کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان ، جو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر شراب اور ریشم کو ترک کر دے
حدیث نمبر: 8217
عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَسْقِيَهُ اللَّهُ الْخَمْرَةَ فِي الْآخِرَةِ ، فَلْيَتْرُكْهَا فِي الدُّنْيَا وَمَنْ سَرَّهُ أَنْ يَكْسُوَهُ اللَّهُ الْحَرِيرَ فِي الْآخِرَةِ ، فَلْيَتْرُكْهُ فِي الدُّنْيَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ الْمِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ قَبْلَ هَذَا بِبَابٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے آخرت میں مشروب پلائے ، اسے دنیا میں شراب کو ترک کر دینا چاہیے اور جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے آخرت میں ریشم پہنائے ، اسے دنیا میں اسے ترک کر دینا چاہیے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ، اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہیں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے ایک باب پہلے ، سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ایک حدیث گزر چکی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ، اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہیں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے ایک باب پہلے ، سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ایک حدیث گزر چکی ہے ۔
حدیث نمبر: 8218
وَعَنِ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ تَرَكَ الْخَمْرَ وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَيْهِ لَأَسْقِيَنَّهُ مِنْهُ مِنْ حَظِيرَةِ الْقُدُسِ ، وَمَنْ تَرَكَ الْحَرِيرَ وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَيْهِ لِأَكْسُوَنَّهُ إِيَّاهُ مِنْ حَظِيرَةِ الْقُدُسِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ شُعَيْبُ بْنُ بَيَانٍ قَالَ الذَّهَبِيُّ : صَدُوقٌ ، وَضَعَّفَهُ الْجَوْزَجَانِيُّ ، وَالْعُقَيْلِيُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ( اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” جو شخص شراب کو چھوڑ دے ، حالانکہ وہ اس پر قدرت رکھتا ہو ، تو میں اسے ” حظیرۃ القدس “ میں سے پلاؤں گا ، اور جو شخص ریشم کو چھوڑ دے ، حالانکہ وہ اس پر قدرت رکھتا ہو ، تو میں اسے ” حظیرۃ القدس “ میں سے لباس پہناؤں گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شعیب بن بیان ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں : یہ صدوق ہے ، جرجانی اور عقیلی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شعیب بن بیان ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں : یہ صدوق ہے ، جرجانی اور عقیلی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