کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: انگوٹھی کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 8719
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : رَأَيْتُ عَلَى الْبَرَاءِ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ وَكَانَ النَّاسُ يَقُولُونَ لَهُ : لِمَ تَخْتِمُ بِالذَّهَبِ وَقَدْ نَهَى عَنْهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَالَ الْبَرَاءُ : بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَيْنَ يَدَيْهِ غَنِيمَةٌ يُقَسِّمُهَا سَبْيٌ وَخُرْثِيٌّ قَالَ : فَقَسَّمَهَا حَتَّى بَقِيَ هَذَا الْخَاتَمُ ، فَرَفَعَ طَرْفَهُ فَنَظَرَ إِلَى أَصْحَابِهِ ، ثُمَّ خَفَضَ ، ثُمَّ رَفَعَ طَرْفَهُ يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ ، ثُمَّ خَفَضَ ثُمَّ رَفَعَ طَرْفَهُ فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ ، ثُمَّ قَالَ : " أَيْ بَرَاءُ " . فَجِئْتُهُ حَتَّى قَعَدْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَأَخَذَ الْخَاتَمَ ثُمَّ قَبَضَ عَلَى كُرْسُوعِي ثُمَّ قَالَ : " خُذِ الْبَسْ مَا كَسَاكَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ " . قَالَ : وَكَانَ الْبَرَاءُ يَقُولُ : كَيْفَ تَأْمُرُونِي أَنْ أَضَعَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْبَسْ مَا كَسَاكَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَالِكٍ مَوْلَى الْبَرَاءِ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَأَبُو حَاتِمٍ ، وَلَكِنْ قَالَ ابْنُ حِبَّانَ : لَمْ يَسْمَعْ مِنَ الْبَرَاءِ ، قُلْتُ : قَدْ وَثَّقَهُ، وَقَالَ : رَأَيْتُ عَلَى الْبَرَاءِ فَصَرَّحَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن مالک بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا براء رضی اللہ عنہ کو سونے کی انگوٹھی پہنے ہوئے دیکھا ، لوگوں نے اُن سے کہا: آپ نے سونے کی انگوٹھی پہنی ہوئی ہے ، جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے آپ کے سامنے مال غنیمت موجود تھا ، آپ نے اس میں قیدیوں اور گھر کے ساز و سامان کو تقسیم کر دیا راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تقسیم کر دیا یہاں تک کہ یہ انگوٹھی باقی رہ گئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نگاہ اٹھا کر اپنے صحابہ کی طرف دیکھا پھر نگاہ کو جھکا لیا پھر آپ نے نگاہ اٹھا کر ان کی طرف دیکھا پھر آپ نے نگاہ کو جھکا لیا پھر آپ نے نگاہ اٹھا کر دیکھا پھر اسے جھکا لیا پھر آپ نے نگاہ اٹھا کر ان کی طرف دیکھا پھر فرمایا : اے براء میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا یہاں تک کہ آپ کے سامنے آ کر بیٹھ گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی لی پھر میری کلائی کو پکڑا اور فرمایا : تم یہ لو اور اسے پہن لو جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے تمہیں پہننے کے لئے دیا ہے راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا براء رضی اللہ عنہ یہ کہتے تھے کہ تم مجھے یہ کیسے کہہ سکتے ہو کہ میں اس چیز کو اتار دوں کہ جس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ تم وہ چیز پہن لو جو اللہ اور اس کے رسول نے تمہیں پہنائی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام ابویعلیٰ نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ۔ محمد بن مالک نامی راوی سیدنا براء رضی اللہ عنہ کا غلام ہے اسے ابن حبان اور ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے ، لیکن ابن حبان یہ کہتے ہیں : اس نے سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے میں یہ کہتا ہوں انہوں نے اس کی توثیق کی گئی ہے اس راوی نے یہ بیان کیا ہے : میں نے سیدنا براء رضی اللہ عنہ پر دیکھا ، تو یہ اس بات کی صراحت ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8719
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1708) أخرجه احمد فى المسند (294/4)»
حدیث نمبر: 8720
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأَى فِي يَدِ رَجُلٍ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ : " أَلْقِ ذَا " . فَأَلْقَاهُ فَتَخَتَّمَ بِخَاتَمٍ مِنْ حَدِيدٍ فَقَالَ : " ذَا شَرٌّ مِنْهُ " . فَتَخَتَّمَ بِخَاتَمٍ مِنْ فِضَّةٍ فَسَكَتَ عَنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ عَمَّارَ بْنَ أَبِي عَمَّارٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُمَرَ . ¤
محمد محی الدین
