کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: بیماری کے متعدی ہونے ، ہام ، شگون اور دیگر امور کا بیان
حدیث نمبر: 8390
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " لَا عَدْوَى ، وَلَا طِيَرَةَ ، وَلَا حَسَدَ ، وَالْعَيْنُ حَقٌّ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بیماری کے متعدی ہونے ، شگون اور حسد کی کوئی حقیقت نہیں ہے ، اور نظر لگنا حق ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8391
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " لَا صَفَرَ وَلَا هَامَةَ وَلَا يُعْدِي سَقِيمٌ صَحِيحًا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ ثَعْلَبَةُ بْنُ يَزِيدَ الْحِمَّانِيُّ ، وَثَّقَهُ النَّسَائِيُّ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” صفر ( کے مہینے کے منحوس ہونے ) یا ہامہ کی کوئی حیثیت نہیں ہے ، اور بیمار شخص ، تندرست کو ( بیماری ) متعدی نہیں کرتا “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ثعلبہ بن یزید حمانی ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ نے ثقہ قرار دیا ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ثعلبہ بن یزید حمانی ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ نے ثقہ قرار دیا ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8392
وَعَنْ أَبِي طَلْحَةَ الْخَوْلَانِيِّ قَالَ : بَيْنَمَا عُمَيْرُ بْنُ سَعْدٍ فِي نَفَرٍ مِنْ أَهْلِ فِلَسْطِينَ - وَكَانَ يُقَالُ : نَسِيجٌ وَحْدَهُ - فَقَعَدَ عَلَى دُكَّانٍ لَهُ عَظِيمٍ فِي دَارِهِ ، فَقَالَ لِغُلَامِهِ : يَا غُلَامُ أَوْرِدِ الْخَيْلَ ، قَالَ : وَفِي الدَّارِ تَوْرٌ مِنْ حِجَارَةٍ قَالَ : فَأَوْرَدَهَا فَقَالَ : أَيْنَ فُلَانَةُ ؟ قَالَ : هِيَ جَرِبَةٌ تَقْطُرُ دَمًا - أَوْ قَالَ : تَقْطُرُ مَاءً - شَكَّ أَبُو إِسْحَاقَ - قَالَ : أَوْرَدَهَا ، فَقَالَ أَحَدُ الْقَوْمِ : إِذًا تَجْرَبَ الْخَيْلُ كُلُّهَا ، قَالَ : أَوْرِدْهَا ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ¤ " لَا عَدْوَى ، وَلَا طِيَرَةَ ، وَلَا هَامَةَ ، أَلَمْ تَرَ إِلَى الْبَعِيرِ يَكُونُ فِي الصَّحْرَاءِ ، يُصْبِحُ فِي كَرْكَرَتِهِ - أَوْ فِي مَرَاقِهِ - بَلِيَّةٌ لَمْ تَكُنْ قَبْلَ ذَلِكَ ، فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ ؟ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ سِنَانٍ الْحَنَفِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوطلحہ خولانی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ عمیر بن سعد ، اہل فلسطین کے کچھ لوگوں کے درمیان تشریف فرما تھے ، اور یہ بات کہی جاتی تھی کہ وہ اکیلتے بننے والے تھے ، وہ اپنے گھر کے باہر بڑے سے چبوترے پر تشریف فرما تھے ، انہوں نے اپنے غلام سے کہا: اے غلام گھوڑوں کے پاس جاؤ ! اس نے کہا: گھر میں پتھر کا ایک پیالہ موجود ہے ۔ انہوں نے کہا: اسے لے جاؤ پھر انہوں نے دریافت کیا : فلانی کہاں ہے ؟ اس نے کہا: اسے خارش کی شکایت ہے جس میں سے خون نکل رہا ہے ، یہاں پر ایک لفظ کے بارے میں ابواسحاق نامی راوی کو شک ہے ۔ انہوں نے فرمایا : اسے بھی پانی پلانے لے جاؤ حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا: ایسی صورت میں ، تو تمام گھوڑے خارش کا شکار ہو جائیں گے ۔ انہوں نے فرمایا : تم اسے بھی لے جاؤ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ( بیماری کے ) متعدی ہونے ، شگون ، ہامہ کی کوئی حقیقت نہیں ہے کیا تم نے اونٹ کو نہیں دیکھا جو صحراء میں یوں ہوتا ہے کہ وہ صبح کے وقت اپنے باڑے میں ہوتا ہے ، اور اسے اس سے پہلے کوئی بیماری لاحق نہیں ہوتی ، تو پہلے والے کو کس نے بیماری لاحق کی ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن حنان ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن حنان ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8393
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " لَا عَدْوَى ، وَلَا هَامَةَ ، فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ ؟ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ : " لَا عَدْوَى " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ الدِّرْهَمِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ( بیماری کے ) متعدی ہونے اور ہامہ کی کوئی حیث نہیں ہے ، کس نے پہلے والے کو بیماری میں مبتلا کیا “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس میں سے یہ حصہ منقول ہے : ” متعدی ہونے کی کوئی حیثیت نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف علی بن حسین درہمی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس میں سے یہ حصہ منقول ہے : ” متعدی ہونے کی کوئی حیثیت نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف علی بن حسین درہمی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 8394
