کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جذام زدہ لوگوں کا بیان
حدیث نمبر: 8385
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " لَا تُدِيمُوا النَّظَرَ إِلَى الْمُجَذَّمِينَ ، وَإِذَا كَلَّمْتُمُوهُمْ فَلْيَكُنْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ قَيْدُ رُمْحٍ " . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، وَفِيهِ الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ إِنْ لَمْ يَكُنْ سَقَطَ مِنَ الْإِسْنَادِ أَحَدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جذام زدہ لوگوں کی طرف مسلسل نہ دیکھو اور جب تم ان کے ساتھ بات چیت کرو ، تو تمہارے اور ان کے درمیان نیزے جتنا فاصلہ ہونا چاہیے “ ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فرج بن فضالہ ہے ، جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اگر اس کی سند میں کوئی راوی ساقط نہ ہو ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8385
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (581)»
حدیث نمبر: 8386
وَعَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " لَا تُدِيمُوا النَّظَرَ إِلَى الْمُجَذَّمِينَ ، وَإِذَا كَلَّمْتُمُوهُمْ فَلْيَكُنْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ قَيْدُ رُمْحٍ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِي إِسْنَادِ أَبِي يَعْلَى الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جذام زدہ شخص کی طرف مسلسل نہ دیکھو ! جب تم ان کے ساتھ بات چیت کرو ، تو تمہارے اور ان کے درمیان ایک نیزے جتنا فاصلہ ہونا چاہیے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ کی سند میں ایک راوی فرج بن فضالہ ہے ، جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی یحیی حمانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8386
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابويعليٰ فى المسند (6774) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2897)»
حدیث نمبر: 8387
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْمُجَذَّمِينَ لَا تُدِيمُوا النَّظَرَ إِلَيْهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، عَنْ شَيْخِهِ الْوَلِيدِ بْنِ حَمَّادٍ الرَّمْلِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جذام لوگوں کی طرف مسلسل نہ دیکھو ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ۔ انہوں نے اسے اپنے استاد ولید بن حماد ملی کے حوالے سے نقل کیا ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8387
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (112/20)»
حدیث نمبر: 8388
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تُدِيمُوا النَّظَرَ إِلَى الْمُجَذَّمِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جذام زدہ لوگوں کی طرف مسلسل نہ دیکھو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8388
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11193)»
حدیث نمبر: 8389
وَعَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " نَبَاتُ الشَّعْرِ فِي الْأَنْفِ أَمَانٌ مِنَ الْجُذَامِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو الرَّبِيعِ السَّمَّانُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” ناک میں بالوں کا اُگنا ، جذام سے امان ( کا باعث ) ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوربیع سمان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8389
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف