کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: بڑوں سے آغاز کرنا
حدیث نمبر: 8263
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا سَقَى قَالَ : ¤ " ابْدَءُوا بِالْكَبِيرِ - أَوْ قَالَ : بِالْأَكَابِرِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی چیز پلاتے تھے ، تو یہ فرماتے تھے : بڑے سے آغاز کرو ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) بڑوں سے آغاز کرو ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8263
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (2425)»
حدیث نمبر: 8264
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : ¤ بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ ، وَفِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، إِذْ أُتِيَ بِقَدْحِ فِيهِ شَرَابٌ ، فَنَاوَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبَا عُبَيْدَةَ فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ : أَنْتَ أَوْلَى بِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " خُذْ " فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ الْقَدَحَ ، قَالَ لَهُ قَبْلَ أَنْ يَشْرَبَ : خُذْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " اشْرَبْ فَإِنَّ الْبَرَكَةَ مَعَ أَكَابِرِنَا ، فَمَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا ، وَيُجِلُّ كَبِيرَنَا فَلَيْسَ مِنَّا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ أَبِي عَبْدِ الْمَلِكِ عَنِ الْقَاسِمِ ، وَلَمْ أَعْرِفْ أَبَا عَبْدِ الْمَلِكِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے ، آپ کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ تھے اور کچھ دیگر صحابہ کرام موجود تھے ، اسی دوران ایک پیالہ لایا گیا جس میں مشروب موجود تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پیالہ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی طرف بڑھایا تو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اس کے زیادہ حق دار ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لے لو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اسے لے لیا پینے سے پہلے ایک مرتبہ پھر انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! آپ لے لیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم پیو ! کیونکہ برکت ہمارے بڑوں کے ساتھ ہوتی ہے ، جو شخص ہمارے چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا ، اور بڑوں کا احترام نہیں کرتا ، وہ ہم میں سے نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ابوعبدالملک کے حوالے سے قاسم سے نقل کی ہے ، میں ابوعبدالملک نامی راوی سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض رجال کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8264
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7895)»