عمار بن ابوعمار بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی ، تو فرمایا : اسے اتار دو اس شخص نے اسے اتار دیا پھر اس شخص نے لوہے کی انگوٹھی پہن لی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ اس سے زیادہ بری ہے پھر اس شخص نے چاندی کی انگوٹھی پہن لی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کچھ نہیں کہا: ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ عمار بن ابوعمار نامی راوی نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8720
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (132)»
حدیث نمبر: 8721
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ لَبِسَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، كَأَنَّهُ كَرِهَهُ فَطَرَحَهُ ثُمَّ لَبِسَ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ ، فَقَالَ : " هَذَا أَخْبَثُ وَ أَخْبَثُ " فَطَرَحَهُ ، ثُمَّ لَبِسَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ فَسَكَتَ عَنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے سونے کی انگوٹھی پہنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا تو اس پر ناگواری کا اظہار کیا انہوں نے اسے اتار دیا پھر انہوں نے لوہے کی انگوٹھی پہن لی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ زیادہ خبیث ہے یہ زیادہ خبیث ہے ۔ انہوں نے اسے اتار دیا پھر انہوں نے چاندی کی انگوٹھی پہنی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کچھ نہیں کہا: ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8721
درجۂ حدیث محدثین: قال شعيب الارناؤط : صحيح لغيره
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (6977)»
حدیث نمبر: 8722
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَ أَحْمَدَ : قَالَ فِي الْخَاتَمِ الْحَدِيدِ : " هَذَا حِلْيَةُ أَهْلِ النَّارِ " . ¤ وَأَحَدُ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ رِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
امام أحمد کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : لوہے کی انگوٹھی کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا ” یہ اہل جہنم کا زیور ہے “ ۔ امام أحمد کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8722
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (6518,6680)»
حدیث نمبر: 8723
وَعَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَيَّ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ فَأَخَذَ جَرِيدَةً فَضَرَبَ بِهَا كَفِّي وَقَالَ : " اطْرَحْهُ " . قَالَ : فَخَرَجْتُ فَطَرَحْتُهُ ، فَقَالَ : " مَا فَعَلَ الْخَاتَمُ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : طَرَحْتُهُ قَالَ : " إِنَّمَا أَمَرْتُكَ أَنْ تَسْتَمْتِعَ بِهِ وَلَا تَطْرَحْهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سالم بن ابوالجعد ، اپنی قوم کے ایک آدمی کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : ( وہ صاحب کہتے ہیں : ) میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے سونے کی انگوٹھی پہنی ہوئی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھٹری لی اور اس کے ذریعے میری ہتھیلی پر مارا اور فرمایا اسے اتار دو ! وہ صاحب کہتے ہیں : میں وہاں سے نکلا میں نے اسے اتار دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : انگوٹھی کا کیا بنا ؟ میں نے عرض کی : میں نے اسے پھینک دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے تمہیں یہ ہدایت کی تھی کہ تم اس سے نفع حاصل کرو ( یعنی اسے فروخت کر کے قیمت حاصل کر لو ) تم نے اسے پھینکنا نہیں تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8723
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 8724
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَا أَبُو بَكْرٍ وَلَا عُمَرُ يَلْبَسُونَ خَوَاتِيمَهُمْ ، حَتَّى قَدِمَ أَبَانٌ عَلَى عُمَرَ - يَعْنِي كَانُوا يَتَّخِذُونَهَا وَلَا يَلْبَسُونَهَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا ابْنَ لَهِيعَةَ ، وَإِنْ كَانَ حَسَنَ الْحَدِيثَ ، وَلَكِنَّهُ لَمْ يُحْتَمَلْ هَذَا مِنْهُ لَمَّا خَالَفَ الْأَثْبَاتَ الْذِينَ رَوَوْا عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَلْبَسُ الْخَاتَمَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنی انگوٹھیاں پہنتے نہیں تھے ( صرف مہر لگانے کے لئے استعمال کرتے تھے ) یہاں تک کہ ابان ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آ گئے راوی کہتے ہیں : یعنی وہ لوگ رکھتے تھے انہیں پہنتے نہیں تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ، بن لہیعہ کا معاملہ مختلف ہے وہ اگرچہ حسن الحدیث ہے ، لیکن اس سے
یہ روایت حاصل نہیں کی جاتی کیونکہ اس نے ان ثبت راویوں کے برخلاف نقل کیا ہے ، جنہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ۔ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انگوٹھی پہنتے تھے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8724
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 8725
وَعَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفِي يَدِهِ خَاتَمٌ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا خَالِدُ مَا هَذَا الْخَاتَمُ ؟ " قَالَ : خَاتَمٌ اتَّخَذْتُهُ . قَالَ : " فَاطْرَحْهُ إِلَيَّ " . قَالَ : فَطَرَحْتُهُ فَإِذَا هُوَ خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ مَلْوِيٌّ عَلَيْهِ فِضَّةٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا نَقْشُهُ ؟ " قُلْتُ : مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ . فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَبِسَهُ فَهُوَ الْخَاتَمُ الَّذِي كَانَ فِي يَدِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خالد بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ان کے ہاتھ میں انگوٹھی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے خالد یہ انگوٹھی کیا ہے ۔ انہوں نے عرض کی : یہ انگوٹھی ہے جو میں نے پہنی ہوئی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ اتار کر مجھے دکھاؤ راوی کہتے ہیں : میں نے اسے اتارا وہ لوہے کی بنی ہوئی انگوٹھی تھی جس پر چاندی لگی ہوئی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس پر کیا نقش ہے ؟ میں نے عرض کی ہے : محمد رسول اللہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ لی اور اسے پہن لیا یہ وہی انگوٹی ہے ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں رہی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8725
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4118)»
حدیث نمبر: 8726
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَا أَبُو بَكْرٍ وَلَا عُمَرُ يَلْبَسُونَ الْخَوَاتِيمَ ، وَلَا يَطْبَعُونَ كِتَابًا ، حَتَّى كَتَبَ زِيَادُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ إِلَى عُمَرَ : إِنَّكَ تَكْتُبُ إِلَيْنَا بِأَشْيَاءَ مَا نَجِدُ لَهَا طَوَابِعَ ، فَاتَّخَذَ عِنْدَ ذَلِكَ خَاتَمًا فَطَبَعَ بِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ مُخَالِفٌ لِأَحَادِيثِ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ انگوٹھیاں پہنتے نہیں تھے اور نہ ہی تحریروں پر مہر لگایا کرتے تھے یہاں تک کہ زیاد بن ابوسفیان نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ آپ کچھ چیزوں کے بارے میں ہماری طرف مکتوب بھیج دیتے ہیں لیکن ہمیں اس پر مہر نہیں ملتی اس وقت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انگوٹھی بنوائی اور اس کے ذریعے وہ مہر لگاتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور یہ صیح احادیث کے برخلاف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8726
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13124)»
حدیث نمبر: 8727
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كَانَ فَصُّ خَاتَمِ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ سَمَاوِيًّا ، فَأُلْقِيَ عَلَيْهِ فَأَخَذَهُ فَوَضَعَهُ فِي خَاتَمِهِ ، وَكَانَ نَقْشُهُ أَنَا اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا ، مُحَمَّدٌ عَبْدِي وَرَسُولِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ الرُّعَيْنِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سیدنا سلیمان بن داؤد علیہما السلام کی انگوٹھی کا نگینہ آسمان سے آیا ہوا تھا وہ ان پر ڈالا گیا انہوں نے اسے لیا اور انہوں نے اسے اپنی انگوٹھی میں لگا لیا اس پر یہ نقش تھا : میں اللہ ہوں میرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے محمد میرا بندہ اور میرا رسول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مخلد رعینی ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8727
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 8728
