کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: قسی ، میثر اور دیگر ( قسم کے کپڑوں ) کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 8681
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْمِيثَرَةِ وَالْقَسِّيَّةِ وَحَلْقَةِ الذَّهَبِ وَالْمُفَدَّمِ . ¤ قَالَ يَزِيدُ : وَالْمِيثَرَةُ : جُلُودُ السِّبَاعِ . وَالْقَسِّيَّةُ : ثِيَابٌ مُضَلَّعَةٌ مِنْ إِبْرَيْسَمٍ يُجَاءُ بِهَا مِنْ مِصْرَ . وَالْمُفَدَّمُ : الْمُشَبَّعُ بِالْمُعَصْفَرِ . ¤ قُلْتُ : رَوَى مِنْهُ ابْنُ مَاجَهْ النَّهْيَ عَنِ الْمُفَدَّمِ وَحَلْقَةِ الذَّهَبِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ الْيَشْكُرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میثرہ ، قسی ، سونے کی انگوٹھی اور مفدم سے منع کیا ہے یزید کہتے ہیں : مثیرہ جانوروں کی کھال ہوتی ہے قسی سے مراد ایسا کپڑا ہے جو ابریشم سے بنا ہوتا ہے اور مصر سے لایا جاتا ہے مفدم سے مراد معصفر کپڑا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابن ماجہ نے اس میں سے مفدم اور سونے کی انگوٹھی کی ممانعت والا حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عطاء یشکری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8681
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (5/51)»
حدیث نمبر: 8682
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : نَهَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ ، وَالذَّهَبِ ، وَالشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ ، وَالْمِيثَرَةِ الْحَمْرَاءِ ، وَلُبْسُ الْقَسِّيِّ . ¤ فَقَالَتْ عَائِشَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ شَيْءٌ ذَفِيفٌ مِنَ الذَّهَبِ يُرْبَطُ بِهِ الْمِسْكُ - أَوْ نَرْبُطُ بِهِ - ؟ قَالَ : " لَا اجْعَلِيهِ فِضَّةً ، وَصَفِّرِيهِ بِشَيْءٍ مِنْ زَعْفَرَانٍ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ خَصِيفٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَوَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم اور سونا پہننے سے ، سونے اور چاندی کے برتنوں میں پینے سے سرخ میثرہ اور قسی پہننے سے منع کیا ہے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! تھوڑا سا سونا ، اس کے ذریعے کنگن کو باندھا جا سکتا ہے ؟ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس کے ذریعے ہم اس کو باندھ لیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! تم اسے چاندی سے بناؤ ، پھر اس پر تھوڑا سا زعفران مل دو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابن ماجہ نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خصیف ہے جس میں ضعف پایا جاتا ہے ایک جماعت نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8682
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «أخرجه ابو يعلى فى المسند (4789) أخرجه احمد فى المسند (228/6)»
حدیث نمبر: 8683
وَعَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ مِيثَرَةِ الْأُرْجُوَانَ ؟ فَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا أُزَكِّيهَا وَلَا أَلْبَسُ قَمِيصًا مَكْفُوفًا بِحَرِيرٍ وَلَا أَلْبَسُ الْقَسِّيَّ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوزبیر بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے ارجوان کی میثرہ کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” میں اسے پاکیزہ قرار نہیں دیتا ہوں ، اور میں ایسی قمیص نہیں پہنوں گا جس میں ریشم ہو اور میں قسی نہیں پہنوں گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں اور ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8683
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (342/3)»
حدیث نمبر: 8684
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : نَهَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ خَوَاتِيمَ الذَّهَبِ ، وَالْقَسِّيَّةِ ، وَالْمِيثَرَةِ الْحَمْرَاءِ الْمُشَبَّعَةِ مِنَ الصُّفْرِ . فَذَكَرَهُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی ، قسی ، سرخ میثرہ کو ، جو پیتل سے بھرا ہوا ہو ، اس کو ( استعمال کرنے سے ) منع کیا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8684
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (2724)»
حدیث نمبر: 8685
وَعَنْ جَعْدَةَ بْنِ هُبَيْرَةَ قَالَ : نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ ثَلَاثٍ : أَنْ أَتَخَتَّمَ بِالذَّهَبِ ، وَلُبْسِ الْقِسِّيِّ ، وَعَنِ الْمِيثَرَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جعدہ بن ہبیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین چیزوں سے منع کیا ہے یہ کہ میں سونے کی انگھوٹی پہنوں قسی پہننے اور میثرہ پہننے سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8685
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2189)»
حدیث نمبر: 8686
وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ : حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - التَّخَتُّمَ بِالذَّهَبِ ، وَالْقَسِّيَّةِ ، وَثِيَابِ الْمُعَصْفَرِ ، وَالْمُفَدَّمِ ، وَالنُّمُّورِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ الرَّحَبِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگھوٹی پہننے ، قسیہ ، معصفر کے کپڑے ، مفدم اور چیتے کی کھال سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ رحبی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8686
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1418)»
حدیث نمبر: 8687
وَعَنْ أَبِي لَيْلَى قَالَ : حَدَّثَنِي صَاحِبُ هَذِهِ الدَّارِ حَرِيزٌ أَوْ [ أَبُو ] حَرِيزٌ قَالَ : لَمَّا انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَخْطُبُ فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى مِيثَرَةِ رَحْلِهِ ، فَوَجَدْتُهُ مِنْ جِلْدِ شَاةٍ ضَائِنِيَّةٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَثَّقَهُ شُعْبَةُ ، وَالثَّوْرِيُّ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ أَحَدِ الْإِسْنَادَيْنِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابولیلی بیان کرتے ہیں : مجھے اس گھر کے مالک سیدنا حریز رضی اللہ عنہ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) سیدنا ابوحریز رضی اللہ عنہ نے یہ بیان کی ہے وہ کہتے ہیں : جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ اس وقت خطبہ دے رہے تھے میں نے آپ کے پالان کی میثرہ چادر پر ہاتھ رکھا ، تو میں نے اس کو پایا کہ وہ بھیڑ کی کھال کی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور ثوری نے ثقہ قرار دیا ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے دو اسناد میں سے ایک کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8687
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3578)»