حدیث نمبر: 8689
عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : بَيْنَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ إِذْ قَامَ أَعْرَابِيٌّ فِيهِ جَفَاءٌ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ أَكَلَتْنَا الضَّبْعُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " غَيْرُ ذَلِكَ أَخْوَفُ لِي عَلَيْكُمْ حِينَ تُصَبُّ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا صَبًّا فَيَا لَيْتَ أُمَّتِي لَا يَتَحَلَّوْنَ الذَّهَبَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے اسی دوران ایک دیہاتی کھڑا ہوا جس کے مزاج میں تیزی پائی جاتی تھی اس نے عرض کی : اے سیدنا محمد ! قحط سالی نے ہمیں کھا لیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگوں کے بارے میں مجھے اس کے علاوہ کا زیادہ اندیشہ ہے کہ تم پر دنیا کو انڈیل دیا جائے گا ، اور افسوس کہ میری امت صرف سونے کو زیور کے طور پر پہنے گی ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 8690
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ وَهَبٍ عَنْ رَجُلٍ أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَكَلَتْنَا الضَّبْعُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " غَيْرُ الضَّبْعِ عِنْدِي أَخْوَفُ عَلَيْكُمْ مِنَ الضَّبْعِ ، إِنِ الدُّنْيَا سَتُصَبُّ عَلَيْكُمْ صَبًّا ، فَيَا لَيْتَ أُمَّتِي لَا تَلْبَسُ الذَّهَبَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
زید بن وہب نے ایک صاحب کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ۔ ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! قحط سالی نے ہمیں کھا لیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے تم لوگوں کے بارے میں ، قحط سالی کے علاوہ کا زیادہ اندیشہ ہے ، وہ یہ کہ عنقریب دنیا تم پر انڈیل دی جائے گی کاش میری امت سونا نہ پہنے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے ، اور وہ ضعیف ہے اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے ، اور وہ ضعیف ہے اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 8691
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَلْبَسْ حَرِيرًا وَلَا ذَهَبًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ ریشم اور سونا نہ پہنے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8692
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ تَحَلَّى أَوْ حُلِّيَ بِخَرِيصَةٍ مَنْ ذَهَبٍ كُوِيَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن غنم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص سونے کا زیور پہنے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس کو پہنایا جائے ، تو قیامت کے دن اسے اس چیز ( یعنی سونے ) کے ذریعے داغا جائے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، اور وہ ضعیف ہے اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، اور وہ ضعیف ہے اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 8693
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُسَوِّرَ وَلَدَهُ سِوَارًا مِنْ نَارٍ فَلْيُسَوِّرْهُ سِوَارًا مِنْ ذَهَبٍ ، وَلَكِنَّ الْفِضَّةَ الْعَبُوا بِهَا كَيْفَ شِئْتُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص یہ پسند کرتا ہو کہ اپنے بچے کو آگ کا کنگن پہنائے اسے اس کو سونے کا کنگن پہنا دینا چاہیے البتہ چاندی کو تم جیسے چاہو استعمال کر سکتے ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 8694
وَعَنْ أَسِيدِ بْنِ أَبِي أَسِيدٍ عَنْ أَبِي مُوسَى - عَنْ أَبِيهِ أَوْ عَنِ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُحَلِّقَ حَبِيبَتَهُ حَلْقَةً مِنْ نَارٍ فَلْيُحَلِّقْهَا سِوَارًا مِنْ ذَهَبٍ ، وَمَنْ سَرَّهُ أَنْ يُسَوِّرَ حَبِيبَتَهُ سِوَارًا مِنْ نَارٍ فَلْيُسَوِّرْهَا سِوَارًا مِنْ ذَهَبٍ ، وَلَكِنَّ الْفِضَّةَ الْعَبُوا بِهَا لَعِبًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَقَدْ رَوَى أَسِيدٌ هَذَا عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، فَإِنْ كَانَا هُمَا اللَّذَيْنِ أُبْهِمَا فَالْحَدِيثُ حَسَنٌ وَإِنْ كَانَا غَيْرَهُمَا فَلَمْ أَعْرِفْهُمَا . ¤
