عَنْ جَابِرٍ قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ - أَوْ عَلَى عَائِشَةَ - بِصَبِيٍّ يَسِيلُ مُنْخَرَاهُ دَمًا فَقَالَ : " مَا لِهَذَا ؟ " فَقَالُوا : بِهِ الْعُذْرَةُ . ¤ وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ فِي حَدِيثِهِ : وَعِنْدَهَا صَبِيٌّ يَنْبَعِثُ مِنْخَرَاهُ دَمًا ، فَقَالَ : " مَا لِهَذَا ؟ " قَالَ : فَقَالُوا : بِهِ الْعُذْرَةُ . قَالَ : فَقَالَ : " عَلَّامَ تُعَذِّبْنَ أَوْلَادَكُنَّ ؟ إِنَّمَا يَكْفِي إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَأْخُذَ قُسْطًا هِنْدِيًّا فَتَحُكَّهُ بِسَبْعِ تَمَرَاتٍ ، ثُمَّ تُؤَجِّرَهُ إِيَّاهُ " . ¤ قَالَ ابْنُ أَبِي عُتْبَةَ : " ثُمَّ تُسْعِطُهُ إِيَّاهُ " . فَفَعَلُوا فَبَرَأَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لائے وہاں ایک بچہ موجود تھا جس کے نتھنوں سے خون نکل رہا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اس کو کیا ہوا ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ اسے گلے کی تکلیف تھی یہاں ابومعاویہ نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں اس خاتون کے پاس ایک بچہ موجود تھا جس کے نتھنوں سے خون نکل رہا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ کس وجہ سے ہے لوگوں نے بتایا کہ اسے گلے کی تکلیف تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنے بچوں کو کیوں عذاب دیتی ہو ؟ تم میں سے کسی ایک کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ قسط ہندی لے کر اسے سات کھجوروں کے ساتھ ملا کر اسے دیدے ۔ ابن ابوعتبہ کہتے ہیں : پھر اُسے ناک میں ڈال دے ، ان لوگوں نے ایسا کیا ، تو وہ بچہ ٹھیک ہو گیا ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ امْرَأَةً دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهَا صَبِيٌّ يَسِيلُ مِنْخَرَاهُ دَمًا قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " عَلَامَ تَذْعُرْنَ أَوْلَادَكُنَّ ؟ أَلَا أَخَذْتِ قِسْطًا بَحْرِيًّا ، ثُمَّ أَسْعِطِيهِ إِيَّاهُ ، فَإِنَّ فِيهِ شِفَاءً مِنْ سَبْعَةِ أَدْوِيَةٍ إِحْدَاهُنَّ ذَاتُ الْجَنْبِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَقَدْ حَصَلَ لَهُ اخْتِلَاطٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک خاتون سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لائی اس کے ساتھ ایک بچہ بھی تھا جس کے نتھنوں سے خون بہہ رہا تھا راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم اپنے بچوں کو کیوں اذیت پہنچاتی ہو کوئی عورت قسط بحری کیوں نہیں لیتی کہ پھر وہ اسے ، اس کے ناک میں ڈال دے ، کیونکہ اس میں سات دوائیوں کے حوالے سے شفاء ہے ( یا سات بیماریوں کی شفاء ہے ) جن میں سے ایک ذات الجنب ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے ، اور وہ ثقہ ہے اس کو اختلاط لاحق ہو گیا تھا اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے ، اور وہ ثقہ ہے اس کو اختلاط لاحق ہو گیا تھا اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