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَبِسَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، فَلَمَّا رَآهُ أَصْحَابُهُ ، فَشَتْ عَلَيْهِمْ خَوَاتِيمُ الذَّهَبِ ، فَرَمَى بِهِ ، فَلَا يَدْرِي مَا فُعِلَ بِهِ ؟ فَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ وَأَمَرَ أَنْ يُنْقَشَ فِيهِ : " مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ " . فَكَانَ فِي يَدِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى مَاتَ ، وَفِي يَدِ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى مَاتَ ، وَفِي يَدِ عُمَرَ حَتَّى مَاتَ ، وَفِي يَدِ عُثْمَانَ سَنَتَيْنِ مِنْ عَمَلِهِ ، فَلَمَّا كَثُرَتْ عَلَيْهِ الْكُتُبُ دَفَعَهُ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَكَانَ يَخْتِمُ بِهِ فَخَرَجَ الْأَنْصَارِيُّ إِلَى قُلَيْبٍ لِعُثْمَانَ فَسَقَطَ مِنْهُ ، فَلَمْ يُوجَدْ ، فَأَمَرَ بِخَاتَمٍ مِثْلِهِ وَنَقَشَ فِيهِ : مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ ابْنُ عُمَرَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْمُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی تین دن تک پہنی جب آپ کے اصحاب نے آپ کو دیکھا تو انہوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں پہن لیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتار دیا ہمیں نہیں پتہ کہ اس کا کیا ہوا ؟ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی اور یہ حکم دیا کہ اس پر ” محمد رسول اللہ “ نقش کیا جائے وہ انگوٹھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں رہی یہاں تک کہ آپ کا وصال ہو گیا پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی یہاں تک کہ ان کا وصال ہو گیا پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی یہاں تک کہ ان کا وصال ہو گیا پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں دو سال رہی جب ان کے پاس تحریریں زیادہ ہو گئیں ، تو انہوں نے وہ ایک انصاری شخص کے حوالے کر دی وہ اس کے ذریعے مہر لگا دیتا تھا ایک مرتبہ وہ انصاری شخص سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ایک گڑھے ( یا کنویں ) کی طرف گیا تو وہ انگوٹھی اس سے گر گئی پھر وہ نہیں ملی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کے جیسی ایک انگوٹھی تیار کرنے کا حکم دیا اور اس میں محمد رسول اللہ نقش کروایا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث صحیح میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مغیرہ بن زیاد ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8728
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2992)»
حدیث نمبر: 8729
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا أَلْبَسُ خَاتَمِي فِي السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى ، فَقَالَ : " إِنَّمَا الْخَاتَمُ لِهَذِهِ وَهَذِهِ " يَعْنِي الْخِنْصَرَ وَالْبِنْصِرَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ فَإِنْ كَانَ الْعَرْزَمِيَّ فَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ملاحظہ فرمایا : میں نے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی میں انگوٹھی پہنی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : انگوٹھی اس اور اس ( انگلی ) کے لئے ہوتی ہے یعنی سب سے چھوٹی اور اس کے ساتھی والی انگلی کے لئے ہوتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبیداللہ ہے اگر تو وہ عرزمی ہے ، تو پھر وہ ضعیف ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8729
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 8730
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَتَخَتَّمُ فِي يَمِينِهِ ، وَقُبِضَ وَالْخَاتَمُ فِي يَمِينِهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ الْقَاسِمِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں دست مبارک میں انگوٹھی پہنا کرتے تھے جب آپ کا وصال ہوا تو وہ آپ کے دائیں دست مبارک میں تھی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبید بن قاسم ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8730
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2991)»
حدیث نمبر: 8731
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَتَخَتَّمُ فِي يَمِينِهِ . ¤ قُلْتُ : رَوَى لَهُ أَبُو دَاوُدَ أَنَّهُ كَانَ يَتَخَتَّمُ فِي يَسَارِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابوداؤد نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے یہ حدیث نقل کی ہے ۔ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8731
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 8732
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَتَخَتَّمُ فِي يَمِينِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8732
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7953)»
