حدیث نمبر: 8607
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : خَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ عَقَدَ عُقْدَةً بَيْنَ كَتِفَيْهِ فَقَالَ لَهُ أَعْرَابِيٌّ : مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَيْحَكَ يَا أَعْرَابِيُّ إِنَّمَا أَلْبَسُهَا لِأَقْمَعَ بِهَا الْكِبْرَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْصُورُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے آپ نے دونوں کندھوں کے درمیان گرہ لگائی ہوئی تھی ایک دیہاتی نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ کس وجہ سے ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے دیہاتی ! تمہارا ستیاناس ہو میں نے اسے اس لئے پہنا ہے تاکہ تکبر کو ختم کر دوں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی منصور بن عمار ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی منصور بن عمار ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 8608
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى يَوْمًا ، وَعَلَيْهِ نَمِرَةٌ فَقَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ : " أَعْطِنِي نَمِرَتَكَ وَخُذْ نَمِرَتِي " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ نَمِرَتُكَ أَجْوَدُ مِنْ نَمِرَتِي . فَقَالَ : " أَجَلْ وَلَكِنَّ فِيهَا خَيْطٌ أَحْمَرُ فَخَشِيتُ أَنْ أَنْظُرَ إِلَيْهَا فَيَفْتِنَنِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا مُوسَى بْنِ طَارِقٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی آپ کے جسم پر ایک چادر تھی آپ نے اپنے اصحاب میں سے ایک شخص سے یہ کہا: تم اپنی چادر مجھے دیدو اور میری چادر تم لو لے اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کی چادر میری چادر سے عمدہ ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! لیکن اس میں سرخ کڑھائی ہوئی ہے مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ میں اس کی طرف دیکھوں گا ، اور یہ میری ، توجہ منتشر کر دے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف موسیٰ بن طارق کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف موسیٰ بن طارق کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