محمد محی الدین
اسید بن ابواسید نے ابوموسیٰ کے حوالے سے ان کے والد سے یا ابن ابوقتادہ کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص یہ پسند کرتا ہو کہ اپنی محبوب شخصیت کو آگ کا کڑا پہنائے اسے اس کو سونے کا کڑا پہنانا چاہیے اور جو شخص یہ پسند کرتا ہو کہ وہ اپنی محبوب شخصیت کو آگ کا کنگن پہنائے تو اسے اس کو سونے کا کنگن پہنانا چاہیے ، البتہ تم چاندی کو استعمال کر سکتے ہو “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اسید نامی اس راوی نے موسیٰ بن سیدنا ابوموسیٰ اشعری اور عبداللہ بن سیدنا ابوقتادہ کے حوالے سے روایات نقل کی ہیں اگرچہ یہ دونوں مبہم ہیں لیکن یہ حدیث حسن ہے ، اور اگر ان دونوں کے علاوہ کوئی اور شخصیت مراد ہے ، تو میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اسید نامی اس راوی نے موسیٰ بن سیدنا ابوموسیٰ اشعری اور عبداللہ بن سیدنا ابوقتادہ کے حوالے سے روایات نقل کی ہیں اگرچہ یہ دونوں مبہم ہیں لیکن یہ حدیث حسن ہے ، اور اگر ان دونوں کے علاوہ کوئی اور شخصیت مراد ہے ، تو میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 8695
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الذَّهَبِ يُرْبَطُ بِهِ أَوْ نَرْبُطُ بِهِ الْمِسْكَ ؟ قَالَ : " اجْعَلِيهِ فِضَّةً وَصَفِّرِيهِ بِشَيْءٍ مِنْ زَعْفَرَانٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سونے کے بارے میں دریافت کیا : کہ کیا اس کے ذریعے مشک کو باندھا جا سکتا ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) کیا ہم اس کے ذریعے مشک کو باندھ لیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اسے چاندی میں رکھو اور اس پر زعفران لگا دو “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 8696
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : لَمَّا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَرْبُطُ الْمِسْكَ بِشَيْءٍ مِنْ ذَهَبٍ ؟ قَالَ : " أَفَلَا تَرْبُطُونَهُ بِالْفِضَّةِ ثُمَّ تُلَطِّخُونَهُ بِزَعْفَرَانٍ فَيَكُونَ مِثْلَ الذَّهَبِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونا پہننے سے منع کر دیا تو ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم مشک کو تھوڑے سے سونے میں باندھ نہ دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ اسے چاندی میں کیوں نہیں باندھ دیتے پھر اس پر زعفران مل دو تو وہ سونے کی طرح ہو جائے گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 8697
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : لَبِسْتُ قِلَادَةً فِيهَا شُعَيْرَاتٌ مِنْ ذَهَبٍ قَالَتْ : فَرَآهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَعْرَضَ عَنِّي فَقَالَ : " مَا يُؤَمِّنُكِ أَنْ يُقَلِّدَكِ اللَّهُ مَكَانَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُعَيْرَاتٍ مِنْ نَارٍ ؟ " قَالَتْ : فَنَزَعْتُهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے ایک ہار پہنا جس میں سونے کے کچھ بال تھے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ملاحظہ فرمایا تو میری طرف سے منہ پھیر لیا آپ نے فرمایا : کیا تم خود کو اس بات سے محفوظ سمجھتی ہو کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی جگہ تمہیں آگ کے بنے ہوئے بال پہنا دے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ، تو میں نے اسے اتار دیا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ مدلس ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ مدلس ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 8698
