کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: پتلے کپڑے کا بیان
حدیث نمبر: 8605
عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَيْهِ حُلَّتَانِ مَنْ حُلَلِ الْيَمَنِ فَقَالَ : " يَا ضَمْرَةُ أَتَرَى ثَوْبَيْكَ هَذَيْنِ مُدْخِلِيكَ الْجَنَّةَ ؟ " فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَئِنِ اسْتَغْفَرْتَ لِي لَا أَقْعُدُ حَتَّى أَنْزِعَهُمَا عَنِّي . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِضَمْرَةَ " . فَانْطَلَقَ سَرِيعًا حَتَّى نَزَعَهُمَا عَنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ بَقِيَّةَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ضمرہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ان کے جسم پر دو یمنی حلے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ضمرہ ! کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ تمہارے یہ دو کپڑے تمہیں جنت میں داخل کروا دیں گے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آپ میرے لئے دعائے مغفرت کر دیں ، تو میں انہیں اتارنے سے پہلے نہیں بیٹھوں گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! تو ضمرہ کی مغفرت کر دے ، تو وہ تیزی سے گئے ، اور انہوں نے انہیں اتار دیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ بقیہ نامی راوی مدلس ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8605
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8158) اخرجه احمد فى المسند (338/4)»
حدیث نمبر: 8606
وَعَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : إِنَّ الرَّجُلَ لِيَلْبَسُ وَهُوَ عَارٍ . يَعْنِي : الثِّيَابَ الرِّقَاقَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص لباس پہنے گا ، اور وہ برہنہ ہو گا ( راوی بیان کرتے ہیں : ) ان کی مراد یہ تھی کہ اس نے پتلے کپڑے پہنے ہوں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8606
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2215)»