقہ ہے ، اور اگر یہ اس کے علاوہ کوئی اور ہے ، تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8749
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 8750
وَعَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ : زَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - امْرَأَةً إِمَّا مَاشِطَةٌ وَإِمَّا عَطَّارَةٌ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا مُتَخَلِّقٌ فَقَالَ : " أَلَا تَغْسِلُ هَذَا الشَّيْءَ ؟ " أَوْ : " أَلَا تَغْسِلُ هَذَا الرِّجْسَ عَنْكَ ؟ " فَأَتَيْتُ بِئْرًا فَاغْتَسَلْتُ فِيهَا حَتَّى اصْفَرَّ الْمَاءُ ، ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَيَّ أَثَرُهُ ، فَقَالَ : " اذْهَبْ فَاغْسِلْهُ " . فَذَهَبْتُ فَغَسَلْتُهُ فَلَمْ يَذْهَبْ حَتَّى غَسَلْتُهُ بِالتُّرَابِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَكِيمَةُ بِنْتُ غَيْلَانَ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری شادی ایک ایسی خاتون کے ساتھ کروا دی جو کنگھی کرنے والی تھی یا عطر بنانے والی تھی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے خلوق لگائی ہوئی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم اس چیز کو دھو نہیں دو گے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) کیا تم اس گندگی کو اپنے سے دھو نہیں دو گے میں کنویں کے پاس آیا میں نے اس میں غسل کیا یہاں تک کہ پانی زرد ہو گیا پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو مجھ پر نشان موجود تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جاؤ اور اسے دھوؤ میں گیا اور میں نے اس کو دھویا اور وہ اس وقت تک ختم نہیں ہوا جب تک میں نے اسے مٹی کے ساتھ صاف نہیں کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خاتون حکیمہ بنت غیلان ہے میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8750
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 8751
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " ثَلَاثَةٌ لَا تَقْرَبُهُمُ الْمَلَائِكَةُ : الْجُنُبُ ، وَالْكَافِرُ ، وَالْمُتَضَمِّخُ بِالزَّعْفَرَانِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ الضَّرِيرُ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا كَثِيرٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تین قسم کے لوگوں کے پاس فرشتے نہیں جاتے ہیں جنبی شخص ، کافر شخص اور جس نے زعفران لگایا ہوا ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زکریا بن یحیی بن ابویوب ضریر ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں صرف سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے غلام کثیر کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8751
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (5536)»
حدیث نمبر: 8752
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ثَلَاثَةٌ لَا تَقْرَبُهُمُ الْمَلَائِكَةُ : السَّكْرَانُ ، وَالْجُنُبُ ، وَالْمُتَخَلِّقُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَكِيمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تین قسم کے لوگوں کے پاس فرشتے نہیں جاتے ہیں نشے کا شکار شخص ، جنبی شخص ، اور جس شخص نے خلوق لگائی ہوئی ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن حکیم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8752
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 8753
وَعَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ - قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِقَوْمٍ فِيهِمْ رَجُلٌ مُتَخَلِّقٌ ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ وَأَعْرَضَ عَنِ الرَّجُلِ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ سَلَّمْتَ عَلَيْهِمْ وَأَعْرَضْتَ عَنِّي ؟ فَقَالَ : " إِنَّ بَيْنَ عَيْنَيْكَ حُمْرَةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے ان میں ایک ایسا شخص تھا جس نے خلوق لگائی ہوئی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو سلام کیا اور آپ نے اس شخص سے منہ پھیر لیا اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ان لوگوں کو سلام کیا ہے ، اور مجھ سے منہ پھیر لیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہاری دونوں آنکھوں کے درمیان سرخی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8753
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 8754
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِيُبَايِعَهُ وَعَلَيْهِ أَثَرُ الْخَلُوقِ ، فَأَبَى أَنْ يُبَايِعَهُ ، فَذَهَبَ فَغَسَلَ عَنْهُ أَثَرَ الْخَلُوقِ ثُمَّ جَاءَ فَبَايَعَهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى التَّيْمِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ آپ اس سے بیعت لیں اس پر خلوق کا نشان موجود تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بیعت لینے سے انکار کر دیا وہ شخص گیا اس نے خلوق کا نشان اپنے سے دھویا پھر وہ آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اس سے بیعت لی ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عبداللہ بن مثنی تیمی کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8754
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2987)»
حدیث نمبر: 8755
وَعَنْ عُمَارَةَ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ لِيُبَايِعَهُ ، فَرَأَى يَدَهُ مُخَلَّقَةً فَكَفَّ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ ، إِنَّمَا كَفَّ يَدَهُ عَنْكَ لِأَنَّهَا مُخَلَّقَةٌ ، فَغَسَلَ يَدَهُ ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَايَعَهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حُرَيْثُ بْنُ مَطَرٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمارہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں فتح مکہ کے دن حاضر ہوئے تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے بیعت لیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پر خلوق لگی ہوئی دیکھی ، تو آپ نے اس سے ہاتھ پیچھے کر لیا ایک شخص نے ان سے کہا: تمہاری ماں تمہیں روئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس لئے تم سے پیچھے کیا ہے ، کیونکہ اس پر خلوق لگی ہوئی ہے ، تو ان صاحب نے اپنا ہاتھ دھویا پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بیعت لی ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حریث بن مطر ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8755