حدیث نمبر: 8733
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَخَتَّمُ فِي يَمِينِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقَيْنِ ضَعِيفَتَيْنِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو ضعیف حوالوں سے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8733
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11815, 11589)»
حدیث نمبر: 8734
وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ كَانَ يَتَخَتَّمُ فِي يَمِينِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8734
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1458)»
حدیث نمبر: 8735
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كَانَ خَاتَمُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَبِي بَكْرٍ وِلَايَتَهُ ، وَعَلَى عُمَرَ وِلَايَتَهُ ، وَعَلَى عُثْمَانَ بَعْضَ وِلَايَتِهِ ، كَانَ عَلَى بِئْرِ أَرِيسٍ فَسَقَطَ الْخَاتَمُ فِيهَا ، فَنَزَحُوا الْبِئْرَ فَلَمْ يَجِدُوهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ التِّرْمِذِيُّ ، قَالَ ابْنُ الْجَوْزِيِّ : لَا يُوثَقُ بِهِ ، وَشَيْخُ الطَّبَرَانِيِّ لَمْ أَعْرِفْهُ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ان کے پاس رہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ان کے پاس رہی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت کے کچھ حصے میں ان کے پاس رہی ایک مرتبہ وہ بئر اریس کے کنارے بیٹھے ہوئے تھے وہ انگوٹھی ان سے اس کنویں میں گر گئی لوگوں نے کنویں کا سارا پانی نکال لیا لیکن انہیں وہ انگوٹھی نہیں ملی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوعبداللہ ترمذی ہے ابن جوزی کہتے ہیں : اس کی توثیق نہیں کی گئی ہے ، اور ایک راوی امام طبرانی کا استاد ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8735
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 8736
وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ : كَانَ خَاتَمُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي يَدِ أَبِي بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - حَتَّى هَلَكَ ثُمَّ فِي يَدِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - حَتَّى هَلَكَ ، ثُمَّ فِي يَدِ عُثْمَانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - حَتَّى سَقَطَ فِي بِئْرِ أَرِيسٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عِيسَى بْنُ بِشْرِ بْنِ عَبَّادَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی یہاں تک کہ وہ بئر اریس میں گر گئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن بشر بن عباد ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8736
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7663)»
حدیث نمبر: 8737
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ خَاتَمُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ حَلَقَةً ] مِنْ فِضَّةٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کا چھلہ چاندی سے بنا ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8737
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11127)»
حدیث نمبر: 8738
وَعَنْ جَمِيلِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : رَأَيْتُ خَمْسَةً مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَلْبَسُونَ خَوَاتِيمَ الذَّهَبِ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ ، وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ، وَالْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، وَأَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ . . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَجَمِيلٌ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
جمیل بن عبداللہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے پانچ افراد کو سونے کی انگوٹھیاں پہنتے ہوئے دیکھا ہے ( وہ حضرات یہ ہیں : ) سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سیدنا براء بن عاذب رضی اللہ عنہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ جمیل نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8738
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5148)»
حدیث نمبر: 8739