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " لَا عَدْوَى " . ¤ فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَإِنَّا نَأْخُذُ الشَّاةَ الْجَرِبَةَ فَنَطْرَحُهَا فِي الْغَنَمِ فَتَجْرَبُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أَعْرَابِيُّ مَنْ أَجْرَبَ الْأُولَى ؟ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ بَعْضِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ( بیماری کے ) متعدی ہونے کی کوئی حیثیت نہیں ہے ایک دیہاتی نے عرض کی : یا رسول اللہ ! بعض اوقات ہم ایک خارش زدہ بکری لیتے ہیں اور اسے بکریوں میں چھوڑ دیتے ہیں ، تو وہ ساری بکریاں خارش والی ہو جاتی ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے دیہاتی ! پہلی والی کو کس نے خارش میں مبتلا کیا تھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ۔ جس میں سے بعض کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ۔ جس میں سے بعض کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 8395
وَعَنْ أَبِي طَلْحَةَ الْخَوْلَانِيِّ قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى عُمَيْرِ بْنِ سَعْدٍ فِي نَفَرٍ مِنْ أَهْلِ فِلَسْطِينَ ، فَذَكَرْتُ عِنْدَهُ الْعَدْوَى ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ¤ " لَا عَدْوَى ، وَلَا طِيَرَةَ ، وَلَا هَامَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ قِصَّةٌ طَوِيلَةٌ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ سِنَانٍ الْحَنَفِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوطلحہ خولانی بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا عمیر بن سعد رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ہم فلسطین سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد تھے ، میں نے ان کے سامنے بیماری کے متعدی ہونے کا ذکر کیا ، تو انہوں نے ارشاد فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ( بیماری کے ) متعدی ہونے ، بدشگونی اور ہام کی کوئی حیثیت نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس میں ایک طویل قصہ نقل ہوا ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن حبان حنفی ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ امام أحمد اور دیگر حضرات نے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس میں ایک طویل قصہ نقل ہوا ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن حبان حنفی ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ امام أحمد اور دیگر حضرات نے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8396
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ ، وَلَا هَامَ ، وَلَا يُتِمُّ شَهْرَانِ ثَلَاثِينَ يَوْمًا " . ¤ قُلْتُ : وَلَهُ طَرِيقٌ أَتَمُّ مِنْ هَذِهِ فِي الدِّيَاتِ فِيمَنْ قَتَلَ ذِمِّيًّا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْغَازِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي الطِّيَرَةِ وَمَا يَقُولُ عِنْدَهَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ( بیماری کے ) متعدی ہونے ، صفر ( کے مہینے کے منحوس ہونے ) ہام کی کوئی حیثیت نہیں ہے ، اور دو مہینے کبھی ( مسلسل ) تیس دن کے نہیں ہوتے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے
یہ روایت اس سے زیادہ مکمل روایت کے طور پر ، دیتوں سے متعلق باب میں آئے گی ، جو اس شخص کے بارے میں ، باب میں ہو گی ، جو کسی ذمی کو قتل کر دیتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن محمد الغاز ہے ، اور ایک راوی عبدالرحمن بن ثابت بن ثوبان ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں بدشگونی کے بارے میں کچھ احادیث آگے آئیں گی نیز یہ کہ آدمی اس وقت کیا پڑھے ۔
یہ روایت اس سے زیادہ مکمل روایت کے طور پر ، دیتوں سے متعلق باب میں آئے گی ، جو اس شخص کے بارے میں ، باب میں ہو گی ، جو کسی ذمی کو قتل کر دیتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن محمد الغاز ہے ، اور ایک راوی عبدالرحمن بن ثابت بن ثوبان ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں بدشگونی کے بارے میں کچھ احادیث آگے آئیں گی نیز یہ کہ آدمی اس وقت کیا پڑھے ۔