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : جَعَلْتُ شَعَائِرَ مِنْ ذَهَبٍ فِي رَقَبَتِهَا فَدَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَعْرَضَ عَنْهَا فَقَالَتْ : أَلَا تَنْظُرُ إِلَى زِينَتِي ؟ فَقَالَ : " عَنْ زِينَتِكِ أُعْرِضُ " . قَالَ : فَزَعَمُوا أَنَّهُ قَالَ : " مَا ضَرَّ إِحْدَاكُنَّ لَوْ جَعَلَتْ خُرْصًا مِنْ وَرَقٍ ثُمَّ جَعَلَتْهُ بِزَعْفَرَانٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَسِيَاقُهُ أَحْسَنُ وَقَالَ : فِيهِ فَقَطَعْتُهَا فَأَقْبَلَ عَلَيَّ بِوَجْهِهِ . وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے اپنی گردن میں سونے کا بنا ہوا ہار گلے میں پہن لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، تو آپ نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے منہ پھیر لیا انہوں نے عرض کی : کیا آپ میری زینت کی طرف نہیں دیکھیں گے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے تمہاری زینت سے منہ پھیرا ہے راوی کہتے ہیں : لوگوں کا یہ بیان کرنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم خواتین کو یہ چیز نقصان نہیں پہنچائے گی کہ اگر وہ چاندی کی انگوٹھی ( یا بالی ) لے اور پھر اس پر زعفران لگا لے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کا سیاق زیادہ عمدہ ہے اس میں یہ الفاظ ہیں : کہ جب میں نے اسے کاٹ دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف رخ کیا ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کا سیاق زیادہ عمدہ ہے اس میں یہ الفاظ ہیں : کہ جب میں نے اسے کاٹ دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف رخ کیا ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 8699
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ عَنِ النِّسَاءِ وَزِينَتِهِنَّ ؟ فَقَالَ : " كَيَّةٌ وَكَيَّتَانِ مَا كَانَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَإِسْحَاقُ لَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خواتین اور ان کی زینت اختیار کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا : ( یعنی ان کے زیور پہننے کے بارے میں دریافت کیا گیا : ) تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہ ایک یا دو داغ ہیں خواہ جو بھی ہو ( یا جتنے بھی ہوں ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اسحاق نامی راوی نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اسحاق نامی راوی نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8700
وَعَنْ أُمِّ الْكِرَامِ أَنَّهَا حَجَّتْ ، فَلَقِيَتِ امْرَأَةً بِمَكَّةَ كَبِيرَةَ الْحَشَمِ لَيْسَ عَلَيْهِنَّ حُلِيٌّ إِلَّا الْفِضَّةَ [ فَقُلْتُ لَهَا : مَا لِي لَا أَرَى عَلَى أَحَدٍ مِنْ حَشَمِكِ حُلِيًّا إِلَّا الْفِضَّةَ ] قَالَتْ : كَانَ جَدِّي عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا مَعَهُ وَعَلَيَّ قُرْطَانِ مِنْ ذَهَبٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَهْبَتَيْنِ مِنْ نَارٍ " . فَنَحْنُ أَهْلُ بَيْتٍ لَيْسَ أَحَدٌ مِنَّا يَلْبَسُ حُلِيًّا إِلَّا الْفِضَّةَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . وَأُمِّ الْكِرَامِ : لَمْ أَعْرِفْهَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ام کرام بیان کرتی ہیں : وہ حج کے لئے گئیں مکہ میں ان کی ملاقات ایک بھاری بھرکم خاتون سے ہوئی جس کے جسم پر کوئی زیور نہیں تھا صرف چاندی تھی میں نے اس سے دریافت کیا : کیا وجہ ہے آپ کے جسم پر کوئی زیور نظر نہیں آ رہا صرف چاندی ہے ، تو اس خاتون نے بتایا کہ میرے دادا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے میں اپنے دادا کے ساتھ تھی میرے جسم پر سونے کی بنی ہوئی دو بالیاں تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آگ کی بنی ہوئی دو بالیاں ہیں ۔ تو اس خاتون نے بتایا : ) ہمارے خاندان کی عورتیں کوئی زیور نہیں پہنتی ہیں صرف چاندی پہنتی ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ ام کرام نامی خاتون سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ ام کرام نامی خاتون سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8701
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَتْ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأُبَايِعَهُ ، فَدَنَوْتُ وَعَلَيَّ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ ، فَبَصُرَ بِبَصِيصِهِمَا فَقَالَ : أَلْقِ السِّوَارَيْنِ يَا أَسْمَاءُ ، أَمَا تَخَافِينَ أَنْ يُسَوِّرَكِ اللَّهُ بِأَسَاوِرَ مِنْ نَارٍ " . قَالَتْ : فَأَلْقَيْتُهُمَا فَمَا أَدْرِي مَنْ أَخْذَهُمَا . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ ، وَدَاوُدُ الْأَوِدَيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ ، وَضَعَّفَهُ فِي أُخْرَى . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیعت کرنے کے لئے حاضر ہوئی میں قریب ہوئی ، تو میرے جسم پر دو کنگن تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کی چمک دمک کو ملاحظہ فرمایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اسماء ! تم ان دونوں کو اتار دو ! کی تم ڈرتی نہیں ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں قیامت کے دن آگ کے بنے ہوئے کنگن پہنا دے ؟ وہ خاتون بیان کرتی ہیں ، تو میں نے ان دونوں کو اتار دیا مجھے نہیں معلوم کہ کس نے ان دونوں کو حاصل کیا ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابوداؤد نے
یہ روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ایک راوی داؤداودی ہے ، جسے یحیی بن معین نے ایک روایت کے مطابق ثقہ قرار دیا ہے ، اور دوسری روایت کے مطابق انہوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ایک راوی داؤداودی ہے ، جسے یحیی بن معین نے ایک روایت کے مطابق ثقہ قرار دیا ہے ، اور دوسری روایت کے مطابق انہوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 8702
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَمَعَ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ لِلْبَيْعَةِ فَقَالَتْ أَسْمَاءُ : أَلَا تَحْسِرُ لَنَا عَنْ يَدِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنِّي لَسْتُ أُصَافِحُ النِّسَاءَ ، وَلَكِنْ آخُذُ عَلَيْهِنَّ " . ¤ وَفِي النِّسْوَةِ خَالَةٌ لَهُ عَلَيْهَا قُلْبَانِ مِنْ ذَهَبٍ [ وَخَوَاتِيمُ مِنْ ذَهَبٍ ] فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا هَذِهِ ، هَلْ يَسُرُّكِ أَنْ يُحَلِّيَكِ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ جَمْرِ جَهَنَّمَ بِسِوَارَيْنِ وَخَوَاتِيمَ ؟ " . فَقَالَتْ : أَعُوذُ بِاللَّهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ! قَالَتْ : قُلْتُ : يَا خَالَةُ اطْرَحِي مَا عَلَيْكِ . فَطَرَحَتْهُ . ¤ فَحَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ : وَاللَّهِ يَا بُنَيَّ لَقَدْ طَرَحْتُهُ فَمَا أَدْرِي مَنْ أَخَذَهُ مِنْ مَكَانِهِ وَلَا الْتَفَتَ مِنَّا أَحَدٌ إِلَيْهِ . ¤ قَالَتْ أَسْمَاءُ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ إِحْدَانَا تَصْلَفُ عِنْدَ زَوْجِهَا إِذَا لَمْ تُمَلَّحْ لَهُ وَتُحَلَّى لَهُ ؟ قَالَ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا عَلَى إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَتَّخِذَ خُرْصَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ وَتَتَّخِذَ لَهُمَا جُمَانَتَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ ، فَتُدْرِجُهُ بَيْنَ أَنَامِلِهَا مِنْ زَعْفَرَانٍ فَإِذَا هُوَ كَالذَّهَبِ يَبْرُقُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت کے لئے اہل ایمان کی خواتین کو اکٹھا کیا ، تو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ ہمارے لئے اپنا دست مبارک آگے نہیں کریں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : میں خواتین کے ساتھ مصافحہ نہیں کرتا ہوں میں ان سے ( ہاتھ ملائے بغیر ) بیعت لے لوں گا ( راوی خاتون بیان کرتی ہیں ) خواتین میں میری خالہ بھی تھیں جنہوں نے سونے کے دو کنگن اور سونے کی انگوٹھیاں پہنی ہوئی تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اے خاتون ! کیا تم یہ پسند کرتی ہو کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جہنم کے انگاروں سے بنے ہوئے دو کنگن اور انگوٹھیاں تمہیں زیور کے طور پر پہنائے ، تو اس خاتون نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میں اللہ سے پناہ مانگتی ہوں سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں نے کہا: اے خالہ آپ نے جو زیور پہنا ہوا ہے اسے اتار دیں ، تو اس خاتون نے اسے اتار دیا ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے مجھے یہ بات بتائی کہ اللہ کی قسم ! اے میرے بیٹے ! میں نے انہیں رکھ دیا اور مجھے نہیں معلوم کہ اس کی جگہ سے کس نے اس کو حاصل کیا ہم میں سے کسی ایک نے مڑ کر اس کی طرف نہیں دیکھا ۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم خواتین میں سے کوئی ایک جب اپنے شوہر کے سامنے تیار نہیں ہو گی اور زیور نہیں پہنے گی ، تو شوہر کے نزدیک اس کی حیثیت کم ہو جائے گی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم خواتین میں سے کسی ایک پر کوئی حرج نہیں کہ اگر وہ چاندی کی بنی ہوئی دو انگوٹھیاں لے اور چاندی کے بنے ہوئے دو موتی ( یعنی نگینے ) لے اور پھر اپنے پوروں کے اوپر زعفران لگا کر اس پر مل دے ، تو وہ سونے کی طرح چمکنے لگیں گی ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، اور وہ ضعیف ہے اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، اور وہ ضعیف ہے اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ۔
حدیث نمبر: 8703
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَ أَحْمَدَ : عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ أَنَّ أَسْمَاءَ كَانَتْ تَخْدِمُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : فَبَيْنَا أَنَا عِنْدَهُ إِذْ جَاءَتْ خَالَتِي قَالَتْ : فَجَعَلَتْ تُسَائِلُهُ وَعَلَيْهَا سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ فَذَكَرَ نَحْوَ مَا تَقَدَّمَ . ¤
محمد محی الدین
امام أحمد کی ایک روایت جو شہر بن حوشب سے منقول ہے اس میں یہ الفاظ ہیں : سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتی تھیں ۔ انہوں نے عرض کی : ایک مرتبہ میں آپ کی خدمت میں موجود تھی اسی دوران میری خالہ آ گئیں سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : اس خاتون نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنا شروع کیے اس خاتون نے سونے کے بنے ہوئے دو کنگن پہنے ہوئے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ۔
حدیث نمبر: 8704
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَيَّ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ : " أَلَا أَدُلُّكِ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكَ مِنْ هَذَا وَأَحْسَنُ ؟ " قُلْتُ : بَلَى . قَالَ : " تَجْعَلِينَهُ وَرِقًا ثُمَّ تُخَلِّقِينَهَا فَيَكُونُ كَأَنَّهُ ذَهَبٌ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے ، تو میں نے سونے کے دو کنگن پہنے ہوئے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں تمہاری رہنمائی اس چیز کی طرف نہ کروں جو تمہارے لیے اس سے بہتر اور زیادہ اچھی ہو ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم چاندی کے کنگن بنواؤ اور پھر اس پر خلوق مل لو تو یہ سونے کی طرح ہو جائیں گے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن ابوخضر ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن ابوخضر ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 8705
وَعَنْ خُلَيْدَةَ بِنْتِ قَعْنَبٍ - وَكَانَتْ مِنَ النِّسْوَةِ اللَّاتِي أَتَيْنَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِيُبَايِعْنَهُ - قَالَتْ : فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ عَلَيْهَا سِوَارٌ مِنْ ذَهَبٍ فَأَبَى أَنْ يُبَايِعَهَا ، فَخَرَجَتْ مِنَ الزِّحَامِ فَرَمَتِ السُّوَارَ ، ثُمَّ جَاءَتْ فَبَايَعَهَا ، ثُمَّ خَرَجَتْ تَطْلُبُ السُّوَارَ فَذَهَبَتْ تَنْظُرُهُ فَإِذَا هُوَ قَدْ ذُهِبَ بِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حُمَيْدُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُخْطِئُ . وَشَيْخَتُهُ تَغْلِبُ بِنْتُ الْخَوَّارِ لَمْ أَعْرِفْهَا ، وَبَقِيَّةُ إِسْنَادِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ خلیدہ بنت قعنب رضی اللہ عنہا جوان خواتین میں سے ایک ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ کی بیعت کرنے کے لئے حاضر ہوئی تھیں وہ خاتون بیان کرتی ہیں : ایک خاتون آپ کے پاس آئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بیعت لینے سے انکار کر دیا وہ خاتون ہجوم میں سے نکل کے گئی اس نے کنگن اتارا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بیعت لی پھر وہ کنگن تلاش کرنے کے لئے نکلی تاکہ اس کو دیکھے ، تو وہ کوئی لے گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حمید بن عبدالرحمن بن حماد بن ابوخوار ہے ، اور وہ ضعیف ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے وہ یہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے اس کی استانی تغلب بنت خوار ہے میں اس خاتون سے واقف نہیں ہوں ۔ اس کی سند کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حمید بن عبدالرحمن بن حماد بن ابوخوار ہے ، اور وہ ضعیف ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے وہ یہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے اس کی استانی تغلب بنت خوار ہے میں اس خاتون سے واقف نہیں ہوں ۔ اس کی سند کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8706
وَعَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ : نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ ، وَتَفْضِيضِ الْأَقْدَاحِ ، فَكَلَّمَهُ النِّسَاءُ فِي لُبْسِ الذَّهَبِ فَأَبَى عَلَيْنَا ، وَرَخَّصَ لَنَا فِي تَفْضِيضِ الْأَقْدَاحِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ يَحْيَى الْأُبُلِّيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سونا پہننے اور پیالوں پر چاندی لگانے سے منع کیا تھا خواتین نے سونا پہننے کے بارے میں آپ سے بات چیت کی ، تو آپ نے ہمیں اجازت نہیں دی البتہ آپ نے پیالوں پر چاندی لگانے کی ہمیں اجازت دیدی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن یحیی ابلی ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن یحیی ابلی ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8707
وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ : نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ لِبَاسِ الذَّهَبِ وَنَظْمِهِ ، فَرَمَتِ امْرَأَةٌ بِسُوَارٍ مِنْ ذَهَبٍ فَمَكَثَتْ فِي الْمَسْجِدِ أَيَّامًا مَا أَخَذَهُ أَحَدٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حُرَيْثُ بْنُ أَبِي مَطَرٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سونا پہننے اور اسے پرونے سے منع کیا ، تو ایک خاتون نے سونے کے کنگن اتار دیے ، وہ چند دن تک مسجد میں پڑے رہے کسی نے انہیں نہیں لیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حریث بن ابومطر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حریث بن ابومطر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 8708
وَعَنْ زَيْنَبِ بِنْتِ نَبِيطِ بْنِ جَابِرٍ امْرَأَةِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَتْ : أَوْصَى أَبُو أُمَامَةَ بِأُمِّي وَخَالَتِي إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَاهُ حُلِيٌّ مِنْ ذَهَبٍ وَلُؤْلُؤٍ يُقَالُ لَهُ : الرِّعَاثُ فَحَلَّاهُنَّ مِنَ الرِّعَاثِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا مُحَمَّدَ بْنَ عُمَارَةَ الْحَزْمِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ إِنْ كَانَتْ زَيْنَبُ صَحَابِيَّةً . ¤
محمد محی الدین
سیده زینب بنت نبیط بن جابر رضی اللہ عنہا جو سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ہیں ، وہ بیان کرتی ہیں : سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے میری والدہ اور میری خالہ کو یہ تلقین کی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سونے اور موتیوں کا زیور آیا ہے ، جسے ” رعاث “ کہا: جاتا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان خواتین کو رعاث نامی زیور پہننے کے لئے دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ۔ جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف محمد بن عمارہ حزمی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے اگر سیدہ زینب رضی اللہ عنہا صحابیہ ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ۔ جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف محمد بن عمارہ حزمی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے اگر سیدہ زینب رضی اللہ عنہا صحابیہ ہوں ۔
