کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: پینے ، بسم اللہ پڑھنے اور الحمدللہ پڑھنے کا طریقہ
حدیث نمبر: 8255
عَنْ بَهْزٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْتَاكُ عَرْضًا ، وَيَشْرَبُ مَصًّا ، وَيَتَنَفَّسُ ثَلَاثًا ، وَيَقُولُ : ¤ " هُوَ أَهْنَأُ وَأَمْرَأُ وَأَبْرَأُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ثُبَيْتُ بْنُ كَثِيرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بہز رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چوڑائی کی سمت میں مسواک کرتے تھے اور چوس کر پیتے تھے اور تین مرتبہ سانس لیتے تھے اور یہ فرماتے تھے : یہ زیادہ خوشگوار ، نفع بخش اور تندرستی والا ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ثبیت بن کثیر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8255
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1242)»
حدیث نمبر: 8256
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : ¤ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَبْدَأُ بِالشَّرَابِ إِذَا كَانَ صَائِمًا ، وَكَانَ لَا يَعُبُّ ، يَشْرَبُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَشَيْخُهُ فِي أَحَدِهِمَا : أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب روزے کے عالم میں ہوتے ، تو ( افطاری کے وقت ) سب سے پہلے ( کچھ ) پیتے تھے اور آپ ایک ہی گھونٹ میں سارا ( پانی یا مشروب ) نہیں پی جاتے تھے ، بلکہ دو یا تین مرتبہ میں پیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کی سند میں ، ان کے استاد ابوضریر ہیں ، میں ان سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8256
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (332/23)»
حدیث نمبر: 8257
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَشْرَبُ فِي ثَلَاثَةِ أَنْفَاسٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْيَمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةَ ، وُهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تین سانسوں میں پیتے تھے ۔ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یمان بن مغیرہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8257
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 8258
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : ¤ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ ثَلَاثَةَ أَنْفَاسٍ يُسَمِّي عِنْدَ كُلِّ نَفَسٍ ، وَيَشْكُرُ فِي آخِرِهِنَّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ الْمُعَلَّى بْنُ عِرْفَانَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم برتن میں تین مرتبہ سانس لیتے تھے اور ہر مرتبہ میں آپ اللہ کا نام لیتے تھے ( یا بسم اللہ پڑھتے تھے ) اور آخر میں آپ شکر کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام بزار نے یہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی معلی بن عرفان ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8258
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2900) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1045)»
حدیث نمبر: 8259
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَشْرَبُ فِي ثَلَاثَةِ أَنْفَاسٍ . إِذَا أَدْنَى الْإِنَاءَ إِلَى فِيهِ سَمَّى اللَّهَ ، فَإِذَا أَخَّرَهُ حَمِدَ اللَّهَ ، يَفْعَلُ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَتِيقُ بْنُ يَعْقُوبَ وَهُوَ أَحَدُ رِجَالِ الْمُوَطَّأِ عَنْ مَالِكٍ ، رَوَاهُ عَنْهُ جَمَاعَةٌ مِنْهُمْ أَبُو زُرْعَةَ وَقَالَ : بَلَغَنِي أَنَّهُ حَفَظَ الْمُوَطَّأَ فِي حَيَاةِ الْإِمَامِ مَالِكٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ سانس لے کر پیتے تھے جب آپ برتن منہ کی طرف لے جاتے تھے ، تو آپ اللہ کا نام لیتے تھے اور جب پیچھے کرتے ، تو اللہ تعلی کی حمد بیان کرتے تھے ایسا آپ تینوں مرتبہ میں کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عتیق بن یعقوب ہے جو ” موطا “ کے رجال میں سے ایک ہے ، جنہوں نے امام مالک سے روایت نقل کی ہے ، ایک جماعت نے اس شخص سے روایات نقل کی ہیں ، جن میں ایک ابوزرعہ ہے وہ کہتے ہیں : مجھ تک
یہ روایت پہنچی ہے کہ انہوں نے امام مالک کی زندگی میں ہی ” موطا “ حفظ کر لی تھی اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8259
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (844)»
حدیث نمبر: 8260
وَعَنْ نَوْفَلِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الدَّيْلِيِّ قَالَ : ¤ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَشْرَبُ بِثَلَاثَةِ أَنْفَاسٍ ، يُسَمِّي اللَّهَ فِي أَوَّلِهَا ، وَيَحْمَدُهُ فِي آخِرِهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ شِبْلُ بْنُ الْعَلَاءِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نوفل بن معاویہ دیلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے پیتے ہوئے تین مرتبہ سانس لیا آپ نے اس ( پینے ) کے آغاز میں اللہ کا نام لیا اور اس کے آخر میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شبل بن العلاء ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8260
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 8261
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ أَنَّهُ كَانَ يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ ثَلَاثًا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ برتن میں ( یعنی پیتے ہوئے ) تین مرتبہ سانس لیتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8261
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2901)»
حدیث نمبر: 8262
وَعَنْ جَرِيرٍ قَالَ : دَخَلَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِنْدَهُ رَجُلٌ ، فَاسْتَسْقَى ، فَأُتِيَ بِمَاءٍ فَسَتَرَهُ فَشَرِبَ ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ قَالَ : " الْحَيَاءُ وَالْإِيمَانُ أُوتُوهُمَا ، وَمُنِعْتُمُوهُمَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ مُطِيعٍ الشَّيْبَانِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عیینہ بن حصن ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص موجود تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی مانگا وہ پانی لایا گیا تو آپ نے پردہ کیا اور پھر اسے پیا ، اس نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : حیاء اور ایمان یہ دونوں ایک ساتھ دیے جاتے ہیں ، اور تم کو ان دونوں سے روک دیا گیا ( یا یہ دونوں تمہیں نہیں دیے گئے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن مطیع شیبانی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8262
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2268)»