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2988)»
حدیث نمبر: 8756
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَوْمٌ يُبَايِعُونَهُ ، وَفِيهِمْ رَجُلٌ فِي يَدِهِ أَثَرُ خَلُوقٍ ، فَلَمْ يَزَلْ يُبَايِعُهُمْ وَيُؤَخِّرُهُ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ طِيبَ الرِّجَالِ مَا ظَهَرَ رِيحُهُ وَخَفِيَ لَوْنُهُ ، وَطِيبَ النِّسَاءِ مَا ظَهَرَ لَوْنُهُ وَخَفِيَ رِيحُهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثُ أَبِي مُوسَى فِي بَابِ الطِّيبِ بَعْدَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ آپ کی بیعت کریں ان میں ایک ایسا شخص موجود تھا جس کے ہاتھ پر خلوق کا نشان موجود تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے بیعت لیتے رہے ، اور اس شخص کو پیچھے کرتے رہے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : مردوں کی خوشبو وہ ہے جس کی خوشبو ظاہر ہو اور رنگ پوشیدہ رہے ، اور خواتین کی خوشبو وہ ہے جس کا رنگ ظاہر ہو اور خوشبو پوشیدہ رہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث اس کے بعد خوشبو والے باب میں آئے گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8756
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2989)»
حدیث نمبر: 8757
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : بَصُرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِرَجُلٍ فِي مُؤَخَّرِ مَسْجِدِهِ عَلَيْهِ مِلْحَفَةٌ مُعَصْفَرَةٌ فَقَالَ : " أَلَا رَجُلٌ يَسْتُرُ بَيْنِي وَبَيْنَ هَذِهِ النَّارِ ؟ " . فَفَعَلَ ذَلِكَ رَجُلٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے پیچھے والے حصے میں ایک شخص کو ملاحظہ فرمایا جس پر معصفر چادر تھی ، تو آپ نے فرمایا : کیا کوئی شخص میرے اور اس آگ کے درمیان رکاوٹ نہیں بنے گا ، تو ایک شخص نے ایسا کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8757
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 8758
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ : رَأَيْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَوْبَيْنِ مَصْبُوغَيْنِ بِزَعْفَرَانٍ : رِدَاءً ، وَعِمَامَةً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالصَّغِيرِ ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُصْعَبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي الْمَصْبُوغِ مِنْ نَحْوِ هَذَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر دو ایسے کپڑے دیکھے جو زعفران سے رنگے ہوئے تھے ایک چادر تھی اور ایک عمامہ تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مصعب ہے ، اور ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے رنگنے سے متعلق احادیث گزر چکی ہیں جو اس کی مانند ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8758
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 8759
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : رُبَّمَا صَبَغَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رِدَاءَهُ أَوْ إِزَارَهُ بِوَرْسٍ أَوْ بِزَعْفَرَانٍ ثُمَّ خَرَجَ فِيهِمَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ الْكَلَامُ عَلَيْهِ فِي بَابِ الصِّبَاغِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں بعض اوقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر یا اپنے تہبند پر زعفران یا ورس کے ذریعے رنگ کر لیتے تھے اور پھر انہیں پہن کر تشریف لے جاتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس پر پہلے رنگنے سے متعلق باب میں کلام گزر چکا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8759
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 8760
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ سَلْمَانَ مَوْلَى كَعْبِ بْنِ عَجُرَةَ قَالَ : أَشْهَدُ لَقَدْ رَأَيْتُ أَرْبَعَةً أَوْ خَمْسَةً مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَلْبَسُونَ الْمُعَصْفَرَ فِيهِمْ كَعْبُ بْنُ عَجُرَةَ . وَأَنَسٌ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے غلام انس بن سلمان بیان کرتے ہیں میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے چار ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) پانچ صحابہ کرام کو دیکھا کہ وہ لوگ معصفر پہنتے تھے ان میں ایک سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ اور ایک سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں اس راوی سے واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8760
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (151/19)»
حدیث نمبر: 8761
وَعَنْ فُضَيْلِ بْنِ كَثِيرٍ قَالَ : رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَدْ مَسَّ ذِرَاعَيْهِ بِخَلُوقٍ مِنْ بَيَاضٍ كَانَ بِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو سَاسَانَ ، ذَكَرَهُ ابْنُ عَدِيٍّ وَلَمْ يَذْكُرْ شَيْئًا يُوجِبُ ضَعْفًا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَقَدْ رَوَاهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ ، وَفِيهِ أُمُّ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ وَلَمْ أَعْرِفْهَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
فضیل بن کثیر بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے اپنے پاس موجود برتن میں سے اپنی کلائیوں پر خلوق لگائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوساسان ہے ابن عدی نے اس کا ذکر کیا ہے ، اور کوئی ایسی چیز ذکر نہیں کی جو ضعف کو واجب کرے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں
یہ روایت انہوں نے ایک اور سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔ جس کی سند میں ایک راوی خاتون ام یحیی بنت سعید ہیں میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور اس کے بعض رجال کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8761
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (664)»