حدیث نمبر: 8709
وَعَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ نَبِيطِ بْنِ جَابِرٍ قَالَتْ : حَدَّثَتْنِي أُمِّي وَخَالَتِي أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَلَّاهُنَّ رِعَاثًا مِنْ ذَهَبٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، وَأَقَلُّ مَرَاتِبِ حَدِيثِهِ الْحَسَنُ ، وَبَقِيَّةُ إِسْنَادِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیده زینب بنت نبیط بن جابر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میری والدہ اور میری خالہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سونے سے بنا ہوا ” رعاث “ ( نامی زیور ) پہننے کے لئے دیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو بن علقمہ ہے ، اور اس حدیث کا سب سے کم مرتبہ یہ ہے کہ یہ حسن ہے اس کی اسناد کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو بن علقمہ ہے ، اور اس حدیث کا سب سے کم مرتبہ یہ ہے کہ یہ حسن ہے اس کی اسناد کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8710
وَعَنْ حَمَّادَةَ بِنْتِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى - وَكَانَتْ أَكْبَرَ وَلَدِ مُحَمَّدٍ - قَالَتْ : سَمِعْتُ عَمَّتِي تَقُولُ : أَدْرَكْتُ أُمَّ لَيْلَى يُصْبَغُ لَهَا دِرْعُهَا وَخِمَارُهَا وَمِلْحَفَتُهَا فِي كُلِّ شَهْرٍ مَرَّةً وَتُخَضِّبُ يَدَيْهَا وَرِجْلَيْهَا غَمْسَةً ، وَقَالَتْ : عَلَى هَذَا بَايَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : وَرَأَيْتُهَا وَفِي يَدَيْهَا مَسَكَتَانِ [ مِنْ ذَهَبٍ ]، وَكَانُوا يَرَوْنَ أَنَّهُمَا مِنَ الْفَيْءِ ، وَكَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى يَصْبُغُ لَهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
حماد بنت محمد بن عبدالرحمن بن ابولیلی ، جو محمد بن عبدالرحمن بن ابولیلی کی سب سے بڑی صاحبزادی ہیں وہ بیان کرتی ہیں : میں نے اپنی پھوپھی کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا : میں نے سیدہ ام لیلی رضی اللہ عنہا کو پایا کہ ان کے لئے قمیص اور چادر کو ، اور اوڑھنے والے لحاف کو ہر مہینے میں ایک مرتبہ رنگا جاتا تھا ، اور وہ اپنے دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں پر ایک مرتبہ مہندی لگاتی تھیں وہ بیان کرتی تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ہم سے بیعت لی تھی وہ خاتون بیان کرتی ہیں : میں نے انہیں دیکھا کہ ان کے دونوں ہاتھوں میں سونے کے بنے ہوئے کنگن تھے لوگ یہ سمجھتے تھے وہ دونوں مال فئے میں ملے تھے عبدالرحمن بن ابولیلیٰ اس خاتون کے لئے رنگ کیا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 8711
وَعَنْ أُمِّ لَيْلَى قَالَتْ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا كَانَتْ إِحْدَانَا تَقْدِرُ أَنْ تَتَّخِذَ فِي يَدَيْهَا مَسَكَتَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ فَإِنْ لَمْ تَقْدِرْ فَصَدَّتْ يَدَيْهَا وَلَوْ بِسَيْرٍ وَقَالَ : " لَا تَشَبَّهْنَ بِالرِّجَالِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیده ام لیلی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ ہم میں سے جب کوئی ایک عورت پر قدرت رکھتی ہو کہ وہ اپنے ہاتھوں میں چاندی کے کنگن پہن لے ( تو وہ ایسا کر لے ) اور اگر وہ اس کی قدرت نہیں رکھتی ، تو وہ دونوں ہاتھوں پر ( مہندی کے طور پر ) کوئی چیز لگا لے خواہ وہ ” سیر “ ( نامی بوٹی ) ہو ، آپ نے فرمایا : تم خواتین مردوں کے ساتھ مشابہت اختیار نہ کرو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