حدیث نمبر: 8384
عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ أَنَّ رَجُلًا رَأَى رَجُلًا بِهِ خَنَازِيرُ فَقَالَ : لَوْلَا أَنَّهُ أَخَذَ عَلَيَّ لَحَدَّثْتُكَ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ مَسْعُودٍ فَلَقِيَهُ فَقَالَ : حَدِّثْ ، فَقَالَ : إِنَّهُ أَخَذَ عَلَيَّ أَنْ لَا أُحَدِّثَ بِهِ أَحَدًا ، قَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ : إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْكَ ، كَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ ، وَحَدِّثْ بِهِ ، قَالَ : اعْمَدْ إِلَى أَبْوَالِ إِبِلِ الْأَرَاكِ - يَعْنِي تَأْكُلُ الْأَرَاكَ - فَاطْبُخْهُ حَتَّى يَنْعَقِدَ ثُمَّ اشْرَبْهُ ، وَخُذْ وَرَقَ الْأَرَاكِ فَدُقَّهُ وَذَرِّهِ عَلَيْهِ . فَفَعَلَ فَبَرِأَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيُّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے دوسرے کو دیکھا جسے خنازیر ( گردن کے پھوڑے ) کی شکایت تھی اس نے کہا: اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ وہ مجھ پر گرفت کریں گے ، تو میں نے تمہیں حدیث بیان کرنی تھی اس بات کی اطلاع سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو ملی ، تو وہ اس شخص سے ملے اور کہا: تم حدیث بیان کرو اس نے کہا: میں نے اپنے ذمہ یہ عہد لیا ہے کہ میں یہ حدیث کسی کو بیان نہیں کروں گا ۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسے فرمایا ایسے شخص کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ تم پر گرفت کرے تم اپنی قسم کا کفارہ دیدینا تم یہ حدیث بیان کرو اس نے کہا: پیلو کے درخت کی طرف جائیں اور اسے پکائیں یہاں تک کہ جب وہ تیار ہو جائے ، تو اسے پی لیں پھر آپ پیلو کے پتے لیں انہیں پیس لیں اور اس پر چھڑک دیں اس شخص نے ایسا کیا ، تو وہ تندرست ہو گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عبداللہ مسعودی ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عبداللہ مسعودی ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