کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: شہد ، پچھنے لگوانے اور دیگر چیزوں کو ، دواء کے طور پر استعمال کرنا
حدیث نمبر: 8312
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ شِفَاءٌ ، فَفِي شَرْطَةِ مِحْجَمٍ ، أَوْ شَرْبَةِ عَسَلٍ ، أَوْ كَيَّةٍ تُصِيبُ أَلَمًا ، وَأَنَا أَكْرَهُ الْكَيَّ ، لَا أُحِبُّهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، خَلَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْوَلِيدِ بْنِ قَيْسٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر کسی چیز میں شفاء موجود ہے ، تو پچھنے لگانے کے آلات میں ، یا شہد پینے میں یا تکلیف والی جگہ پر داغ لگوانے میں ہے ، اور میں داغ لگوانے کو مکروہ سمجھتا ہوں ، میں اسے پسند نہیں کرتا“ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن ولید بن قیس کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن ولید بن قیس کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 8313
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَدِيجٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ شِفَاءٌ فَفِي شَرْطَةِ مِحْجَمٍ ، أَوْ شَرْبَةٍ مِنْ عَسَلٍ ، أَوْ كَيَّةٍ بِنَارٍ تُصِيبُ أَلَمًا ، وَلَا أُحِبُّ أَنْ أَكْتَوِيَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، خَلَا سُوِيدَ بْنَ قَيْسٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر کسی چیز میں شفاء ہے ، تو پچھنے لگوانے میں ہے ، یا شہد پینے میں ہے ، یا آگ کے ذریعے داغ لگوانے میں ہے ، جو تکلیف والی جگہ پر لگایا جائے ، اور میں یہ پسند نہیں کرتا کہ میں داغ لگواؤں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف سوید بن قیس کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف سوید بن قیس کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 8314
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ مِنْ أَدْوِيَتِكُمْ شِفَاءٌ فَفِي شَرْطَةِ مِحْجَمٍ - أَحْسَبُهُ قَالَ - : أَوْ لَعْقَةِ عَسَلٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَسْعَدَ التَّغَلِبِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تمہاری دواؤں ( یعنی طریقہ علاج ) میں سے ، اگر کسی چیز میں شفاء ہے ، تو وہ پچھنے لگوانے میں ہے ( راوی کہتے ہیں : ) میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ” یا شہد چاٹنے میں ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسد تغلبی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ابوزرعہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسد تغلبی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ابوزرعہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 8315
وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَنَا بِالْحِجَامَةِ وَقَالَ : " مَا بَزَغَ النَّاسَ نَزْعَةٌ خَيْرٌ مِنْهُ أَوْ شَرْبَةٌ مِنْ عَسَلٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَقِيلَ عَنِ ابْنِ مَعِينٍ فِي إِحْدَى الرِّوَايَاتِ : لَا بَأْسَ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پچھنے لگانے کا حکم دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوگوں نے کوئی بھی علاج اس سے بہتر نہیں کیا ، یا شہد پینے سے ( بہتر نہیں ہے ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عبدالملک نوفلی ہے ، اور وہ متروک ہے ایک قول کے مطابق یحیی بن معین سے منقول مختلف روایات میں سے ، ایک کے مطابق ، اس راوی میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عبدالملک نوفلی ہے ، اور وہ متروک ہے ایک قول کے مطابق یحیی بن معین سے منقول مختلف روایات میں سے ، ایک کے مطابق ، اس راوی میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
حدیث نمبر: 8316
وَعَنِ ابْنِ عَمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " مَا مَرَرْتُ بِسَمَاءٍ مِنَ السَّمَاوَاتِ إِلَّا قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ : يَا مُحَمَّدُ مُرْ أُمَّتَكَ بِالْحِجَامَةِ وَالْكُسْتِ وَالشُّونِيزِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَتُكُلِّمَ فِيهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ( معراج کی رات ) میں جس بھی آسمان سے گزرا ، تو فرشتوں نے یہی کہا: اے سیدنا محمد ! آپ اپنی امت کو پچھنے لگوانے کی ، قسط ( نامی بوٹی ) استعمال کرنے ، اور شونیز استعمال کرنے کی ہدایت کریں “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاف بن خالد ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاف بن خالد ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 8317