وَعَنْ مُسْلِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُبَايِعُ النِّسَاءَ عَامَ الْفَتْحِ عَلَى الصَّفَا فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ يَدُهَا كَيَدِ الرَّجُلِ ، فَلَمْ يُبَايِعْهَا حَتَّى تَذْهَبَ فَتُغَيِّرُ يَدَيْهَا بِحُمْرَةٍ أَوْ بِصُفْرَةٍ ، وَجَاءَهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ ، فَقَالَ : " مَا طَهَّرَ اللَّهُ يَدًا فِيهَا خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ شُمَيْسَةُ بِنْتُ نَبْهَانَ وَلَمْ أَعْرِفْهَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مسلم بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ فتح مکہ کے سال صفا کی پہاڑی پر آپ نے خواتین سے بیعت لی ایک خاتون آپ کے پاس آئی اس کا ہاتھ مرد کے ہاتھ کی طرح تھا آپ نے اس سے بیعت نہیں لی یہاں تک وہ چلی گئی اور اس نے سرخ یا زدر رنگ کے ذریعے اپنے ہاتھوں کو تبدیل کیا ( یعنی مہندی لگا لی ) ایک شخص آپ کے پاس آیا اس نے لوہے کی انگوٹھی پہنی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ ایسے ہاتھ کو پاک نہیں کرتا جس میں لوہے کی انگوٹھی موجود ہو ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک خاتون شمیسہ بنت نبہان ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8739
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2993) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1118) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (435/19)»
حدیث نمبر: 8740
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ وَخَاتَمِ الْحَدِيدِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی اور لوہے کی انگوٹھی سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8740
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 8741
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : أَقْبَلُ رَجُلٌ مِنَ الْبَحْرِينِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ ، وَكَانَ فِي يَدِهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ ، وَجُبَّةُ حَرِيرٍ ، فَانْصَرَفَ الرَّجُلُ مَحْزُونًا ، فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى امْرَأَتِهِ فَقَالَتْ لَهُ : لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَرِهَ جُبَّتَكَ وَخَاتَمَكَ فَأَلْقِهِمَا ، فَأَلْقَاهُمَا ثُمَّ غَدَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَيْتُكَ آنِفًا فَأَعْرَضْتَ عَنِّي ؟ قَالَ : " كَانَ فِي يَدِكِ جَمْرَةٌ مِنْ نَارٍ " . قَالَ : لَقَدْ جِئْتُ إِذًا بِجَمْرٍ كَثِيرٍ . قَالَ : " إِنَّمَا جِئْتَ بِهِ لَيْسَ أَغْنَى عَنَّا مِنْ حِجَارَةِ الْحَرَّةِ ، وَلَكِنَّهُ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا " . قَالَ : فَمَا أَتَخَتَّمُ بِهِ ؟ قَالَ : " حَلْقَةٌ مِنْ وَرِقٍ أَوْ حَدِيدٍ أَوْ صُفْرٍ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى النَّسَائِيُّ طَرَفًا مَنْ أَوَّلِهِ يَسِيرًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . وَأَبُو النَّجِيبِ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص بحرین سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سلام کا جواب نہیں دیا اس کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی تھی اور اس نے ریشمی جبہ پہنا ہوا تھا وہ شخص پریشان ہو کر واپس چلا گیا اس نے اس بات کی شکایت اپنی بیوی کے سامنے کی ، تو اس کی بیوی نے اس سے کہا: شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمہارا جبہ اور تمہاری انگوٹھی پسند نہیں آئی تم ان دونوں کو اتار دو اس نے ان دونوں کو اتار دیا اگلے دن جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سلام کا جواب دیا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ کے پاس پہلے آیا تھا تو آپ نے مجھ سے منہ موڑ لیا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے ہاتھ میں آگ کا انگارہ تھا اس نے عرض کی : ایسی صورت میں ، تو میں بہت سے انگارے لے کے آیا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم وہ چیز لے کے آئے ہو جو ہمارے نزدیک پتھریلی زمین کے پتھروں سے زیادہ اہم نہیں ہے یہ دنیاوی زندگی کا ساز و سامان ہے اس شخص نے دریافت کیا : پھر میں کس چیز کی انگوٹھی پہنوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : چاندی یا لوہے یا پیتل کے چھلے والی ( انگوٹھی پہنو ) ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام نسائی رحمہ اللہ نے اس روایت کا ابتدائی کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ ابونجیب نامی راوی کو ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8741
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 8742
