کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان ، جو شراب کو حلال قرار دیتا ہے
حدیث نمبر: 8214
عَنْ جَعْفَرٍ - يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ - قَالَ : أَتَيْتُ فَرْقَدًا يَوْمًا فَوَجَدْتُهُ خَالِيًا ، فَقُلْتُ : يَا ابْنَ أُمِّ فَرَقَدٍ لَأَسْأَلَنَّكَ الْيَوْمَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ ، فَقُلْتُ : أَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِكَ فِي الْخَسْفِ وَالْقَذْفِ ، أَشِيءٌ تَقَوُّلُهُ أَنْتَ أَوْ تَأْثُرُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : لَا ، بَلْ أَؤْثُرُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُلْتُ : مَنْ حَدَّثَكَ ؟ قَالَ : حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَحَدَّثَنِي قَتَادَةُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ . وَحَدَّثَنِي بِهِ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " تَبِيتُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَلَهْوٍ وَلَعِبٍ . ثُمَّ يُصْبِحُوا قِرَدَةً وَخَنَازِيرَ ، وَيُبْعَثُ عَلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَائِهِمْ رِيحٌ فَيَنْسِفُهُمْ كَمَا نَسَفَ مَنْ كَانَ قَبْلَهُمْ بِاسْتِحْلَالِهِمُ الْخُمُورَ ، وَضَرْبِهِمْ بِالدُّفُوفِ ، وَاتِّخَاذِهِمُ الْقَيْنَاتِ " . ¤ - رَوَاهُ أَحْمَدُ . وَفَرْقَدٌ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
جعفر بن سلیمان بیان کرتے ہیں : میں ایک دن فرقد کے پاس آیا ، تو میں نے انہیں تنہا پایا ، تو میں نے کہا: اے ام فرقد کے صاحبزادے ! آج میں آپ سے اس حدیث کے بارے میں ضرور دریافت کروں گا ، میں نے کہا: آپ مجھے زمین میں دھنسائے جانے اور پتھر مارے جانے کے بارے میں اپنے بیان کے حوالے سے بتائیے کہ یہ بات آپ نے خود کہی ہے ؟ یا آپ اس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے نقل کرتے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! بلکہ میں اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے نقل کرتا ہوں ، میں نے دریافت کیا : آپ کو یہ حدیث کس نے بیان کی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : عاصم بن عمرو بجلی نے ، سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث مجھے بیان کی ہے ، قتادہ نے ، سعید بن مسیب کے حوالے سے یہ حدیث مجھے بیان کی ہے ، اور ابراہیم نخعی نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت کا ایک گروہ کھانے پینے اور لہو و لعب کے عالم میں رات گزاریں گے ، پھر وہ صبح خنزیر اور بندر بن چکے ہوں گے ، اور پھر کسی قبیلے پر ہوا بھیجی جائے گی ، جو انہیں یوں برباد کر دے گی ، جس طرح اس نے ان سے پہلے کے لوگوں کو برباد کر دیا تھا ، اس کی وجہ یہ ہو گی کہ وہ لوگ شراب کو حلال قرار دیں گے ، آلات موسیقی استعمال کریں گے ، اور گانے والی عورتیں رکھیں گے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے فرقد نامی راوی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8214
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7997) اخرجه احمد فى المسند (259/5)»
حدیث نمبر: 8215
وَعَنْ فَرَقَدٍ السَّبِخِيِّ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو مُنِيبٍ الشَّامِيُّ عَنِ أَبِي عَطَاءٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ : حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَحَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ ، عَنِ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَوْ حُدِّثْتُ عَنْهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لِيَبِيتَنَّ أُنَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى شَرٍّ ، وَبَطَرٍ ، وَلَعِبٍ ، وَلَهْوٍ ، فَيُصْبِحُوا قِرَدَةً وَخَنَازِيرَ بِاسْتِحْلَالِهِمُ الْمَحَارِمَ وَاتِّخَاذِهِمُ الْقَيْنَاتِ ، وَشُرْبِهِمُ الْخَمْرَ ، وَبِأَكْلِهِمُ الرِّبَا ، وَلُبْسِهِمُ الْحَرِيرَ " . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ . وَفَرْقَدٌ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
فرقد سبخی بیان کرتے ہیں : ابومنیب شامی نے ابوعطاء بن سائب بن صامت کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے ، جبکہ شہر بن حوشب نے سیدنا عبدالرحمن بن غنم رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے ، اور عاصم بن عمرو بجلی نے سیدنا ابوامامہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے ، سعید بن مسیب نے مجھے حدیث بیان کی ہے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) ان کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مجھے یہ حدیث بیان کی گئی ہے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے ، میری امت کے کچھ لوگ برائی ، تکبر اور لہو و لعب کے عالم میں رات بسر کریں گے ، اور صبح وہ بندر اور خنزیر بن چکے ہوں گے ، کیونکہ وہ لوگ حرام چیزوں کو حلال قرار دیں گے ، اور انہوں نے گانے والی عورتیں رکھی ہوئی ہوں گی ، اور وہ شراب پیتے ہوں گے ، اور سود کھاتے ہوں گے ، اور ریشم پہنتے ہوں گے “ ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور فرقہ نامی راوی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8215
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (329/5)»
حدیث نمبر: 8216
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَيَسْتَحِلَنَّ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ بِاسْمٍ يُسَمُّونَهَا[ إِيَّاهُ ] " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " لَيَشْرَبَنَّ " مَكَانَ " لِيَسْتَحِلَّنَّ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ثَابِتُ بْنُ السِّمْطِ ، وَهُوَ مَسْتُورٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت کا ایک گروہ شراب کو ضرور حلال قرار دے گا ، وہ اس کا نام تبدیل کر دیں گے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے لفظ ” وہ ضرور حلال قرار دیں گے “ کی جگہ ” وہ ضرور پییں گے “ ۔ کا لفظ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ثابت بن سمط ہے ، اور وہ مستور ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8216
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (318/5)»