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " عَلَيْكُمْ بِالْحِجَامَةِ وَالْقُسْطِ الْبَحْرِيِّ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم پر پچھنے لگوانا اور قسط بحری استعمال کرنا لازم ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 8318
وَعَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " مَا مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسَرِيَ بِي عَلَى مَلَأٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ ، إِلَّا أَمَرُونِي بِالْحِجَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مالک بن صعصہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس رات مجھے معراج کروائی گئی ، میں فرشتوں کے جس بھی گروہ کے پاس سے گزرا ، انہوں نے مجھے پچھنے لگوانے کا کہا: “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 8319
وَعَنْ أَبِي الْحَكَمِ الْبَجَلِيِّ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ وَهُوَ يَحْتَجِمُ فَقَالَ : يَا أَبَا حَكِيمٍ أَتَحْتَجِمُ ؟ فَقُلْتُ : مَا احْتَجَمْتُ قَطُّ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : أَنْبَأَ أَبُو الْقَاسِمِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " أَنَّ جِبْرِيلَ أَخْبَرَهُ أَنَّ الْحِجَامَةَ أَنْفَعُ مَا تَدَاوَى بِهِ النَّاسُ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ ، وَابْنُ مَاجَهْ ، خَلَا ذِكْرَ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ النَّخَعِيُّ ، ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَلَمْ يَجْرَحْهُ وَلَمْ يُوَثِّقْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابوالحکم بجلی بیان کرتے ہیں : میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، وہ پچھنے لگوا رہے تھے ، انہوں نے کہا: اے ابوالحکیم ! کیا تم پچھنے لگواؤ گے ؟ میں نے جواب دیا : میں نے کبھی پچھنے نہیں لگوائے ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : ” سیدنا جبرائیل نے آپ کو یہ بتایا تھا کہ پچھنے لگوانا ، ان تمام چیزوں سے زیادہ فائدہ مند ہے ، جو لوگ ( مختلف طرح کے ) علاج کرتے ہیں “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابوداؤد اور امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ، تا ہم انہوں نے اس میں سیدنا جبرائیل کا ذکر نہیں کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن قیس نخعی ہے ، ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے ، انہوں نے اس پر جرح بھی نہیں کی اور اس کی توثیق بھی نہیں کی ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابوداؤد اور امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ، تا ہم انہوں نے اس میں سیدنا جبرائیل کا ذکر نہیں کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن قیس نخعی ہے ، ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے ، انہوں نے اس پر جرح بھی نہیں کی اور اس کی توثیق بھی نہیں کی ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 8320
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : حَجَّمَ أَبُو طِيبَةَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَخَلَ عَلَيْهِ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ أَوِ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ فَقَالَ : " هَذَا الْحَجْمُ وَهُوَ خَيْرُ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْعُمَرِيُّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ابوطیبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پچھنے لگا رہا تھا ، عیینہ بن حصن یا اقرع بن حابس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ پچھنے لگوانا ہے ، اور یہ ان سب میں بہتر ہے ، جو چیز تم دواء کے طور پر استعمال کرتے ہو“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عمر بن حفص عمری ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عمر بن حفص عمری ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 8321
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : ¤ احْتَجَمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْأَخْدَعَيْنِ وَبَيْنَ الْكَتِفَيْنِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اخدع ( نامی دو رگوں ) میں پچھنے لگوائے تھے اور دونوں کندھوں کے درمیان ( پچھنے ) لگوائے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 8322
وَعَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الْفَزَارِيِّ قَالَ : ¤ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَحْتَجِمُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامیہ فزاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پچھنے لگواتے ہوئے دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8323
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " خَمْسٌ مِنْ سُنَنِ الْمُرْسَلِينَ : الْحَيَاءُ ، وَالْحُلْمُ ، وَالْحِجَامَةُ ، وَالسِّوَاكُ ، وَالتَّعَطُّرُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُمَرَ مُحَمَّدُ بْنُ الْأَسْلَمِيُّ قَالَ الذَّهَبِيُّ : مَجْهُولٌ ، قَالَ : وَرَوَى لَهُ الْحَاكِمُ فِي الْمُسْتَدْرَكِ . وَرَوَى عَنْهُ غَيْرُ وَاحِدٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن یزید خطمی ، اپنے والد کے حوالے یہ بات نقل کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” پانچ چیزیں مرسلین کی سنت میں سے ہیں حیاء ، بردباری ، پچھنے لگوانا ، مسواک کرنا اور عطر لگانا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن محمد بن اسلمی ہے ۔ امام ذہبی کہتے ہیں : یہ مجہول ہے ۔ امام حاکم رحمہ اللہ نے مستدرک میں اس کے حوالے سے حدیث نقل کی ہے ۔ اس کے حوالے سے ایک سے زیادہ افراد نے روایات نقل کی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن محمد بن اسلمی ہے ۔ امام ذہبی کہتے ہیں : یہ مجہول ہے ۔ امام حاکم رحمہ اللہ نے مستدرک میں اس کے حوالے سے حدیث نقل کی ہے ۔ اس کے حوالے سے ایک سے زیادہ افراد نے روایات نقل کی ہیں ۔
حدیث نمبر: 8324
وَعَنْ سَمُرَةَ قَالَ : دَعَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَجَّامًا فَحَجَّمَهُ بِقَرْنٍ وَشَرَطَ بِشَفْرَةٍ ، فَرَآهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَازَةَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَلَامَ تَدَعُ هَذَا يَقْطَعُ لَحْمَكَ ؟ فَقَالَ : " هَلْ تَدْرِي مَا هَذَا ؟ هَذَا الْحَجْمُ ، وَهُوَ خَيْرُ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، خَلَا حُصَيْنَ بْنَ أَبِي الْحُرِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگانے والے کو بلوایا اس نے سینگ اور چھری کے ذریعے آپ کو پچھنے لگائے ، بنو فزارہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے آپ کو دیکھا تو عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اس شخص کو کیوں موقع دے رہے ہیں کہ یہ آپ کا گوشت کاٹ دے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم یہ نہیں جانتے کہ یہ کیا کام ہے یہ پچھنے لگوانا ہے ، اور یہ ان سب میں بہتر ہے جو تم دواء ( یعنی علاج ) کے طور پر استعمال کرتے ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف حصین بن ابوحر کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف حصین بن ابوحر کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 8325
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ : ¤ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - احْتَجَمَ بَعْدَ مَا سُمَّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ . وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب زہر دیا گیا ، تو اس کے بعد آپ نے پچھنے لگوائے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں اور
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں اور
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 8326
وَعَنْ عَلِيٍّ - لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " إِذَا هَاجَ بِأَحَدِكُمُ الدَّمُ فَلْيُهْرِقْهُ وَلَوْ بِمِشْقَصٍ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ أَبُو إِبْرَاهِيمَ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَكَذَّبَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت منقول ہے : ( راوی کہتے ہیں : ) میرے علم کے مطابق ، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ۔ ” جب تم میں سے کسی شخص کا خون جوش مارنے لگے ( یعنی اسے بلند فشار دم کی شکایت ہو ) تو اسے اس کو بہا دینا چاہیے خواہ وہ تیر کے ذریعے ایسا کرے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن قاسم ابوابراہیم ہے ، جسے یحیی بن معین نے ثقہ کہا: ہے ، اور امام أحمد نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اور اسے جھوٹا قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن قاسم ابوابراہیم ہے ، جسے یحیی بن معین نے ثقہ کہا: ہے ، اور امام أحمد نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اور اسے جھوٹا قرار دیا ہے ۔