کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: شہرت کے لباس کا بیان
حدیث نمبر: 8601
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ لُبْسَتَيْنِ : الْمَشْهُورَةِ فِي حُسْنِهَا وَالْمَشْهُورَةِ فِي قُبْحِهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ بَزِيعٌ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قسم کے کپڑوں سے منع کیا ہے ، وہ جس کی خوبصورتی مشہور ہو اور وہ جس کا برا ہونا مشہور ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بزیج ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8601
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 8602
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ التَّمِيمِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - يَقُولَانِ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ لَبِسَ ثَوْبًا مَشْهُورًا مِنَ الثِّيَابِ أَعْرَضَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوسعید تمیمی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے وہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے سنا ہے ” جو شخص مشہور لباس پہنے گا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس سے منہ موڑ لے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سفیان بن وکیع ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8602
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2906)»
حدیث نمبر: 8603
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا مِنْ أَحَدٍ يَلْبَسُ ثَوْبًا لِيُبَاهِيَ بِهِ ، فَيَنْظُرُ النَّاسُ إِلَيْهِ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ ، حَتَّى يَنْزِعَهُ مَتَى مَا نَزَعَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ زَيْدِ بْنِ وَاقَدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” جو شخص کوئی ایسا کپڑا پہنے جس کے ذریعے وہ فخر کا اظہار کرے اور لوگ اس کی طرف دیکھیں ، تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر رحمت نہیں کرے گا ، جب تک وہ اس کو اتار نہیں دیتا خواہ اس کو جب بھی اتارے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالخالق بن زید بن واقد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8603
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (283/23)»
حدیث نمبر: 8604
وَعَنْ أَبِي يَعْفُورٍ قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَسْأَلُهُ رَجُلٌ : مَا أَلْبَسُ مِنَ الثِّيَابِ ؟ قَالَ : مَا لَا يَزْدَرِيكَ فِيهِ السُّفَهَاءُ وَلَا يَعِيبُكَ بِهِ الْحُلَمَاءُ . قَالَ : مَا هُوَ ؟ قَالَ : مَا بَيْنَ الْخَمْسَةِ دَرَاهِمَ إِلَى الْعِشْرِينَ دِرْهَمًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابویعفور بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو سنا ایک شخص نے ان سے دریافت کیا : میں کون سا کپڑا پہنوں ؟ انہوں نے فرمایا : وہ جس کی وجہ سے بے وقوف لوگ تمہیں پرے نہ کریں ، اور بردبار لوگ اس کی وجہ سے تم پر اعتراض نہ کریں ، اس نے دریافت کیا : وہ کون سا کپڑا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : وہ جو پانچ دراہم سے لے کر بیس درہم میں آ جائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8604
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1351)»