حدیث نمبر: 8219
عَنِ أَبِي شَيْخٍ الْهُنَائِيِّ أَنَّ مُعَاوِيَةَ قَالَ لِنَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنِ الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ ؟ قَالُوا : نَعَمْ . ¤
محمد محی الدین
ابوشیخ ہنائی بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب سے فرمایا : آپ یہ بات جانتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے اور چاندی کے برتنوں میں پینے سے منع فرمایا ہے ، اُن حضرات نے جواب دیا : جی ہاں ۔
حدیث نمبر: 8220
وَفِي رِوَايَةٍ : كُنْتُ فِي مَلَأٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنِ الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ ؟ قَالُوا : اللَّهُمَّ نَعَمْ ، قَالَ : وَأَنَا أَشْهَدُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ ، وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ بَعْضَهُ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا أَبَا شَيْخٍ الْهُنَائِيَّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : میں کچھ اصحاب کے درمیان موجود تھا ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں آپ لوگوں کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کہ آپ یہ بات جانتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کے برتن میں پینے سے منع کیا ہے ان حضرات نے جواب دیا : اللہ جانتا ہے ، جی ہاں ! سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے ایک طویل حدیث میں ذکر کی ہے ، امام طبرانی نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابوشیخ ہنائی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ایک طویل حدیث میں ذکر کی ہے ، امام طبرانی نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابوشیخ ہنائی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 8221
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ : وَإِنَّمَا نَهَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الشُّرْبِ فِي إِنَاءِ الْفِضَّةٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَزَادَ فِيهِ : إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْحَرِيرِ الْمُصْمَتِ ، فَأَمَّا أَنْ يَكُونَ سُدَاهُ أَوْ لُحْمَتُهُ حَرِيرًا فَلَا بَأْسَ بِلَبْسِهِ . ¤ وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کے برتن میں پینے سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ریشم سے منع کیا ہے ، جو مکمل ریشم ہو ، اگر اس کا تانا ، یا بانا ریشم کا ہو ، تو پھر اس کو پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے “ ۔ ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ریشم سے منع کیا ہے ، جو مکمل ریشم ہو ، اگر اس کا تانا ، یا بانا ریشم کا ہو ، تو پھر اس کو پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے “ ۔ ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 8222
وَعَنْ كُلْثُومِ بْنِ جَبْرٍ قَالَ : كَانُوا بِوَاسِطِ الْقَصَبِ عِنْدَ عَبْدِ الْأَعْلَى [بْنِ عَبْدِ اللَّهِ] بْنِ عَامِرٍ قَالَ : فَإِذَا عِنْدَهُ رَجُلٌ - يُقَالُ لَهُ : أَبُو الْغَادِيَةِ - اسْتَسْقَى [مَاءً] فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ مُفَضَّضٍ فَأَبَى أَنْ يَشْرَبَ ، وَذَكَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي أَثْنَاءِ حَدِيثٍ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
کلثوم بن جبر بیان کرتے ہیں : وہ لوگ واسط القصب میں عبدالاعلیٰ بن عبداللہ بن عامر کے پاس موجود تھے ان کے پاس ایک صاحب موجود تھے جنہیں ابوغادیہ کہا: جاتا تھا انہوں نے پانی مانگا ان کے پاس ایسے برتن میں پانی لایا گیا جس پر چاندی لگی ہوئی تھی ، تو انہوں نے اس ( برتن ) میں پینے سے انکار کر دیا اور یہ بات ذکر کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ایک حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے ایک حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 8223
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الَّذِي يَشْرَبُ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ إِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي سَمِينَةَ وَقَدْ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُمَا وَفِيهِ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک جو شخص سونے یا چاندی کے برتن میں پیتا ہے ، وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ ڈالتا ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن یحیی بن ابوسمینہ ہے ، جسے ابوحاتم ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اس کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے جو نقصان دہ نہیں ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن یحیی بن ابوسمینہ ہے ، جسے ابوحاتم ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اس کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے جو نقصان دہ نہیں ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8224
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ شَرِبَ فِي إِنَاءِ ذَهَبٍ أَوْ إِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ فَإِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْعَلَاءُ بْنُ بَرْدِ بْنِ سِنَانٍ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص سونے کے برتن میں یا چاندی کے برتن میں پیتا ہے ، تو وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ ڈالتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علاء بن برد بن سنان ہے ، جسے امام أحمد نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علاء بن برد بن سنان ہے ، جسے امام أحمد نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 8225
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ ، وَشَرِبَ فِي الْفِضَّةِ فَلَيْسَ مِنَّا ، وَمَنْ خَبَّبَ امْرَأَةً عَلَى زَوْجِهَا ، أَوْ عَبْدًا عَلَى مَوَالِيهِ فَلَيْسَ مِنَّا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو طِيبَةَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسْلِمٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُخْطِئُ وَيُخَالِفُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ریشم پہنے اور چاندی کے برتن میں پیئے وہ ہم میں سے نہیں ہے ، اور جو شخص کسی عورت کو اس کے شوہر کے خلاف کر دے یا کسی غلام کو اس کے آقاؤں کے خلاف کر دے وہ ہم میں سے نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوطیبہ عبداللہ بن مسلم ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے وہ کہتے ہیں : یہ غلطی بھی کر جاتا ہے ، اور دوسروں کے برخلاف بھی نقل کرتا ہے ، اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوطیبہ عبداللہ بن مسلم ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے وہ کہتے ہیں : یہ غلطی بھی کر جاتا ہے ، اور دوسروں کے برخلاف بھی نقل کرتا ہے ، اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8226
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : نَهَانِي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ أَشْرَبَ فِي إِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ الْجُعْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس بات سے منع کیا تھا کہ میں چاندی کے برتن میں کچھ پیؤں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر بن یزید جعفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر بن یزید جعفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 8227
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَحَفْصَةَ قَالَتَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الَّذِي يَشْرَبُ فِي إِنَاءِ الْفِضَّةِ يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ " . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ فِي الصَّحِيحِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ عَمْرٍو ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص چاندی کے برتن میں پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ ڈالتا ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث صحیح میں مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن عمرو ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن عمرو ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 8228
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : أُتِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسِقَايَةٍ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سونے کے برتن میں مشروب لایا گیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