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ صُفْرٍ فَقَالَ : " مَا هَذَا الْخَاتَمُ ؟ " قَالَ : مِنَ الْوَاهِنَةِ قَالَ : " أَمَا إِنَّهَا لَا تَزِيدُكَ إِلَّا وَهْنًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے پیتل کی انگوٹھی پہنی ہوئی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ انگوٹھی کس لئے ہے ؟ اس نے عرض کی : واہنہ ( نامی بیماری کے لئے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ تمہاری کمزوری میں اضافہ ہی کرے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8742
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7700)»
حدیث نمبر: 8743
وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ وَفِي يَدِهِ خَاتَمٌ [ مِنْ نُحَاسٍ ] فَقَالَ : " مَا بَالُ هَذَا ؟ " قَالَ : مِنَ الْوَاهِنَةِ . قَالَ : " انْزِعْهُ عَنْكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَأَبُو سَلَمَةَ الْكَلَاعِيُّ التَّابِعِيُّ لَمْ أَعْرِفْهُ وَالْأَحْوَصُ بْنُ حَكِيمٍ وَثَّقَهُ ابْنُ الْمَدِينِيِّ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب میں سے ایک شخص کے پاس سے گزرے اس کے ہاتھ میں تانبے کی انگوٹھی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ کس لئے ہے ؟ اس نے عرض کی : یہ واہنہ ( نامی تکلیف کے لئے ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے اتار دو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ ابوسلمہ کلاعی نامی تابعی سے میں واقف نہیں ہوں ، اور ایک راوی احوص بن حکیم ہے ، جسے ابن مدینی اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، جبکہ یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8743
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1439)»
حدیث نمبر: 8744
وَعَنْ فَاطِمَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ تَخَتَّمَ بِالْعَقِيقِ لَمْ يَزَلْ يَرَى خَيْرًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَعَمْرُو بْنُ الشَّرِيدِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ فَاطِمَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ عَبَّادٍ الرُّؤَاسِيُّ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” جو شخص عقیق ( نای نگینے والی ) انگوٹھی پہنے گا وہ مسلسل بھلائی دیکھتا رہے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ عمرو بن ثرید نامی راوی نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے سماع نہیں کیا ہے ، اور زہیر بن عباد رواسی نامی راوی کو ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8744
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (103)»
حدیث نمبر: 8745
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : أَتَى بَعْضُ بَنِي جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْسِلْ مَعِي مَنْ يَشْتَرِي لِي نَعْلًا وَخَاتَمًا ، فَدَعَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِلَالًا فَقَالَ : " انْطَلِقْ إِلَى السُّوقِ فَاشْتَرِ لَهُ نَعْلًا ، وَاسْتَجِدَّهَا ، وَلَا تَكُنْ سَوْدَاءَ ، ، وَاشْتَرِ لَهُ خَاتَمًا ، وَلْيَكُنْ فَصُّهُ مِنْ عَقِيقٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبِ بْنِ سُوَيْدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے ایک صاحبزادے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ میرے ساتھ کسی ایسے شخص کو بھیجیں جو میرے لئے جوتا اور انگوٹھی خرید ہوے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا : تم بازار جاؤ اور اس کے لئے جوتا خریدو اور نیا خریدنا اور وہ سیاہ رنگ کا نہ ہو اور اس کے لئے انگوٹھی خریدو اور اس کا نگینہ عقیق ہونا چاہیے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ایوب بن سوید ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8745
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
حدیث نمبر: 8746
وَعَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ : كَانَتِ الْمَرْأَةُ [ مِنَ النِّسَاءِ الْأُولَى ] تَتَّخِذُ لَكُمْ دِرْعَهَا إِزَارًا تَجْعَلُهُ فِي إِصْبَعِهَا تُغَطِّي بِهِ الْخَاتَمَ . . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
مجاہد بیان کرتے ہیں : پہلی خواتین میں سے کوئی خاتون ، اپنی قمیص کی آستین کے لیے ، بٹن بناتی تھی جس کو وہ اپنی انگلیوں میں رکھتی تھی اور اس کے ذریعے اپنی انگوٹھی کو چھپا لیتی تھی ( تاکہ اس کی زینت ظاہر نہ ہو ) ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8746
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابويعليٰ فى المسند (6989)»