حدیث نمبر: 8307
عَنْ جَابِرٍ قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ - أَوْ عَلَى عَائِشَةَ - بِصَبِيٍّ يَسِيلُ مُنْخَرَاهُ دَمًا فَقَالَ : " مَا لِهَذَا ؟ " فَقَالُوا : بِهِ الْعُذْرَةُ . ¤ وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ فِي حَدِيثِهِ : وَعِنْدَهَا صَبِيٌّ يَنْبَعِثُ مِنْخَرَاهُ دَمًا ، فَقَالَ : " مَا لِهَذَا ؟ " قَالَ : فَقَالُوا : بِهِ الْعُذْرَةُ . قَالَ : فَقَالَ : " عَلَّامَ تُعَذِّبْنَ أَوْلَادَكُنَّ ؟ إِنَّمَا يَكْفِي إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَأْخُذَ قُسْطًا هِنْدِيًّا فَتَحُكَّهُ بِسَبْعِ تَمَرَاتٍ ، ثُمَّ تُؤَجِّرَهُ إِيَّاهُ " . ¤ قَالَ ابْنُ أَبِي عُتْبَةَ : " ثُمَّ تُسْعِطُهُ إِيَّاهُ " . فَفَعَلُوا فَبَرَأَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لائے وہاں ایک بچہ موجود تھا جس کے نتھنوں سے خون نکل رہا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اس کو کیا ہوا ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ اسے گلے کی تکلیف تھی یہاں ابومعاویہ نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں اس خاتون کے پاس ایک بچہ موجود تھا جس کے نتھنوں سے خون نکل رہا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ کس وجہ سے ہے لوگوں نے بتایا کہ اسے گلے کی تکلیف تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنے بچوں کو کیوں عذاب دیتی ہو ؟ تم میں سے کسی ایک کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ قسط ہندی لے کر اسے سات کھجوروں کے ساتھ ملا کر اسے دیدے ۔ ابن ابوعتبہ کہتے ہیں : پھر اُسے ناک میں ڈال دے ، ان لوگوں نے ایسا کیا ، تو وہ بچہ ٹھیک ہو گیا ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8307
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3024) اخرجه ابو يعلى فى المسند (1912) أخرجه احمد فى المسند (315/3)»